کیا مصنوعی ذہانت ایک ’’ مستقل محروم طبقہ‘‘ پیدا کر سکتی ہے؟
اسپیشل فیچر
ان دنوں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ لوگ اکثر مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک ہی بات کرتے ہیں کہ یہ ایک ''مستقل محروم طبقہ‘‘ پیدا کر دے گی۔ Anthropic کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے بھی رواں سال ایک مضمون میں اس امکان کا حوالہ دیا اور اندازہ لگایا کہ اگلے پانچ سالوں میں دفتری شعبے کی ابتدائی سطح کی تقریباً 50 فیصد ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔اس خیال کی بنیاد کچھ یوں ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) کے قریب پہنچیں گے ٹیکنالوجی کے ایک چھوٹے سے اونچے طبقے کے پاس وہ AI پلیٹ فارم، ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کے ذرائع ہوں گے جو معیشت کے ایک بڑے حصے کو چلائیں گے۔ Agentic AIیعنی ایسے مصنوعی ذہانت کے نظام جو خود مختار انداز میں کام انجام دے سکتے ہیں اور جدید روبوٹکس انسانی محنت کی جگہ لے سکتے ہیں اور زیادہ تر ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔سان فرانسسکو کے اس تصور کے مطابق آبادی کی اکثریت کے پاس بہت کم اثاثے رہ جائیں گے اور انہیں اپنی محنت بیچ کر مناسب آمدنی حاصل کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔
کیا اس نظریے پر یقین کرنا چاہیے؟
ماہرینِ معاشیات کو ایسے بڑے دعوؤں کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے جن کے پیچھے ٹھوس شواہد موجود نہ ہوں۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کے خیالات فی الحال زیادہ تر قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔ محنت کی منڈی کے اعداد و شمار بھی ابھی تک AI کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے بارے میں محدود اور غیر حتمی شواہد فراہم کرتے ہیں۔ بعض ممتاز ماہرینِ معاشیات کا اندازہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اثرات اس سے کہیں زیادہ محدود ہوں گے،لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ AI کو وسیع پیمانے پر اپنانے کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔''مستقل محروم طبقے‘‘ کا نظریہ اگرچہ شاید مبالغہ آمیز ہو لیکن یہ کچھ ایسی تلخ حقیقتوں کی طرف اشارہ ضرور کر سکتا ہے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔اگر AI سے حاصل ہونے والے فوائد بنیادی طور پر سرمایہ رکھنے والے افراد اور چند ماہر کارکنوں تک محدود ہو جائیں تو محنت کی منڈی کی حرکیات دوسرے کارکنوں کی مہارتوں کو کم اہم بنا سکتی ہیں اور ان کی محنت کی قیمت کم کر سکتی ہیں۔اگر کم اجرت والے کارکنوں کی تعلیم، تربیت اور انسانی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری بھی اسی وجہ سے کم ہو جائے تو معاشرہ کسی حد تک اس صورتحال کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کا تصور ٹیکنالوجی حلقوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔
کیا آٹومیشن محنت کی منڈی کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتی ہے؟
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹومیشن محنت کی منڈی میں دو مختلف قسم کے نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ڈیوڈ آٹور اور نیل تھامسن کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق آٹومیشن یا تو کم مہارت والے کاموں کی جگہ لے کر اجرتوں میں اضافہ کر سکتی ہے یا پھر زیادہ مہارت والے کاموں کی جگہ لے کر اجرتوں میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ایسے کارکن جن کے پاس ایسی معلومات اور مہارت ہو جنہیں مشینوں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ان کی اجرتوں میں بہت بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔اس کے برعکس دوسرے کارکنوں کی مہارتیں غیر اہم ہو سکتی ہیں وہ اپنی ملازمتیں کھو سکتے ہیں اور اپنی روزی کمانے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ Anthropicکی ایک حالیہ تحقیق نے بھی اسی طرح یہ ظاہر کیا ہے کہ Claude Code سے سب سے زیادہ فائدہ زیادہ مہارت رکھنے والے صارفین کو حاصل ہوا۔
AI کی پیداواری صلاحیت کے فوائد کس کو ملیں گے؟
جیسے جیسے مصنوعی ذہانت پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی جدت سے حاصل ہونے والے فوائد ممکنہ طور پر ان لوگوں کے ہاتھوں میں زیادہ مرتکز ہو سکتے ہیں جن کے پاس سرمایہ اور مہارت موجود ہے۔یہاں ''مہارت‘‘ سے مراد انسانی سرمایہ یاہیومن کیپٹل ہے۔2000ء کی دہائی کے آغاز میں دائر کیے گئے پیٹنٹس پر ہونے والی ایک تحقیق اس امکان کے کچھ شواہد فراہم کرتی ہے۔اس تحقیق کے مطابق کسی نئی ایجاد سے پیدا ہونے والی ہر ایک ڈالر کی اضافی قدر میں سے تقریباً 30 سینٹ کارکنوں کو ملے جبکہ 70 سینٹ منافع بن گئے۔اور کارکنوں کو ملنے والی اضافی آمدنی کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی زیادہ تنخواہیں لینے والے ملازمین کو حاصل ہوا۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پاس زیادہ مہارت تھی،لہٰذا ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے اگر AI سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کا بڑا حصہ ان لوگوں کو ملے جو بڑے ڈیٹا سینٹرز اور جدید ترین AI ماڈلز تیار کر رہے ہیں۔ماہرینِ معاشیات عموماً یہ فرض کرتے ہیں کہ طویل مدت میں پیداوار میں محنت اور سرمایہ کا حصہ تقریباً مستقل رہتا ہے۔لیکن ٹیکنالوجی حلقوں کا اصرار ہے کہAgentic AI محنت کی جگہ سرمائے کو استعمال کرے گی اور اس روایتی تصور کو تبدیل کر دے گی۔
کم ہنر والے کارکنوں پر دوسرا اثر
AI کے محنت کی منڈی پر مرتب ہونے والے بالواسطہ یا ثانوی اثرات زیادہ اور کم اجرت والے کارکنوں کے درمیان فرق کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔اگر کم مہارت رکھنے والے کارکن اپنی ملازمتیں کھونے لگیں تو اچانک بڑی تعداد میں ایسے کارکن پیدا ہو سکتے ہیں جن کی مہارتیں پہلے کے مقابلے میں کم اہم رہ گئی ہوں۔ایسی صورت میں کم مہارت رکھنے والے کارکنوں کی اضافی فراہمی ان سب کی اجرتوں کو نیچے لے جا سکتی ہے۔یہ درست ہے کہ AI ماڈلز کی زبردست طلب کے نتیجے میں نئی کم مہارت والی ملازمتیں بھی پیدا ہو سکتی ہیں مثلاً ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اسے منظم کرنے کے کام۔لیکن آج یہ کہنا مشکل ہے کہ ایسی ملازمتیں مستقبل میں کس نوعیت کی ہوں گی اور ان میں کتنی اجرت دی جائے گی۔
پیداواری صلاحیت کا بڑھتا ہوافرق طویل مدتی اثرات
کارکنوں کی مہارتوں میں اضافہ کرنا یا انہیں نئی مہارتیں سکھانا آسان نہیں ہے۔مزید یہ کہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی آمدنی میں اچانک کمی بچوں کی مہارتوں کی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ یوں والدین کی اجرت میں آنے والی تبدیلیاں اگلی نسل تک منتقل ہو سکتی ہیں۔شواہد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کم آمدنی رکھنے والے کارکن انسانی سرمائے یعنی تعلیم اور مہارت میں نسبتاً کم سرمایہ کاری کرتے ہیں۔اگر مختلف کارکنوں کی پیداواری صلاحیت میں فرق بڑھتا گیا تو کم آمدنی والے لوگوں کی تعلیم اور تربیت میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب بھی کم ہو سکتی ہے۔اس طرح محنت کی منڈی کی دو حصوں میں تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔