عمر چھوٹی، کارنامہ بڑا
اسپیشل فیچر
ڈائنوسارز کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا
ننھے ذہین نے علم کے زور پر عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
بچوں کی غیر معمولی ذہانت اور سیکھنے کی صلاحیت اکثر دنیا کو حیران کر دیتی ہے۔ کم عمری میں اگر کسی بچے کو مناسب رہنمائی، حوصلہ افزائی اور اپنی دلچسپی کے شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر آ جائیں تو وہ ایسے کارنامے انجام دے سکتا ہے جو بڑے بڑے ماہرین کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا دیں۔ گزشتہ دنوں ایک کمسن بچے نے ڈائنوسارز کے بارے میں اپنی حیرت انگیز معلومات اور غیر معمولی یادداشت کی بدولت عالمی ریکارڈ قائم کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف اس کی ذہانت کو اجاگر کیا بلکہ اس حقیقت کو بھی نمایاں کیا کہ بچوں کی فطری صلاحیتوں کو بروقت پہچان کر ان کی درست سمت میں رہنمائی کی جائے تو وہ عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
کیا آپ ٹائرانوسورس ریکس (Tyrannosaurus rex) اور ٹرائیسیراٹوپس (Triceratops) میں فرق بتا سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو یہ پیارا سا ننھا ریکارڈ ہولڈر ضرور بتا سکتا ہے۔ اویکت سنگھ صرف پانچ سال کا ہے، مگر اس نے ایک منٹ میں 46 مختلف ڈائنوسارز کی درست شناخت کر کے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ اس سے پہلے ایک منٹ میں 41 ڈائنوسارز کی شناخت کا ریکارڈ موجود تھا، جسے اویکت نے بآسانی توڑ دیا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا اسے ہمیشہ سے ڈائنوسارز پسند تھے، تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: جی ہاں، بالکل! مجھے ڈائنوسارز بہت دلچسپ لگتے ہیں، کیونکہ ہر نسل ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، لیکن ان میں کچھ مشترکہ خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ میرے پاس ڈائنوسارز پر بہت سی کتابیں اور ان کے کھلونے ہیں، جنہیں میں شوق سے دیکھتا اور ان کے ساتھ کھیلتا ہوں۔
اویکت نے بتایا کہ میرے پلے سکول میں ایک فینسی ڈریس مقابلہ ہوا تھا، جس کیلے میری والدہ نے میرے لیے ٹائرانوسورس ریکس کا لباس تیار کیا تھا۔ میں نے اس مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ میں نے ٹی ریکس کی طرح زور سے دھاڑا تھا اور سب نے اسے بہت پسند کیا۔ کبھی کبھی میں تصور کرتا ہوں کہ اگر ڈائنوسار آج بھی زندہ ہوتے تو کتنا حیرت انگیز ہوتا، کیونکہ میں انہیں حقیقت میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا بہت پسند کرتا۔
اویکت نے کہا کہ مجھے یہ بات بہت پسند ہے کہ ہر ڈائنوسار دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور اس کی اپنی منفرد صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ وہ بہت بہادر اور نڈر محسوس ہوتے ہیں، جیسے وہ ہر کام کر سکتے ہوں۔ یہی بات انہیں میرے لیے جاننے اور سیکھنے کے لحاظ سے بہت دلچسپ بناتی ہے۔ اور سب سے اچھی بات یہ ہوتی ہے جب میری والدہ مجھے مختلف ڈائنوسارز کے بارے میں دلچسپ حقائق بتاتی ہیں۔ اس نے مزید کہا کہ کچھ ڈائنوسار اتنے بڑے ہوتے تھے کہ ان کی لمبائی ایک قطار میں کھڑی تین بسوں کے برابر ہوتی تھی اور ان کا وزن تقریباً 30 بالغ ہاتھیوں جتنا ہوتا تھا۔ کچھ ڈائنوسار اپنے انڈوں کی حفاظت کیلئے پرندوں کی طرح گھونسلے بناتے تھے۔ بعض کی آنکھیں بہت بڑی اور انتہائی تیز ہوتی تھیں، جس کی بدولت وہ رات کے وقت بھی اپنے اردگرد کی ہر چیز کو دیکھ سکتے تھے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر ڈائنوسار کے پاس کوئی نہ کوئی خاص سپر پاور ہوتی تھی۔ یہی دلچسپ حقائق سن کر مجھے ڈائنوسارز اور بھی زیادہ حیرت انگیز اور جادوئی محسوس ہوتے ہیں۔
اویکت اس وقت کنڈرگارٹن کا طالب علم ہے اور بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر نوئیڈا میں اپنے والدین اور دادا دادی کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کی والدہ ندھی شرما نے اسے گنیز ورلڈ ریکارڈز کا اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کرنے کی ترغیب دی، جس کے نتیجے میں اس نے یہ منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔اگرچہ جراسک پارک فلموں میں ڈائنوسارز سے سامنا عموماً خوشگوار انجام تک نہیں پہنچتا، لیکن زیادہ تر لوگ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ حقیقی زندگی میں کسی ڈائنوسار کو دیکھنا یقیناً ایک منفرد اور دلچسپ تجربہ ہوتا۔اویکت نے مزید کہا کہ مجھے ڈائنوسارز کی طاقت اور مضبوطی بہت پسند ہے۔ کچھ دیوقامت ہوتے ہیں، کچھ انتہائی تیز رفتار ہوتے ہیں، جبکہ بعض کے تیز دانت اور نوکیلے پنجے انہیں اپنا دفاع کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ کچھ ڈائنوسارز میں منفرد خصوصیات بھی ہوتی ہیں، مثلاً بعض کی دم ہتھوڑے کی شکل کی ہوتی ہے، جسے وہ اپنے دفاع کیلئے استعمال کرتے تھے۔
اویکت نے کہا کہ میں نے سنا تھا کہ گنیز ورلڈ ریکارڈز پوری دنیا میں مشہور ہے اور یہ اعلیٰ ترین کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہ میرے لیے بہت خاص اور حوصلہ افزا تھا۔سب سے پہلے میری والدہ نے مجھے گنیز ورلڈ ریکارڈز کے بارے میں بتایا اور سمجھایا کہ یہ کتنی بڑی اور باوقار کامیابی ہے، جسے دنیا بھر میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ یہ جان کر میرے اندر بے حد جوش اور حوصلہ پیدا ہوا کہ میں بھی اس کا حصہ بننے کی کوشش کروں۔ میری والدہ بہت چاہتی تھیں کہ میں اس ریکارڈ کیلئے کوشش کروں اور انہوں نے پورے سفر کے دوران قدم قدم پر میری رہنمائی کی، جس سے مجھے اعتماد کے ساتھ اپنی تیاری کرنے اور اپنے مقصد کے حصول کی جانب بڑھنے میں بہت مدد ملی۔
یہ واقعہ والدین اور اساتذہ کیلئے بھی ایک اہم پیغام ہے کہ بچوں کی دلچسپیوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں فروغ دیا جائے تاکہ وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں منوا سکیں۔