مضبوط عضلات ،صحت مند دل

مضبوط عضلات ،صحت مند دل

اسپیشل فیچر

تحریر : ڈاکٹر سہیل اختر


جسم کے بالائی حصے کے مضبوط اور صحتمند عضلات دل کے دورے کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں
دل کی بیماریاں آج بھی دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شمار ہوتی ہیں، جس کے باعث ماہرین طب مسلسل ایسے عوامل کی تلاش میں مصروف ہیں جو دل کو صحت مند رکھنے اور دل کے دورے کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکیں۔ اب ایک نئی طبی تحقیق نے اس حوالے سے ایک اہم پہلو اجاگر کیا ہے، جس کے مطابق سینے اور کمر کے مضبوط اور صحت مند پٹھے نہ صرف جسمانی توازن اور طاقت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ دل کے دورے کے خطرے کو بھی کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا اور عضلاتی صحت پر توجہ دینا صرف جسمانی فٹنس ہی نہیں بلکہ قلبی صحت کیلئے بھی بے حد ضروری ہے۔
ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جسم کے بالائی حصے، خصوصاً سینے اور کمر کے صحت مند اور معیاری عضلات دل کے دورے اور قبل از وقت موت کے کم خطرے سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ یہ تحقیق طبی جریدے ریڈیالوجی (Radiology) میں شائع ہوئی، جس میں محققین نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے اسکاٹش کمپیوٹڈ ٹوموگرافی آف دی ہارٹ ٹرائل میں شریک ایک ہزار 722 مریضوں کے سی ٹی اسکینز کا تجزیہ کیا۔ان مریضوں کی اوسط عمر 58 سال تھی اور انہوں نے 2010ء سینے میں درد کی شکایت کے باعث سی ٹی اسکین کروائے تھے۔ بعدازاں یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے محققین نے ان مریضوں کی دس سال تک نگرانی کی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان میں سے کتنے افراد کو دل کا دورہ پڑا یا ان کی وفات ہوئی۔ اس عرصے کے دوران 133 مریض انتقال کر گئے، جبکہ 106 افراد کو مہلک یا غیر مہلک دل کا دورہ پیش آیا۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ جن افراد کے عضلات کا معیار بہتر تھا، جسے سی ٹی اسکین میں اسکیلیٹل مسل اٹینیوایشن (skeletal muscle attenuation) کے ذریعے جانچا گیا، ان میں دل کے دورے اور موت کا خطرہ نمایاں طور پر کم تھا۔ اس پیمائش میں کم ریڈنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عضلات کے اندر چربی کی مقدار زیادہ ہے، جو عضلات کے کمزور معیار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
ان سی ٹی اسکینز، جنہیں ''کورونری کمپیوٹڈ ٹوموگرافی انجیوگرام‘‘ (CCTA) کہا جاتا ہے، میں بنیادی طور پر کمر کے عضلات، سینے کے پٹھوں (پیکٹورل یا پیکس) اور پسلیوں کے درمیان موجود بین الضلعی عضلات (intercostal muscles) کا جائزہ لیا گیا۔برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے چیف سائنٹیفک اینڈ میڈیکل آفیسر، پروفیسر برائن ولیمز نے کہا کہ غالب امکان یہی ہے کہ اس تحقیق میں جن افراد کے عضلات زیادہ مضبوط اور گھنے تھے، وہ جسمانی طور پر زیادہ متحرک تھے، جس کے نتیجے میں ان کے دل کی صحت بھی بہتر تھی۔ یہ نتائج ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں کہ باقاعدہ ورزش انسانی صحت، خصوصاً دل کی صحت کیلئے بے حد مؤثر ذریعہ ہے۔
یہ تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ جب بھی ہم جسم کو حرکت دیتے ہیں، ہم اپنے پٹھوں، خون کی شریانوں اور مجموعی صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں، اور باقاعدہ ورزش دل اور خون کی شریانوں کی بیماریوں کے خطرے کو ایک تہائی تک کم کر سکتی ہے۔
برطانیہ میں ہر سال تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار افراد کا سی سی ٹی اے (CCTA) اسکین کیا جاتا ہے۔ یہ اسکین دل کو خون فراہم کرنے والی کورونری شریانوں میں تنگی یا رکاوٹ کا پتہ لگانے کیلئے کیا جاتا ہے، کیونکہ ایسی رکاوٹیں دل کے دورے کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کے نتائج کا مطلب صرف یہ نہیں کہ زیادہ بڑے یا طاقتور پٹھے ہونا ہی فائدہ مند ہے۔ درحقیقت، پٹھوں کے حجم (سائز) اور دل کے دورے یا موت کے خطرے کے درمیان کوئی واضح تعلق سامنے نہیں آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پٹھوں کی ساخت اور معیار، محض ان کے بڑے ہونے سے کہیں زیادہ اہم ہو سکتے ہیں۔ بہتر معیار کے سینے اور کمر کے پٹھے غالباً پورے جسم کے پٹھوں کی اچھی صحت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی بھی علامت ہو سکتے ہیں کہ متعلقہ افراد جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہیں اور ان کے دھڑ کے پٹھے زیادہ مضبوط ہیں۔
تحقیق میں شامل افراد کو اسکین تصاویر میں پٹھوں کی روشنی (Brightness) کی بنیاد پر مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ زیادہ روشن تصاویر اس بات کی نشاندہی کرتی تھیں کہ پٹھے زیادہ گھنے اور صحت مند ہیں۔ نتائج کے مطابق، اسکین کی روشنی میں ہر 10 پوائنٹس اضافے کے ساتھ کسی شخص میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ 31 فیصد کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح، اسکین کے بعد اگلے 10 سال کے دوران موت کا خطرہ بھی 39 فیصد کم پایا گیا۔یہ نتائج اس وقت بھی برقرار رہے جب محققین نے دیگر عوامل، مثلاً عمر، جنس اور دل کی شریانوں میں کیلشیم کے جمع ہونے کی مقدار کو بھی مدنظر رکھا، جو دل کے دورے اور موت کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔دوسری جانب، محققین نے لوگوں کے دھڑ اور جگر میں موجود چربی کا بھی جائزہ لیا، لیکن یہ دل کے دورے کے خطرے سے نمایاں طور پر منسلک نہیں پائی گئی۔
اس تحقیق کی سینئر مصنفہ پروفیسر مشعل ولیمز کے مطابق یہ بات نہایت دلچسپ ہے کہ کسی شخص کے پٹھوں کا معیار اس کے دل کا دورہ پڑنے کے خطرے سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ اسی لیے اب میری ذاتی دلچسپی سائیکلنگ، پلینک (Planks) اور پیلاٹس (Pilates) جیسی ورزشوں میں بڑھ گئی ہے، جن سے مجھے لطف بھی آتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ ان پٹھوں پر مثبت اثر ڈالیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ سمجھنے کیلئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ ورزش پٹھوں کی کثافت پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے اور اس کا دل کی صحت سے کیا تعلق ہے۔
تحقیق میں استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت نے پٹھوں کے معیار کا جائزہ لینے کے عمل کو بھی نمایاں طور پر تیز کر دیا۔ جو کام ایک ماہر ریڈیالوجسٹ کو کئی گھنٹے لگ سکتے تھے، وہ اے آئی نے صرف چند منٹوں میں مکمل کر دیا۔تحقیق سے یہ امکان بھی سامنے آیا ہے کہ مستقبل میں معمول کے دل کے اسکین ہی کسی شخص کے دل کے دورے کے خطرے کی پیش گوئی کیلئے استعمال کیے جا سکیں گے۔ اس سے بروقت علاج شروع کرنا اور طرزِ زندگی میں ایسی تبدیلیاں تجویز کرنا ممکن ہو سکے گا جو جان بچانے میں مددگار ثابت ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 خلائی مخلوق کہاں ہے؟

خلائی مخلوق کہاں ہے؟

فرمی پیراڈوکس نے نئی بحث چھیڑ دیاربوں ستاروں اور سیاروں کے باوجود خلائی مخلوق کی خاموشی سائنس کی سب سے بڑی پہیلی بنی ہوئی ہے؟کائنات اپنی وسعت، پراسراریت اور لاتعداد کہکشاؤں کے باعث صدیوں سے انسان کیلئے حیرت کا باعث رہی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق صرف ہماری کہکشاں، ملکی وے، میں ہی تقریباً 200 سے 400 ارب ستارے اور کم از کم 100 ارب سیارے موجود ہیں۔ ان میں سے بے شمار سیارے ایسے بھی ہو سکتے ہیں جہاں زندگی کیلئے موزوں حالات پائے جاتے ہوں۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ اگر کائنات میں زندگی کے امکانات اتنے زیادہ ہیں تو پھر اب تک کسی بھی ذہین خلائی مخلوق کا کوئی واضح ثبوت کیوں نہیں ملا؟ یہی سوال ''فرمی پیراڈوکس‘‘ کہلاتا ہے، جو آج بھی جدید فلکیات اور خلائی سائنس کے سب سے دلچسپ معمّوں میں شمار ہوتا ہے۔اس نظریے کا آغاز اطالوی نژاد امریکی ماہرِ طبیعیات اینریکو فرمی نے 1950ء میں کیا۔ انہوں نے اپنے ساتھی سائنس دانوں سے سادہ الفاظ میں سوال کیا: ''وہ سب کہاں ہیں؟‘‘ یعنی اگر کائنات میں ذہین تہذیبیں موجود ہیں تو ان کے ریڈیو سگنلز، خلائی جہازوں یا کسی قسم کی ٹیکنالوجی کے آثار اب تک ہمیں کیوں دکھائی نہیں دیے؟فرمی کا خیال تھا کہ اگر کوئی تہذیب سائنسی اور تکنیکی اعتبار سے ترقی کر لے تو وہ نسبتاً کم عرصے میں اپنی کہکشاں کے مختلف حصوں تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کر سکتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج تک انسان کو نہ کسی خلائی تہذیب کا قابلِ اعتماد پیغام ملا ہے اور نہ ہی ان کے وجود کا کوئی ناقابلِ تردید ثبوت۔اس معمّے کی وضاحت کیلئے سائنسدانوں نے مختلف نظریات پیش کیے ہیں۔ ان میں سب سے معروف نظریہ ''گریٹ فلٹر‘‘ ہے۔ اس کے مطابق کائنات میں کوئی نہ کوئی ایسی رکاوٹ ضرور موجود ہے جو ذہین تہذیبوں کو اتنی ترقی کرنے سے پہلے ہی ختم کر دیتی ہے کہ وہ دوسری دنیاؤں تک پہنچ سکیں۔ یہ رکاوٹ زندگی کے ابتدائی ارتقا میں بھی ہو سکتی ہے یا پھر ترقی یافتہ تہذیبوں کے مستقبل میں بھی۔برطانوی ماہرِ طبیعیات پروفیسر برائن کاکس کے مطابق ممکن ہے کہ سائنس اور انجینئرنگ کی تیز رفتار ترقی بالآخر کسی تہذیب کی تباہی کا سبب بن جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی طاقت شاید سیاسی بصیرت، عالمی تعاون اور ذمہ دارانہ قیادت سے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں جنگ، ماحولیاتی تباہی یا دیگر عالمی بحران جنم لیتے ہیں اور تہذیب خود اپنی بقا کیلئے خطرہ بن جاتی ہے۔کچھ سائنسدان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خلائی مخلوق یقیناً موجود ہے، لیکن یا تو ان کے پاس زمین سے رابطہ کرنے کی مناسب ٹیکنالوجی نہیں یا پھر کائنات کے بے پناہ فاصلے رابطے کو تقریباً ناممکن بنا دیتے ہیں۔ اگر دو تہذیبوں کے درمیان ہزاروں نوری سال کا فاصلہ ہو تو ممکن ہے کہ ایک تہذیب رابطہ قائم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے۔ایک اور دلچسپ تصور ''زو مفروضہ‘‘ (Zoo Hypothesis) ہے۔ اس نظریے کے مطابق ترقی یافتہ خلائی تہذیبیں جان بوجھ کر زمین سے رابطہ نہیں کرتیں، کیونکہ وہ انسانیت کو قدرتی انداز میں ارتقا کرنے کا موقع دینا چاہتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انسان جنگلی حیات کے محفوظ علاقوں میں جانوروں کے قدرتی ماحول میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرتے ہیں۔اگرچہ فرمی پیراڈوکس کا اب تک کوئی حتمی جواب سامنے نہیں آیا، لیکن اس نے سائنسدانوں کو کائنات، زندگی کے آغاز اور انسان کے مستقبل کے بارے میں نئے زاویوں سے سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ ممکن ہے آنے والے برسوں میں جدید دوربینیں، خلائی مشنز اور نئی سائنسی دریافتیں اس دیرینہ راز سے پردہ اٹھا دیں۔ تب تک فرمی پیراڈوکس انسان کے اس قدیم سوال کی علامت ہے کہ کیا ہم واقعی اس وسیع و عریض کائنات میں تنہا ہیں، یا کہیں نہ کہیں کوئی اور بھی ہماری تلاش میں ہے؟خلائی مخلوق موجود، مگر ہماری تلاش کا رخ غلط ہے:سائنسدانخلائی مخلوق کی تلاش کیلئے سائنسدانوں کا ایک عام طریقہ یہ ہے کہ وہ دیوہیکل ریڈیو دوربینوں کے ذریعے آسمان کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ ''ٹیکنو سگنیچر‘‘ مثلاً طاقتور برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹک) سگنلزکا سراغ لگایا جا سکے۔ تاہم برطانیہ کی یونیورسٹی آف مانچسٹر کے ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اب تک ہماری تلاش کا رخ ہی غلط رہا ہے۔ ہمیں خلائی مخلوق اس لیے نہیں مل رہی کیونکہ ہم غلط ریڈیو فریکوئنسی یا غلط ریڈیو چینل پر تلاش کر رہے ہیں۔ تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر لوئیزا میسن کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں سے ''سیٹی‘‘ (SETI) پروگرام کے تحت خلائی مخلوق کی تلاش ریڈیو اسپیکٹرم کے صرف ایک نسبتاً محدود حصے پر مرکوز رہی ہے۔ ماضی میں ہونے والے تقریباً تمام ریڈیو سروے زیادہ تر 1.42 سے 1.66 گیگا ہرٹز کے درمیان موجود ریڈیو فریکوئنسیوں تک ہی محدود رہے ہیں۔ڈاکٹر لوئیزا میسن کا کہنا ہے کہ خلائی مخلوق کی تلاش کو زیادہ مؤثر بنانے کیلئے سائنسدانوں کوتلاش کے دائرہ کار کو ایک نئے پیرامیٹر اسپیس تک وسعت دینی چاہیے۔ محققین کو نسبتاً زیادہ بلند ریڈیو فریکوئنسیوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے، جہاں اب تک ہماری توجہ نہیں گئی۔

آج کا دن

آج کا دن

شمسی طیارے کا عالمی ریکارڈ26جولائی 2016ء کو شمسی توانائی سے چلنے والے طیارے سولر امپلس 2 نے دنیا کا چکر مکمل کر کے تاریخ رقم کر دی۔ یہ دنیا کا پہلا طیارہ تھا جس نے صرف سورج کی توانائی کی مدد سے کرہ ارض کا مکمل فضائی سفر کیا۔ اس تاریخی مشن کا مقصد قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت کو اجاگر کرنا اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دینا تھا۔ اس کامیابی نے ثابت کیا کہ جدید سائنس اور صاف توانائی کے ذریعے مستقبل میں فضائی سفر کو زیادہ پائیدار اور ماحول کیلئے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔خواتین کا پہلا کرکٹ میچ26جولائی 1745ء کوخواتین کے درمیان تاریخ کا پہلا کرکٹ میچ کھیلا گیا۔ یہ مقابلہ براملی اور ہیمبلڈن کی خواتین کے درمیان کروایا گیا۔سبھی کھلاڑی سفید لباس میں ملبوس تھیں، براملی کی کھلاڑیوں کے سر پر نیلے اور ہیمبلڈن کی کھلاڑیوں کے سر پر سرخ ربن باندھے گئے تھے۔براملی کی لڑکیوں نے119، ہیمبلڈ ن کی لڑکیوں نے127سکو ر کئے۔دونوں ٹیموں کی جانب سے ہر شعبہ میں شاندار کارکردگی دکھائی گئی۔ ایکسپلورر4 26 جولائی 1958 ء کو ایکسپلورر پروگرام کے تحت ایکسپلورر 4 سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیجا گیا۔ یہ امریکی خلائی پروگرام کا ایک اہم مشن تھا، جس کا بنیادی مقصد زمین کے گرد موجود تابکاری پٹیوں کا مزید تفصیلی مطالعہ کرنا تھا۔ اس سیٹلائٹ نے خلائی ماحول، کائناتی شعاعوں اور تابکاری سے متعلق قیمتی سائنسی معلومات فراہم کیں۔ ایکسپلورر 4 کی کامیابی نے امریکی خلائی تحقیق کو نئی سمت دی اور مستقبل کے خلائی مشنز کی منصوبہ بندی اور سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔فضائی حادثہ 1993ء میں آج کے روز ایشیانا ایئرلائنز کی پرواز 733 جنوبی کوریا کے شہر موکپو کے ہوائی اڈے پر لینڈنگ کی تیسری کوشش کے دوران ماؤنٹ اُنگیو کی ایک پہاڑی چوٹی سے ٹکرا کر تباہ ہو گئی۔ حادثے کے وقت طیارے میں عملے سمیت 116 افراد سوار تھے، جن میں سے 68 افراد ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ یہ جنوبی کوریا کی فضائی تاریخ کے المناک حادثات میں شمار ہوتا ہے۔اسکوپیے کا المناک زلزلہ26جولائی1963ء کو یوگوسلاویہ کے شہر اسکوپیے (موجودہ شمالی مقدونیہ) میں آنے والے شدید زلزلے نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں 1,100 سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی اور بے گھر ہو گئے۔ زلزلے نے شہر کی بڑی تعداد میں عمارتوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا۔ اس سانحے کے بعد دنیا بھر کے کئی ممالک نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔جاپان کی اقتصادی کامیابی1963ء میں آج کے روز اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم نے جاپان کورکنیت دینے کے حق میں ووٹ دیا، جو اس کی عالمی اقتصادی حیثیت کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس فیصلے نے دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کی تیز رفتار معاشی بحالی اور صنعتی ترقی کا بین الاقوامی اعتراف کیا۔ بعد ازاں جاپان تنظیم کا باضابطہ رکن بن گیا، جس سے عالمی اقتصادی تعاون، تجارتی روابط اور ترقیاتی پالیسیوں میں اس کا کردار مزید مضبوط اور مؤثر ہو گیا۔

ہیومنائیڈ روبوٹس کی فائٹ

ہیومنائیڈ روبوٹس کی فائٹ

سر ''کٹ‘‘ گیا ،مگر مشینی فائٹر ہار ماننے کو تیار نہ تھاکبھی یہ منظر صرف سائنس فکشن فلموں اور ناولوں کا حصہ سمجھا جاتا تھا کہ مشینی انسان ایک دوسرے کے آمنے سامنے پنجہ آزمائی کریں گے، مگر مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس میں حیرت انگیز ترقی نے اس تصور کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ حال ہی میں منعقد ہونے والے ایک ہیومنائیڈ روبوٹ کیج فائٹ مقابلے نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب اس وقت مبذول کر لی جب ایک روبوٹ کا سر لڑائی کے دوران دھڑ سے الگ ہو گیا، لیکن اس کے باوجود وہ لڑتا رہا۔ اس غیرمعمولی منظر نے نہ صرف شائقین کو حیران کر دیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ جدید روبوٹکس اس مقام تک پہنچ چکی ہے جہاں مشینیں شدید نقصان کے باوجود اپنے پروگرام کے مطابق کارروائی جاری رکھ سکتی ہیں۔ کمپیوٹر پروگرامرز سے لے کر وکلا تک، مصنوعی ذہانت (AI) پہلے ہی کئی پیشوں کیلئے ایک سنجیدہ چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ کیج فائٹرز بھی روبوٹس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں سے محفوظ نہیں رہے۔ چین سے سامنے آنے والی حیران کن ویڈیو میں دو ہیومنائیڈ روبوٹس کو مکسڈ مارشل آرٹس (MMA) کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں آمنے سامنے لڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مقابلہ گزشتہ ہفتے شین ژین میں منعقد ہوا، جہاں سیکڑوں تماشائیوں کی موجودگی میں دونوں روبوٹس نے ایک پنجرہ نما رنگ میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا۔ مقابلے کے دوران ایک انتہائی حیران کن لمحہ اس وقت آیا جب ایک روبوٹ کا سر زور دار لات لگنے سے مکمل طور پر دھڑ سے الگ ہو گیا، مگر اس کے باوجود وہ اپنے پروگرام کے مطابق لڑائی جاری رکھے رہا۔اس ویڈیو پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے۔ ایک صارف نے 2011ء کی مشہور فلم ''ریئل اسٹیل‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ''آخرکار حقیقی ریئل اسٹیل دیکھنے کو مل گئی‘‘۔ ایک اور صارف نے خبردار کرتے ہوئے لکھا''ہم زمین پر آنے والی اگلی ذہین مخلوق کو ہمیں شکست دینے کی تربیت دے رہے ہیں، کتنی معنی خیز بات ہے‘‘۔دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ ایلون مسک بھی اس بحث میں شامل ہوئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اس مقابلے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں لکھا، ''روبوٹس کی لڑائیاں واقعی دلچسپ ہوتی ہیں‘‘۔یہ مقابلہ شین ژین کے نان شان کلچرل اسپورٹس سینٹر میں منعقد ہونے والے '' الٹی میٹ روبوٹ ناک آؤٹ لیجنڈ‘‘ (URKL) ایونٹ کے تحت منعقد کیا گیا۔ اس مقابلے کو ''یو ایف سی‘‘ (UFC) کا روبوٹ ورژن قرار دیا جا رہا ہے، جس میں 20 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والی 32 ٹیموں نے حصہ لیا۔یہ 32 ٹیمیں ابتدائی مرحلے میں شریک 200 ٹیموں میں سے منتخب کی گئی ہیں، جن میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ہانگ کانگ اور ژی جیانگ یونیورسٹی جیسے معروف تعلیمی اداروں کی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔مقابلے کے منتظم ادارے ''انجن اے آئی‘‘ (EngineAI )کے مطابق، ٹورنامنٹ کو کوالیفائنگ مرحلہ، گروپ مرحلہ اور ڈبل ایلی مینیشن فائنل پر مشتمل جامع نظام کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مقابلے کا مقصد ٹیموں کی سمولیشن الگورتھمز، عملی ہارڈویئر کی تنصیب اور خودمختار ہیومنائیڈ روبوٹس کی جنگی صلاحیتوں کا ہر پہلو سے جائزہ لینا ہے۔ تمام ٹیمیں انجن اے آئی کے تیار کردہ ''T800‘‘ نامی مکمل قد کے ہیومنائیڈ روبوٹ استعمال کر رہی ہیں، جس کی قیمت 85 ہزار امریکی ڈالر تک ہے۔اب تک کئی دلچسپ مقابلے منعقد ہو چکے ہیں، تاہم سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ توجہ ٹیم بل فائٹر اور وائٹ ایگل کے درمیان ہونے والی سنسنی خیز فائٹ نے حاصل کی ہے۔خصوصی طور پر تیار کیے گئے چھ کونوں والے پنجرے میں داخل ہونے کے کچھ ہی لمحوں بعد وائٹ ایگل روبوٹ نے اپنے حریف کے سر پر زبردست لات ماری، جس سے بل فائٹر روبوٹ کا سر مکمل طور پر دھڑ سے الگ ہو گیا۔حیران کن طور پر بل فائٹر روبوٹ نے سر کے بغیر بھی لڑائی جاری رکھی اور بالآخر 3-2 سے کامیابی حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔روبوٹس کی اس غیرمعمولی کارکردگی نے شائقین کو بے حد متاثر کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا، ''میں وہ کوڈ ضرور دیکھنا چاہوں گا جو اس صورتحال سے نمٹتا ہے جب اچانک روبوٹ کا سر ہی غائب ہو جائے‘‘۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ''ذرا تصور کریں کہ مستقبل میں ایک بہت بڑا گنبد ہو، جہاں مختلف کمپنیوں کے تیار کردہ روبوٹس ایک عظیم ''بیٹل رائل‘‘ طرز کے میدان میں آمنے سامنے ہوں۔ ان روبوٹس کے پاس شعلے برسانے والے ہتھیار، مشین گنز اور دیگر جدید اسلحہ ہو۔ ایسا مقابلہ دیکھنے کیلئے میں ضرور ٹکٹ خریدوں گا‘‘۔ایک اور صارف نے مذاق کرتے ہوئے لکھا: ''مزے کی بات یہ ہے کہ روبوٹ سر الگ ہونے کے باوجود لڑتا رہا، جیسے وہ کہہ رہا ہو،یہ تو معمولی سی خراش ہے‘‘۔تاہم اس حیرت انگیز مقابلے نے کچھ لوگوں کو تشویش میں بھی مبتلا کر دیا۔ ان کے مطابق لڑنے والے ایسے جدید روبوٹس مستقبل کی ایک ایسی جھلک ہو سکتے ہیں جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ایک صارف نے اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا: ''میرے خیال میں یہ اچھا خیال نہیں، بہتر ہے کہ روبوٹس کو لڑنا سکھانے کے بجائے کپڑے تہہ کرنا اور برتن دھونا سکھایا جائے‘‘۔

عمر چھوٹی، کارنامہ بڑا

عمر چھوٹی، کارنامہ بڑا

ڈائنوسارز کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیاننھے ذہین نے علم کے زور پر عالمی ریکارڈ قائم کر دیابچوں کی غیر معمولی ذہانت اور سیکھنے کی صلاحیت اکثر دنیا کو حیران کر دیتی ہے۔ کم عمری میں اگر کسی بچے کو مناسب رہنمائی، حوصلہ افزائی اور اپنی دلچسپی کے شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر آ جائیں تو وہ ایسے کارنامے انجام دے سکتا ہے جو بڑے بڑے ماہرین کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا دیں۔ گزشتہ دنوں ایک کمسن بچے نے ڈائنوسارز کے بارے میں اپنی حیرت انگیز معلومات اور غیر معمولی یادداشت کی بدولت عالمی ریکارڈ قائم کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف اس کی ذہانت کو اجاگر کیا بلکہ اس حقیقت کو بھی نمایاں کیا کہ بچوں کی فطری صلاحیتوں کو بروقت پہچان کر ان کی درست سمت میں رہنمائی کی جائے تو وہ عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ کیا آپ ٹائرانوسورس ریکس (Tyrannosaurus rex) اور ٹرائیسیراٹوپس (Triceratops) میں فرق بتا سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو یہ پیارا سا ننھا ریکارڈ ہولڈر ضرور بتا سکتا ہے۔ اویکت سنگھ صرف پانچ سال کا ہے، مگر اس نے ایک منٹ میں 46 مختلف ڈائنوسارز کی درست شناخت کر کے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ اس سے پہلے ایک منٹ میں 41 ڈائنوسارز کی شناخت کا ریکارڈ موجود تھا، جسے اویکت نے بآسانی توڑ دیا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا اسے ہمیشہ سے ڈائنوسارز پسند تھے، تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: جی ہاں، بالکل! مجھے ڈائنوسارز بہت دلچسپ لگتے ہیں، کیونکہ ہر نسل ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، لیکن ان میں کچھ مشترکہ خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ میرے پاس ڈائنوسارز پر بہت سی کتابیں اور ان کے کھلونے ہیں، جنہیں میں شوق سے دیکھتا اور ان کے ساتھ کھیلتا ہوں۔اویکت نے بتایا کہ میرے پلے سکول میں ایک فینسی ڈریس مقابلہ ہوا تھا، جس کیلے میری والدہ نے میرے لیے ٹائرانوسورس ریکس کا لباس تیار کیا تھا۔ میں نے اس مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ میں نے ٹی ریکس کی طرح زور سے دھاڑا تھا اور سب نے اسے بہت پسند کیا۔ کبھی کبھی میں تصور کرتا ہوں کہ اگر ڈائنوسار آج بھی زندہ ہوتے تو کتنا حیرت انگیز ہوتا، کیونکہ میں انہیں حقیقت میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا بہت پسند کرتا۔اویکت نے کہا کہ مجھے یہ بات بہت پسند ہے کہ ہر ڈائنوسار دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور اس کی اپنی منفرد صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ وہ بہت بہادر اور نڈر محسوس ہوتے ہیں، جیسے وہ ہر کام کر سکتے ہوں۔ یہی بات انہیں میرے لیے جاننے اور سیکھنے کے لحاظ سے بہت دلچسپ بناتی ہے۔ اور سب سے اچھی بات یہ ہوتی ہے جب میری والدہ مجھے مختلف ڈائنوسارز کے بارے میں دلچسپ حقائق بتاتی ہیں۔ اس نے مزید کہا کہ کچھ ڈائنوسار اتنے بڑے ہوتے تھے کہ ان کی لمبائی ایک قطار میں کھڑی تین بسوں کے برابر ہوتی تھی اور ان کا وزن تقریباً 30 بالغ ہاتھیوں جتنا ہوتا تھا۔ کچھ ڈائنوسار اپنے انڈوں کی حفاظت کیلئے پرندوں کی طرح گھونسلے بناتے تھے۔ بعض کی آنکھیں بہت بڑی اور انتہائی تیز ہوتی تھیں، جس کی بدولت وہ رات کے وقت بھی اپنے اردگرد کی ہر چیز کو دیکھ سکتے تھے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر ڈائنوسار کے پاس کوئی نہ کوئی خاص سپر پاور ہوتی تھی۔ یہی دلچسپ حقائق سن کر مجھے ڈائنوسارز اور بھی زیادہ حیرت انگیز اور جادوئی محسوس ہوتے ہیں۔اویکت اس وقت کنڈرگارٹن کا طالب علم ہے اور بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر نوئیڈا میں اپنے والدین اور دادا دادی کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کی والدہ ندھی شرما نے اسے گنیز ورلڈ ریکارڈز کا اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کرنے کی ترغیب دی، جس کے نتیجے میں اس نے یہ منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔اگرچہ جراسک پارک فلموں میں ڈائنوسارز سے سامنا عموماً خوشگوار انجام تک نہیں پہنچتا، لیکن زیادہ تر لوگ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ حقیقی زندگی میں کسی ڈائنوسار کو دیکھنا یقیناً ایک منفرد اور دلچسپ تجربہ ہوتا۔اویکت نے مزید کہا کہ مجھے ڈائنوسارز کی طاقت اور مضبوطی بہت پسند ہے۔ کچھ دیوقامت ہوتے ہیں، کچھ انتہائی تیز رفتار ہوتے ہیں، جبکہ بعض کے تیز دانت اور نوکیلے پنجے انہیں اپنا دفاع کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ کچھ ڈائنوسارز میں منفرد خصوصیات بھی ہوتی ہیں، مثلاً بعض کی دم ہتھوڑے کی شکل کی ہوتی ہے، جسے وہ اپنے دفاع کیلئے استعمال کرتے تھے۔اویکت نے کہا کہ میں نے سنا تھا کہ گنیز ورلڈ ریکارڈز پوری دنیا میں مشہور ہے اور یہ اعلیٰ ترین کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہ میرے لیے بہت خاص اور حوصلہ افزا تھا۔سب سے پہلے میری والدہ نے مجھے گنیز ورلڈ ریکارڈز کے بارے میں بتایا اور سمجھایا کہ یہ کتنی بڑی اور باوقار کامیابی ہے، جسے دنیا بھر میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ یہ جان کر میرے اندر بے حد جوش اور حوصلہ پیدا ہوا کہ میں بھی اس کا حصہ بننے کی کوشش کروں۔ میری والدہ بہت چاہتی تھیں کہ میں اس ریکارڈ کیلئے کوشش کروں اور انہوں نے پورے سفر کے دوران قدم قدم پر میری رہنمائی کی، جس سے مجھے اعتماد کے ساتھ اپنی تیاری کرنے اور اپنے مقصد کے حصول کی جانب بڑھنے میں بہت مدد ملی۔یہ واقعہ والدین اور اساتذہ کیلئے بھی ایک اہم پیغام ہے کہ بچوں کی دلچسپیوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں فروغ دیا جائے تاکہ وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں منوا سکیں۔

آج کا دن

آج کا دن

تاریخی گرمی کی لہر25جولائی 2019ء کویورپ شدید گرمی کی ایک غیر معمولی لہر کی لپیٹ میں آ گیا۔ جس کے دوران 25 جولائی کو برطانیہ، بیلجیم، نیدرلینڈز اور جرمنی میں تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیے گئے۔ کئی شہروں میں پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا، جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ اس شدید گرمی کے باعث صحت کے مسائل، جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات اور نقل و حمل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔کونکورڈ حادثہ25جولائی 2000ء کو ایئر فرانس کی کانکورڈ پرواز 4590 پیرس کے شارل ڈی گال ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کے چند لمحوں بعد حادثے کا شکار ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں جہاز میں سوار تمام 109 افراد اور زمین پر موجود 4 افراد سمیت 113 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ تحقیقات کے مطابق رن وے پر موجود دھات کے ایک ٹکڑے سے ٹائر پھٹنے کے باعث حادثہ پیش آیا، جس کے بعد کانکورڈ طیاروں کی سروس بالآخر ختم کر دی گئی۔افغان جنگی راز بے نقاب25جولائی2010ء کو وکی لیکس نے افغانستان جنگ سے متعلق امریکی فوج کی خفیہ دستاویزات شائع کیں، جو امریکی فوجی تاریخ میں معلومات کے سب سے بڑے انکشافات میں شمار ہوتی ہیں۔ ان دستاویزات میں ہزاروں فوجی رپورٹس، جنگی کارروائیوں، عام شہریوں کی ہلاکتوں، طالبان کی سرگرمیوں اور سکیورٹی معاملات کی تفصیلات شامل تھیں۔ اس انکشاف نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا اور افغانستان جنگ، امریکی پالیسیوں اور سرکاری معلومات کی رازداری پر نئی بحث چھیڑ دی۔خاتون خلانورد کا اعزاز1984ء میں آج کے روز سوویت خلائی اسٹیشن ''سالیوت 7‘‘ (Salyut 7 ) پر موجود خلا نورد سویتلاناساویتسکایا خلا میں چہل قدمی کرنے والی دنیا کی پہلی خاتون بن گئیں۔ انہوں نے اپنے ساتھی خلانورد کے ساتھ خلائی اسٹیشن سے باہر تقریباً ساڑھے تین گھنٹے گزارے اور مختلف سائنسی و تکنیکی تجربات انجام دیے۔ ان کی یہ تاریخی کامیابی خلائی تحقیق میں خواتین کے کردار کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی اور اس نے مستقبل میں خواتین کی خلائی مہمات کیلئے نئی راہیں ہموار کیں۔چین میں زلزلہ25جولائی 1668ء کو مشرقی چین میں 8.5 شدت کا ایک تباہ کن زلزلہ آیا، جس نے وسیع علاقے کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں 43 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ بے شمار لوگ زخمی اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ ہزاروں مکانات، سرکاری عمارتیں اور زرعی زمینیں تباہ ہو گئیں، جس سے خطے میں شدید انسانی اور معاشی بحران پیدا ہوا۔ یہ زلزلہ چین کی تاریخ کے مہلک ترین زلزلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شام میں دھماکے25جولائی 2018ء کو شام کے جنوبی صوبے اس السویدا میں مربوط دہشت گرد حملوں کا سلسلہ پیش آیا، جس میں خودکش دھماکے، فائرنگ اور مختلف دیہات پر حملے شامل تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔ یہ حملے شام کی خانہ جنگی کے دوران ہونے والے مہلک ترین واقعات میں شمار کیے جاتے ہیں۔

ریکارڈ ساز فیفا ورلڈ کپ 2026

ریکارڈ ساز فیفا ورلڈ کپ 2026

عالمی فٹ بال کی تاریخ میں کئی نئے ریکارڈ قائمفیفا ورلڈ کپ 2026ء کا میلہ اپنے اختتام کو پہنچا،فائنل میں اسپین نے دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو شکست دے کر نہ صرف ایک بڑا اپ سیٹ کیا بلکہ عالمی فٹ بال کی تاریخ میں کئی نئے ریکارڈ بھی قائم کر دیے۔امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے اس ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے گئے، جو فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھی ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ مقابلے ہیں۔ اسی لیے اس ایونٹ میں بے شمار نئے ریکارڈ قائم ہوئے اور کئی پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے کی دوڑ سے لے کر ریکارڈ ساز کلین شیٹ تک، 2026ء کے اس عالمی ٹورنامنٹ نے کئی ایسے تاریخی کارنامے دیکھے جنہوں نے فٹ بال کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔میسی کے عالمی اعزازاگرچہ ارجنٹائن کی ٹیم فائنل میں شکست کے بعد رنر اپ رہی، تاہم اس کے اسٹار کپتان لیونل میسی نے اپنی انفرادی کارکردگی سے کئی یادگار ریکارڈ اپنے نام کئے۔ میسی نے مسلسل 9 فیفا ورلڈ کپ میچوں میں گول کرکے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، یوں وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں لگاتار سب سے زیادہ میچوں میں گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔ ان کا یہ شاندار سلسلہ 3 دسمبر 2022ء سے شروع ہوا اور 7 جولائی 2026ء تک جاری رہا۔ اس کے علاوہ لیونل میسی نے فیفا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 34 میچ کھیلنے کا اپنا ہی عالمی ریکارڈ مزید بہتر بنایا۔ انہوں نے ایک اور منفرد اعزاز بھی حاصل کیا جب 38 سال اور 357 دن کی عمر میں الجزائر کے خلاف ہیٹ ٹرک اسکور کرکے ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے معمر ترین کھلاڑی بن گئے۔گولز کی بارشلیونل میسی اور فرانس کے کائلیان ایمباپے کے درمیان ورلڈ کپ کے دوران ریکارڈز کی دلچسپ دوڑ جاری رہی، لیکن آخرکار اس میدان میں کامیابی ایمباپے کے حصے میں آئی۔ انہوں نے مجموعی طور پر 22 گول کر کے فیفا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ ایمباپے نے یہ گول 2018ء، 2022ء اور 2026ء کے ورلڈ کپ مقابلوں میں اسکور کیے، جس سے انہوں نے عالمی فٹ بال کی تاریخ میں ایک اور شاندار سنگ میل عبور کر لیا۔ فرانس کے مائیکل اولیسے نے بھی اس ٹورنامنٹ میں اپنی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 7 گول پاسز (اسسٹ) دے کر فیفا ورلڈ کپ کے ایک ہی ٹورنامنٹ میں کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے سب سے زیادہ اسسٹ کرنے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ ان کی شاندار پاسنگ، بہترین کھیل اور ساتھی کھلاڑیوں کیلئے گول کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت نے انہیں ورلڈ کپ 2026ء کے نمایاں ترین کھلاڑیوں میں شامل کر دیا۔''کلین شیٹ‘‘ گول کیپر سیمون کا تاریخی ریکارڈورلڈ کپ 2026ء میں اسپین کے گول کیپر اونائی سیمون نے بھی ایک منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ انہوں نے یکم دسمبر 2022ء سے 10 جولائی 2026ء تک فیفا ورلڈ کپ کے مقابلوں میں مسلسل سب سے طویل عرصے تک اپنے خلاف کوئی گول نہ ہونے (کلین شیٹ) کا ریکارڈ قائم کیا۔ اس شاندار کارکردگی کے دوران وہ حریف ٹیموں کو گول کرنے سے مسلسل روکے رکھنے میں کامیاب رہے، جس نے اسپین کی عالمی ٹائٹل جیتنے کی مہم میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔یہی مضبوط دفاع اسپین کی عالمی چیمپئن بننے کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ثابت ہوا۔عمر کامیابی میں رکاوٹ نہیںکیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا، جن کا اصل نام جوسیمار ڈیاس ہے، نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں ایک منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ وہ ورلڈ کپ میں اپنے پہلے ہی میچ میں کلین شیٹ رکھنے والے معمر ترین گول کیپر بن گئے۔ 15 جون کو اسپین کے خلاف مقابلے میں انہوں نے شاندار گول کیپنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف ٹیم کو کوئی گول کرنے کا موقع نہ دیا۔ اس تاریخی کارکردگی کے وقت ان کی عمر 40 سال اور 12 دن تھی، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل ہے۔ کرسٹیانو رونالڈوکا اعزازپرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں ایک تاریخی اعزاز اپنے نام کیا۔ انہوں نے ورلڈ کپ کے چھ مختلف ٹورنامنٹس میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن کر اپنا ہی عالمی ریکارڈ مزید مستحکم کیا۔ رونالڈو نے 2006ء، 2010ء، 2014ء، 2018ء، 2022ء اور 2026ء کے ورلڈ کپ مقابلوں میں گول اسکور کیے، جو ان کی غیرمعمولی مستقل مزاجی، بہترین فٹنس اور طویل عرصے تک اعلیٰ معیار کی کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔ یہ کارنامہ انہیں عالمی فٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں نمایاں مقام دلاتا ہے۔فیفا ورلڈ کپ 2030ء فیفا ورلڈ کپ 2030ء کی مشترکہ میزبانی مراکش، پرتگال اور اسپین کریں گے۔ یہ ٹورنامنٹ اپنی نوعیت کا ایک تاریخی ایونٹ ہوگا کیونکہ یہ 1930ء میں منعقد ہونے والے پہلے فیفا ورلڈ کپ کی سوویں سالگرہ کی مناسبت سے کھیلا جائے گا۔ پہلے ورلڈ کپ کی میزبانی یوراگوئے نے کی تھی اور وہی اس افتتاحی عالمی مقابلے کا چیمپئن بھی بنا تھا۔