آج کا دن
اسپیشل فیچر
پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بنا
30 ستمبر 1947ء پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم دن ہے۔ پاکستان کے قیام کے صرف چند ہفتوں بعد اسی روز اسے اقوام متحدہ کی باقاعدہ رکنیت حاصل ہوئی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی رکنیت منظور کی اور یوں نئی ریاست نے عالمی سفارتی نظام میں اپنا باضابطہ مقام حاصل کرلیا۔ پاکستان کی جانب سے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں نے اقوام متحدہ میں ملک کی نمائندگی کی۔ رکنیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان کو جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ کے دوسرے اداروں میں بین الاقوامی مسائل پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملا۔
برلن ایئر لفٹ کا اختتام
30 ستمبر 1949ء کو برلن ایئر لفٹ باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہوئی۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہونے والی سرد جنگ کے ابتدائی دور کی سب سے بڑی انسانی اور لاجسٹک کارروائیوں میں سے ایک تھی۔ جنگ کے بعد جرمنی اور برلن اتحادی طاقتوں کے مختلف انتظامی علاقوں میں تقسیم تھے۔ 1948 ء میں سوویت یونین نے مغربی برلن کی طرف جانے والے زمینی اور آبی راستوں کو بند کردیا جس سے مغربی برلن کے تقریباً بیس لاکھ باشندوں کو خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی شدید ضرورت پیش آئی۔ امریکہ، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں نے ہزاروں پروازوں کے ذریعے خوراک، کوئلہ، ادویات اور دیگر ضروری سامان مغربی برلن پہنچایا گیا۔ یہ آپریشن تقریباً 15 ماہ تک جاری رہا۔
پہلی جوہری آبدوز
30 ستمبر 1954ء کو امریکی بحریہ کی یو ایس ایس ناٹیلس کو باقاعدہ طور پر بحریہ میں شامل کیا گیا۔ یہ دنیا کی پہلی جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز تھی۔ اس کی تیاری امریکی بحریہ اور جوہری انجینئرنگ کے ماہرین کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ تھی۔ اس آبدوز کی کامیابی نے دنیا کی بحری حکمت عملی کو تبدیل کردیا اور بعد میں امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک نے جوہری آبدوزیں تیار کیں۔ جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں بعد میں طویل فاصلے تک خفیہ سفر، جوہری ہتھیاروں کی ترسیل اور سمندری نگرانی کے لیے انتہائی اہم بن گئیں۔
فلنسٹونز نشر ہوا
30 ستمبر 1960ء کو مشہور امریکی ٹیلی ویژن سیریز فلنسٹونز(The Flintstones) پہلی مرتبہ نشر ہوئی۔ اس پروگرام کی کہانی ماقبل تاریخ کے ایک خیالی معاشرے میں رہنے والے فلنسٹون خاندان اور ان کے پڑوسیوں کے گرد گھومتی تھی۔ پروگرام کی انفرادیت یہ تھی کہ اگرچہ اس کا ماحول پتھر کے زمانے جیسا تھا لیکن کرداروں کی روزمرہ زندگی جدید امریکی متوسط طبقے سے مشابہ تھی۔بعد میں اس کے کردار امریکی مقبول ثقافت کا حصہ بن گئے۔ کئی دہائیوں تک اس کے خصوصی پروگرام، فلمیں، کھلونے اور دیگر مصنوعات سامنے آتی رہیں۔
بوٹسوانا آزاد ہوا
30 ستمبر 1966ء کو بوٹسوانا نے برطانوی نوآبادیاتی انتظام سے آزادی حاصل کی۔ آزادی سے پہلے یہ علاقہ بیچوانالینڈ پروٹیکٹوریٹ کے نام سے برطانوی انتظام کے تحت تھا۔ آزادی کے دن ملک کا نام جمہوریہ بوٹسوانا رکھا گیا اور سیرتسے خاما ملک کے پہلے صدر بنے۔ آزادی کے وقت ملک کی معیشت محدود تھی اور بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور انتظامی اداروں کے حوالے سے کئی مشکلات موجود تھیں۔ بعد کے برسوں میں ملک میں ہیروں کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے، جنہوں نے اس کی معیشت کو نمایاں طور پر تبدیل کردیا۔