باکو:تاریخ و تہذیب کا سنگم
اسپیشل فیچر
بحیرہ کیسپیئن کے مغربی ساحل پر واقع باکو نہ صرف آذربائیجان کا دارالحکومت ہے بلکہ قفقاز کے خطے کا ایک اہم تاریخی، ثقافتی، صنعتی اور تجارتی مرکز بھی ہے۔ جزیرہ نمائے آب شیرون کے کنارے آباد یہ شہر قدیم روایات اور جدید ترقی کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ ایک طرف یہاں صدیوں پرانی تاریخی عمارات، قدیم گلیاں اور ثقافتی ورثہ موجود ہے تو دوسری جانب بلند و بالا جدید عمارتیں، صنعتی مراکز اور جدید شہری سہولتیں باکو کو ایک منفرد شناخت عطا کرتی ہیں۔
باکو قفقاز کے علاقے میں نو آزاد مسلم ریاست آذربائیجان کا صدر مقام ہے۔ یہ بحیرۂ کیسپیئن کے مغربی ساحل اور جزیرہ نمائے آب شیرون کے کنارے آباد ہے۔ اس کا کل رقبہ 2130 مربع کلو میٹر اور آبادی بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ سوویت حکومت میں ماسکو، سینٹ پیٹرز برگ اور تاشقند کے بعد چوتھا بڑا شہر تھا، جہاں زمین دوز میٹرو کا آغاز کیا گیا۔
باکو بہت تاریخی اور ثقافتی شہر ہے۔ ماضی میں آذرئیجان زیادہ تر ایرانی سلطنت کا حصہ رہا ہے۔ اس لیے اس کے کلچر اور موسیقی میں ایرانی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ اسے تاریخ میں ایک قدیم شہر کا درجہ حاصل ہے۔ اور الف لیلوی داستانوں میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔
آذربائیجان کی آمدنی کا زیادہ تر انحصار اس ملک میں ملنے والے تیل کے ذخائر پر ہے۔ اس لیے بہت بڑی تیل کی کمپنیوں کے دفاتر باکو میں قائم ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز میں دُنیا کی پیداوار کا نصف تیل آذربائیجان سے ہی حاصل کیا جاتا تھا۔
باکو کا مطلب ہے تیز ہوائوں کا شہر۔ اِسی لیے سارا سال تقریباً تیز ہوائیں چلتی رہتی ہیں۔ لیکن سردیوں میں ایسا وقت بھی آتا ہے کہ برف کے تند و تیز طوفان اس شہر پر حملہ آور ہوتے ہیں۔مقامی حکومت کی طرف سے ایک دن قبل ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے عوام کو انتباہ کر دیا جاتا ہے کہ فلاں دن بچے اور بوڑھے لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہی قیام کریں اور باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں۔ ان یخ بستہ ہوائوں کی رفتار 150 کلو میٹر فی گھنٹہ تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ جس سے کھڑی فصلوں،درختوں اور مکانوں کی چھتوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ سوویت دور میں کمیونسٹ حکومت نے یہودیوں کی عمارات اور جائیداد پر قبضہ کر لیاتھا۔ لیکن سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کے بعد آذربائیجان کے پہلے صدر حیدر علی نے قبضہ کی ہوئی جائیداد یں یہودی کمیونٹی کو واپس کر دی ہیں۔
باکو ایک صنعتی شہر ہونے کے علاوہ بحیرۂ کیسپیئن سے حاصل ہونے والی سوغات کاویار کا بھی بہت بڑا مرکز ہے۔ جس کی ایک کلو گرام کی قیمت 1600 ڈالر سے 5600 ڈالر تک ہوتی ہے۔ باکومیں پرانی تاریخی عمارات کے ساتھ جدید عمارات بھی کثیر تعداد میں نظر آتی ہیں۔ باکو شہر کی کھیلوں کے حوالے سے اہمیت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ یہ شہر 2016 ء کے اولمپک کی میزبانی کا اُمیدوار تھا۔ لیکن یہ پیشکش او آئی سی کی جانب سے تسلیم نہ کی گئی۔
باکو کی کمپیوٹر کے میدان میں ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ کہ 1991 ء میں اُس نے انٹر نیٹ کی سہولیات حاصل کر لی تھیں۔ اور جب مصنف 1995 ء میں باکو گیا تھا تو اُس وقت بھی اُن کے پاس ڈائیل اپ انٹرنیٹ کی سہولت موجود تھی اور ڈی ایس ایل کی سہولت 2007 ء سے ملک میں عام استعمال کی جا رہی ہے۔ 1967ء سے باکو شہر میں میٹرو کا نظام بھی کامیابی سے رواں دواں ہے۔ مصنف کو بہت گہرائی میں موجود میٹرو میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا اور زیر زمین پلیٹ فارم سے سطح زمین پر آنے کیلئے طویل ترین برقی زینے استعمال کرنے پڑے۔