مضبوط عضلات ،صحت مند دل
اسپیشل فیچر
جسم کے بالائی حصے کے مضبوط اور صحتمند عضلات دل کے دورے کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں
دل کی بیماریاں آج بھی دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شمار ہوتی ہیں، جس کے باعث ماہرین طب مسلسل ایسے عوامل کی تلاش میں مصروف ہیں جو دل کو صحت مند رکھنے اور دل کے دورے کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکیں۔ اب ایک نئی طبی تحقیق نے اس حوالے سے ایک اہم پہلو اجاگر کیا ہے، جس کے مطابق سینے اور کمر کے مضبوط اور صحت مند پٹھے نہ صرف جسمانی توازن اور طاقت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ دل کے دورے کے خطرے کو بھی کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا اور عضلاتی صحت پر توجہ دینا صرف جسمانی فٹنس ہی نہیں بلکہ قلبی صحت کیلئے بھی بے حد ضروری ہے۔
ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جسم کے بالائی حصے، خصوصاً سینے اور کمر کے صحت مند اور معیاری عضلات دل کے دورے اور قبل از وقت موت کے کم خطرے سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ یہ تحقیق طبی جریدے ریڈیالوجی (Radiology) میں شائع ہوئی، جس میں محققین نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے اسکاٹش کمپیوٹڈ ٹوموگرافی آف دی ہارٹ ٹرائل میں شریک ایک ہزار 722 مریضوں کے سی ٹی اسکینز کا تجزیہ کیا۔ان مریضوں کی اوسط عمر 58 سال تھی اور انہوں نے 2010ء سینے میں درد کی شکایت کے باعث سی ٹی اسکین کروائے تھے۔ بعدازاں یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے محققین نے ان مریضوں کی دس سال تک نگرانی کی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان میں سے کتنے افراد کو دل کا دورہ پڑا یا ان کی وفات ہوئی۔ اس عرصے کے دوران 133 مریض انتقال کر گئے، جبکہ 106 افراد کو مہلک یا غیر مہلک دل کا دورہ پیش آیا۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ جن افراد کے عضلات کا معیار بہتر تھا، جسے سی ٹی اسکین میں اسکیلیٹل مسل اٹینیوایشن (skeletal muscle attenuation) کے ذریعے جانچا گیا، ان میں دل کے دورے اور موت کا خطرہ نمایاں طور پر کم تھا۔ اس پیمائش میں کم ریڈنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عضلات کے اندر چربی کی مقدار زیادہ ہے، جو عضلات کے کمزور معیار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
ان سی ٹی اسکینز، جنہیں ''کورونری کمپیوٹڈ ٹوموگرافی انجیوگرام‘‘ (CCTA) کہا جاتا ہے، میں بنیادی طور پر کمر کے عضلات، سینے کے پٹھوں (پیکٹورل یا پیکس) اور پسلیوں کے درمیان موجود بین الضلعی عضلات (intercostal muscles) کا جائزہ لیا گیا۔برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے چیف سائنٹیفک اینڈ میڈیکل آفیسر، پروفیسر برائن ولیمز نے کہا کہ غالب امکان یہی ہے کہ اس تحقیق میں جن افراد کے عضلات زیادہ مضبوط اور گھنے تھے، وہ جسمانی طور پر زیادہ متحرک تھے، جس کے نتیجے میں ان کے دل کی صحت بھی بہتر تھی۔ یہ نتائج ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں کہ باقاعدہ ورزش انسانی صحت، خصوصاً دل کی صحت کیلئے بے حد مؤثر ذریعہ ہے۔
یہ تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ جب بھی ہم جسم کو حرکت دیتے ہیں، ہم اپنے پٹھوں، خون کی شریانوں اور مجموعی صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں، اور باقاعدہ ورزش دل اور خون کی شریانوں کی بیماریوں کے خطرے کو ایک تہائی تک کم کر سکتی ہے۔
برطانیہ میں ہر سال تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار افراد کا سی سی ٹی اے (CCTA) اسکین کیا جاتا ہے۔ یہ اسکین دل کو خون فراہم کرنے والی کورونری شریانوں میں تنگی یا رکاوٹ کا پتہ لگانے کیلئے کیا جاتا ہے، کیونکہ ایسی رکاوٹیں دل کے دورے کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کے نتائج کا مطلب صرف یہ نہیں کہ زیادہ بڑے یا طاقتور پٹھے ہونا ہی فائدہ مند ہے۔ درحقیقت، پٹھوں کے حجم (سائز) اور دل کے دورے یا موت کے خطرے کے درمیان کوئی واضح تعلق سامنے نہیں آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پٹھوں کی ساخت اور معیار، محض ان کے بڑے ہونے سے کہیں زیادہ اہم ہو سکتے ہیں۔ بہتر معیار کے سینے اور کمر کے پٹھے غالباً پورے جسم کے پٹھوں کی اچھی صحت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی بھی علامت ہو سکتے ہیں کہ متعلقہ افراد جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہیں اور ان کے دھڑ کے پٹھے زیادہ مضبوط ہیں۔
تحقیق میں شامل افراد کو اسکین تصاویر میں پٹھوں کی روشنی (Brightness) کی بنیاد پر مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ زیادہ روشن تصاویر اس بات کی نشاندہی کرتی تھیں کہ پٹھے زیادہ گھنے اور صحت مند ہیں۔ نتائج کے مطابق، اسکین کی روشنی میں ہر 10 پوائنٹس اضافے کے ساتھ کسی شخص میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ 31 فیصد کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح، اسکین کے بعد اگلے 10 سال کے دوران موت کا خطرہ بھی 39 فیصد کم پایا گیا۔یہ نتائج اس وقت بھی برقرار رہے جب محققین نے دیگر عوامل، مثلاً عمر، جنس اور دل کی شریانوں میں کیلشیم کے جمع ہونے کی مقدار کو بھی مدنظر رکھا، جو دل کے دورے اور موت کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔دوسری جانب، محققین نے لوگوں کے دھڑ اور جگر میں موجود چربی کا بھی جائزہ لیا، لیکن یہ دل کے دورے کے خطرے سے نمایاں طور پر منسلک نہیں پائی گئی۔
اس تحقیق کی سینئر مصنفہ پروفیسر مشعل ولیمز کے مطابق یہ بات نہایت دلچسپ ہے کہ کسی شخص کے پٹھوں کا معیار اس کے دل کا دورہ پڑنے کے خطرے سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ اسی لیے اب میری ذاتی دلچسپی سائیکلنگ، پلینک (Planks) اور پیلاٹس (Pilates) جیسی ورزشوں میں بڑھ گئی ہے، جن سے مجھے لطف بھی آتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ ان پٹھوں پر مثبت اثر ڈالیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ سمجھنے کیلئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ ورزش پٹھوں کی کثافت پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے اور اس کا دل کی صحت سے کیا تعلق ہے۔
تحقیق میں استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت نے پٹھوں کے معیار کا جائزہ لینے کے عمل کو بھی نمایاں طور پر تیز کر دیا۔ جو کام ایک ماہر ریڈیالوجسٹ کو کئی گھنٹے لگ سکتے تھے، وہ اے آئی نے صرف چند منٹوں میں مکمل کر دیا۔تحقیق سے یہ امکان بھی سامنے آیا ہے کہ مستقبل میں معمول کے دل کے اسکین ہی کسی شخص کے دل کے دورے کے خطرے کی پیش گوئی کیلئے استعمال کیے جا سکیں گے۔ اس سے بروقت علاج شروع کرنا اور طرزِ زندگی میں ایسی تبدیلیاں تجویز کرنا ممکن ہو سکے گا جو جان بچانے میں مددگار ثابت ہوں۔