خلائی مخلوق کہاں ہے؟
اسپیشل فیچر
فرمی پیراڈوکس نے نئی بحث چھیڑ دی
اربوں ستاروں اور سیاروں کے باوجود خلائی مخلوق کی خاموشی سائنس کی سب سے بڑی پہیلی بنی ہوئی ہے؟
کائنات اپنی وسعت، پراسراریت اور لاتعداد کہکشاؤں کے باعث صدیوں سے انسان کیلئے حیرت کا باعث رہی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق صرف ہماری کہکشاں، ملکی وے، میں ہی تقریباً 200 سے 400 ارب ستارے اور کم از کم 100 ارب سیارے موجود ہیں۔ ان میں سے بے شمار سیارے ایسے بھی ہو سکتے ہیں جہاں زندگی کیلئے موزوں حالات پائے جاتے ہوں۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ اگر کائنات میں زندگی کے امکانات اتنے زیادہ ہیں تو پھر اب تک کسی بھی ذہین خلائی مخلوق کا کوئی واضح ثبوت کیوں نہیں ملا؟ یہی سوال ''فرمی پیراڈوکس‘‘ کہلاتا ہے، جو آج بھی جدید فلکیات اور خلائی سائنس کے سب سے دلچسپ معمّوں میں شمار ہوتا ہے۔
اس نظریے کا آغاز اطالوی نژاد امریکی ماہرِ طبیعیات اینریکو فرمی نے 1950ء میں کیا۔ انہوں نے اپنے ساتھی سائنس دانوں سے سادہ الفاظ میں سوال کیا: ''وہ سب کہاں ہیں؟‘‘ یعنی اگر کائنات میں ذہین تہذیبیں موجود ہیں تو ان کے ریڈیو سگنلز، خلائی جہازوں یا کسی قسم کی ٹیکنالوجی کے آثار اب تک ہمیں کیوں دکھائی نہیں دیے؟فرمی کا خیال تھا کہ اگر کوئی تہذیب سائنسی اور تکنیکی اعتبار سے ترقی کر لے تو وہ نسبتاً کم عرصے میں اپنی کہکشاں کے مختلف حصوں تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کر سکتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج تک انسان کو نہ کسی خلائی تہذیب کا قابلِ اعتماد پیغام ملا ہے اور نہ ہی ان کے وجود کا کوئی ناقابلِ تردید ثبوت۔
اس معمّے کی وضاحت کیلئے سائنسدانوں نے مختلف نظریات پیش کیے ہیں۔ ان میں سب سے معروف نظریہ ''گریٹ فلٹر‘‘ ہے۔ اس کے مطابق کائنات میں کوئی نہ کوئی ایسی رکاوٹ ضرور موجود ہے جو ذہین تہذیبوں کو اتنی ترقی کرنے سے پہلے ہی ختم کر دیتی ہے کہ وہ دوسری دنیاؤں تک پہنچ سکیں۔ یہ رکاوٹ زندگی کے ابتدائی ارتقا میں بھی ہو سکتی ہے یا پھر ترقی یافتہ تہذیبوں کے مستقبل میں بھی۔برطانوی ماہرِ طبیعیات پروفیسر برائن کاکس کے مطابق ممکن ہے کہ سائنس اور انجینئرنگ کی تیز رفتار ترقی بالآخر کسی تہذیب کی تباہی کا سبب بن جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی طاقت شاید سیاسی بصیرت، عالمی تعاون اور ذمہ دارانہ قیادت سے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں جنگ، ماحولیاتی تباہی یا دیگر عالمی بحران جنم لیتے ہیں اور تہذیب خود اپنی بقا کیلئے خطرہ بن جاتی ہے۔
کچھ سائنسدان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خلائی مخلوق یقیناً موجود ہے، لیکن یا تو ان کے پاس زمین سے رابطہ کرنے کی مناسب ٹیکنالوجی نہیں یا پھر کائنات کے بے پناہ فاصلے رابطے کو تقریباً ناممکن بنا دیتے ہیں۔ اگر دو تہذیبوں کے درمیان ہزاروں نوری سال کا فاصلہ ہو تو ممکن ہے کہ ایک تہذیب رابطہ قائم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے۔ایک اور دلچسپ تصور ''زو مفروضہ‘‘ (Zoo Hypothesis) ہے۔ اس نظریے کے مطابق ترقی یافتہ خلائی تہذیبیں جان بوجھ کر زمین سے رابطہ نہیں کرتیں، کیونکہ وہ انسانیت کو قدرتی انداز میں ارتقا کرنے کا موقع دینا چاہتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انسان جنگلی حیات کے محفوظ علاقوں میں جانوروں کے قدرتی ماحول میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرتے ہیں۔
اگرچہ فرمی پیراڈوکس کا اب تک کوئی حتمی جواب سامنے نہیں آیا، لیکن اس نے سائنسدانوں کو کائنات، زندگی کے آغاز اور انسان کے مستقبل کے بارے میں نئے زاویوں سے سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ ممکن ہے آنے والے برسوں میں جدید دوربینیں، خلائی مشنز اور نئی سائنسی دریافتیں اس دیرینہ راز سے پردہ اٹھا دیں۔ تب تک فرمی پیراڈوکس انسان کے اس قدیم سوال کی علامت ہے کہ کیا ہم واقعی اس وسیع و عریض کائنات میں تنہا ہیں، یا کہیں نہ کہیں کوئی اور بھی ہماری تلاش میں ہے؟
خلائی مخلوق موجود، مگر ہماری تلاش کا رخ غلط ہے:سائنسدان
خلائی مخلوق کی تلاش کیلئے سائنسدانوں کا ایک عام طریقہ یہ ہے کہ وہ دیوہیکل ریڈیو دوربینوں کے ذریعے آسمان کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ ''ٹیکنو سگنیچر‘‘ مثلاً طاقتور برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹک) سگنلزکا سراغ لگایا جا سکے۔ تاہم برطانیہ کی یونیورسٹی آف مانچسٹر کے ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اب تک ہماری تلاش کا رخ ہی غلط رہا ہے۔ ہمیں خلائی مخلوق اس لیے نہیں مل رہی کیونکہ ہم غلط ریڈیو فریکوئنسی یا غلط ریڈیو چینل پر تلاش کر رہے ہیں۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر لوئیزا میسن کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں سے ''سیٹی‘‘ (SETI) پروگرام کے تحت خلائی مخلوق کی تلاش ریڈیو اسپیکٹرم کے صرف ایک نسبتاً محدود حصے پر مرکوز رہی ہے۔ ماضی میں ہونے والے تقریباً تمام ریڈیو سروے زیادہ تر 1.42 سے 1.66 گیگا ہرٹز کے درمیان موجود ریڈیو فریکوئنسیوں تک ہی محدود رہے ہیں۔
ڈاکٹر لوئیزا میسن کا کہنا ہے کہ خلائی مخلوق کی تلاش کو زیادہ مؤثر بنانے کیلئے سائنسدانوں کوتلاش کے دائرہ کار کو ایک نئے پیرامیٹر اسپیس تک وسعت دینی چاہیے۔ محققین کو نسبتاً زیادہ بلند ریڈیو فریکوئنسیوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے، جہاں اب تک ہماری توجہ نہیں گئی۔