کائنات کے پراسرار ذرات کی نئی کہانی
اسپیشل فیچر
چین کے تجربے نے سائنس کو کیا بتایا؟
کائنات بے شمار راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ انسان صدیوں سے ستاروں، کہکشاؤں اور مادے کی بنیادی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن بعض ایسے ذرات بھی ہیں جو آج تک سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے پراسرار ذرات نیوٹرینو (Neutrinos) ہیں جنہیں اکثر گھوسٹ پارٹیکلز بھی کہا جاتا ہے۔ حال ہی میں چین میں قائم ایک دیوقامت زیرِ زمین تجربہ گاہ نے ان ذرات کے بارے میں اپنے پہلے اہم تحقیقاتی نتائج جاری کیے ہیں جنہیں فزکس کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وہ ذرات جو ہمارے جسم سے گزر جاتے ہیں
نیوٹرینو کائنات کے سب سے زیادہ پائے جانے والے ذرات میں شمار ہوتے ہیں۔یہ ذرات تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ہونے والے عظیم دھماکے یعنی بگ بینگ کے فوراً بعد وجود میں آئے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہر لمحے کھربوں نیوٹرینو ہمارے جسموں سے گزر رہے ہوتے ہیں مگر ہمیں ان کا احساس تک نہیں ہوتا کیونکہ یہ مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ان ذرات کا وزن انتہائی کم ہے یہاں تک کہ کئی دہائیوں تک سائنسدان سمجھتے رہے کہ شاید ان کا کوئی وزن ہے ہی نہیں۔ تاہم بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کا وزن ضرور ہے مگر یہ اتنا کم ہے کہ اسے ناپنا انتہائی مشکل ہے۔نیوٹرینو تین اقسام یا فلیورز میں پائے جاتے ہیں: الیکٹران نیوٹرینو، میون نیوٹرینو اور ٹاؤ نیوٹرینو۔ ان کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ سفر کے دوران یہ ایک قسم سے دوسری قسم میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں، جسے نیوٹرینو آسلیشن کہا جاتا ہے۔
چین کا زیرِ زمین تجربہ کیا تھا؟
چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر کائی پنگ میں قائم جیانگ مین انڈر گراؤنڈ نیوٹرینو آبزرویٹری (JUNO) دنیا کے جدید ترین سائنسی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ تجربہ گاہ زمین کی سطح سے تقریباً 700 میٹر نیچے تعمیر کی گئی ہے تاکہ کائناتی شعاعوں اور دیگر بیرونی اثرات سے اسے محفوظ رکھا جا سکے۔اس عظیم تجربہ گاہ کے مرکز میں 20 ہزار ٹن مائع پر مشتمل ایک دیوقامت کروی ڈٹیکٹر نصب ہے۔ یہ ڈیٹیکٹر قریبی جوہری بجلی گھروں سے خارج ہونے والے اینٹی نیوٹرینو کو ریکارڈ کرتا ہے۔ جب یہ اینٹی نیوٹرینو ڈیٹیکٹر کے اندر موجود ذرات سے ٹکراتے ہیں تو روشنی کی معمولی سی چمک پیدا ہوتی ہے جسے حساس آلات ریکارڈ کر لیتے ہیں۔یہ روشنی کی معمولی چمک سائنسدانوں کے لیے انتہائی قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے کیونکہ اسی کے ذریعے وہ نیوٹرینو کی خصوصیات اور رویوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔
پہلی تحقیق سے کیا انکشاف ہوا؟
جونو آبزرویٹری نے گزشتہ سال اگست میں اپنے مشاہداتی کام کا آغاز کیا تھا اور صرف دو ماہ کے ڈیٹا کے بعد اس کے ابتدائی نتائج سامنے آگئے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن اس نے نیوٹرینو کے رویوں کی اب تک کی سب سے درست پیمائشوں میں سے بعض فراہم کی ہیں۔سائنسدان کئی دہائیوں سے ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ تینوں نیوٹرینو اقسام میں سے سب سے زیادہ وزنی کون سی ہے اور سب سے ہلکی کون سی؟ موجودہ معلومات کے مطابق دو نیوٹرینو تقریباً ایک جیسا وزن رکھتے ہیں جبکہ تیسرا ان سے مختلف ہے، مگر ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا دو بھاری ہیں اور ایک ہلکا ہے یا معاملہ اس کے برعکس ہے۔JUNO کے ابتدائی نتائج نے اس سوال کا جواب تو نہیں دیا لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ تجربہ گاہ مستقبل میں اس معمہ کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
کائنات کے رازوں تک رسائی کی امید
نیوٹرینو کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا محض ایک سائنسی تجسس نہیں بلکہ یہ کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے کی کنجی بھی ہو سکتا ہے۔اگر نیوٹرینو کی درست کمیت اور ان کے رویوں کو سمجھ لیا جائے تو اس سے یہ سوال حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کائنات میں مادہ،اینٹی میٹر (Antimatter) کے مقابلے میں زیادہ کیوں موجود ہے۔اسی طرح یہ تحقیق کائنات کی ابتدائی ساخت، ستاروں کے ارتقا اور بنیادی طبیعیاتی قوانین کے بارے میں ہمارے موجودہ نظریات میں بھی بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔JUNO کے نتائج کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ آئندہ برسوں میں جاپان کا ہائپر کامی اوکانڈے اور امریکہ کا ڈیپ انڈر گراؤنڈ نیوٹرینو ایکسپیریمنٹ بھی اپنے تجربات شروع کریں گے۔ مختلف ممالک میں ہونے والی یہ تحقیقات ایک دوسرے کے نتائج کی تصدیق کریں گی اور ممکن ہے کہ آنے والے دس برسوں میں نیوٹرینو کے کئی بڑے راز بے نقاب ہو جائیں۔سائنس کی تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات بظاہر معمولی ذرات پوری کائنات کے بارے میں ہمارے نظریات بدل دیتے ہیں۔ نیوٹرینو بھی شاید ایسا ہی ایک ذرہ ہے۔ چین کی یہ زیرِ زمین تجربہ گاہ اس بات کی امید دلا رہی ہے کہ انسان جلد ہی کائنات کے ان ذرات کی پراسرار دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو جائے گا اور ممکن ہے کہ انہی ذرات کی بدولت ہمیں کائنات کی تخلیق اور اس کے ارتقا کے کئی پوشیدہ رازوں تک رسائی حاصل ہو جائے۔