مریخ کی سطح پر پراسرار سوراخ
اسپیشل فیچر
مریخ، جسے صدیوں سے انسان کے تجسس اور سائنسی جستجو کا مرکز سمجھا جاتا ہے، آج بھی اپنے سینے میں بے شمار راز چھپائے ہوئے ہے۔ سرخ سیارے کی سطح پر موجود عجیب و غریب ساختیں سائنسدانوں کو مسلسل حیران کرتی رہی ہیں، مگر حالیہ مشاہدات نے اس تجسس کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ناسا کے ماہرین نے مریخ کی سطح پر ایسے پراسرار سوراخ دریافت کیے ہیں جو بظاہر کسی نامعلوم قوت کے ذریعے بنائے گئے محسوس ہوتے ہیں۔ ان سوراخوں کی اصل اور تشکیل کا سبب تاحال واضح نہیں، جس نے ماہرین فلکیات اور ارضیات کو مزید تحقیق پر مجبور کر دیا ہے۔
محققین نے ان عجیب و غریب ساختوں کا مشاہدہ اس وقت کیا جب کیوریوسٹی روور مریخ کے پہاڑ ماؤنٹ شارپ کو کاٹتی ہوئی ایک وسیع و عریض وادی ویلے گرانڈے میں انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا تھا۔ اگرچہ ایسے سیارے پر چھوٹے سوراخوں کا پایا جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں جہاں شہابیوں کے ٹکراؤ نے سطح کو بارہا متاثر کیا ہے، تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ مخصوص گڑھے کس طرح وجود میں آئے۔
مریخ پر دریافت ہونے والے دیگر سوراخوں کے برعکس، ویلے گرانڈے کی چٹانی سطح پر بکھرے ہوئے یہ سوراخ چوڑے اور نسبتاً کم گہرے ہیں، جبکہ سائنسدانوں کے بقول یہ ماضی میں دیکھی گئی کسی بھی ساخت سے بالکل مختلف ہیں۔ ڈاکٹر مشیل منٹی(Dr Michelle Minitti) جو ایم اے ایچ ایل آئی کی ڈپٹی پرنسپل انویسٹی گیٹر ہیں، نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا: ''کیوریوسٹی کو مریخ کی سطح پر کام کرتے ہوئے 14 سال گزر چکے ہیں، لیکن مریخ آج بھی ہمیں حیران کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ پراسرار سوراخ ان چٹانوں کے اس مخصوص حصے کو متاثر کرنے والے ارضیاتی عوامل اور ان کے عمل کو سمجھنے کیلئے ایک نئے اور دلچسپ معمے کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔
زمین اور مریخ دونوں پر چٹانوں کی تہہ میں قدرتی طور پر بننے والے چھوٹے سوراخوں کا دریافت ہونا نسبتاً عام بات ہے۔ یہ سوراخ عموماً اس وقت بنتے ہیں جب کوئی سخت کنکری یا چٹان کا سخت ٹکڑا نسبتاً نرم چٹانوں کے درمیان پھنس جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب یہ سخت ٹکڑے اردگرد موجود نرم چٹانوں سے موسمیاتی اثرات اور کٹاؤ کے باعث الگ ہو جاتے ہیں تو اپنے پیچھے چھوٹے گڑھے یا نشانات چھوڑ جاتے ہیں۔ تاہم، ناسا کے سائنسدان اس وقت حیران رہ گئے جب انہیں ان پراسرار سوراخوں میں اس معروف قدرتی عمل کی معمول کی کوئی علامت دکھائی نہیں دی۔ ڈاکٹر مشیل منٹی نے لکھا: ''اس ہفتے دریافت ہونے والے گڑھے ماضی میں دیکھی گئی ساختوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ چوڑے اور کم گہرے تھے، جبکہ ان کے اندر ایسے واضح اجسام بھی موجود نہیں تھے جو کبھی ان گڑھوں میں پھنسے ہوئے ہوں‘‘۔
اس معمے کا مزید جائزہ لینے کیلئے کیوریوسٹی روور کو ہدایت دی گئی کہ وہ مریخ ہینڈ لینس امیجر کی مدد سے ان گڑھوں کی قریب سے تصاویر لے۔ دوسری جانب ماسٹ کیم (Mastcam) کیمرے نے اردگرد کے علاقے کی متعدد ایسی تصاویر بنائیں جو ایک دوسرے سے جزوی طور پر منسلک تھیں۔ ان تمام تصاویر کو یکجا کرکے سائنسدان ان پراسرار گڑھوں کا مکمل تین جہتی نقشہ تیار کر سکیں گے اور ان کی ساخت، شکل اور گہرائی کی درست پیمائش بھی ممکن ہوگی۔ محققین کو امید ہے کہ مزید تحقیق سے اس بات پر کچھ روشنی پڑ سکے گی کہ ماؤنٹ شارپ کی ڈھلوانوں پر یہ پراسرار گڑھے کس طرح وجود میں آئے اور مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے کیوں نظر آتے ہیں۔