کائنات کے پراسرار ذرات کی نئی کہانی

کائنات کے پراسرار ذرات کی نئی کہانی

اسپیشل فیچر

تحریر : وقاص ریاض


چین کے تجربے نے سائنس کو کیا بتایا؟
کائنات بے شمار راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ انسان صدیوں سے ستاروں، کہکشاؤں اور مادے کی بنیادی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن بعض ایسے ذرات بھی ہیں جو آج تک سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے پراسرار ذرات نیوٹرینو (Neutrinos) ہیں جنہیں اکثر گھوسٹ پارٹیکلز بھی کہا جاتا ہے۔ حال ہی میں چین میں قائم ایک دیوقامت زیرِ زمین تجربہ گاہ نے ان ذرات کے بارے میں اپنے پہلے اہم تحقیقاتی نتائج جاری کیے ہیں جنہیں فزکس کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وہ ذرات جو ہمارے جسم سے گزر جاتے ہیں
نیوٹرینو کائنات کے سب سے زیادہ پائے جانے والے ذرات میں شمار ہوتے ہیں۔یہ ذرات تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ہونے والے عظیم دھماکے یعنی بگ بینگ کے فوراً بعد وجود میں آئے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہر لمحے کھربوں نیوٹرینو ہمارے جسموں سے گزر رہے ہوتے ہیں مگر ہمیں ان کا احساس تک نہیں ہوتا کیونکہ یہ مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ان ذرات کا وزن انتہائی کم ہے یہاں تک کہ کئی دہائیوں تک سائنسدان سمجھتے رہے کہ شاید ان کا کوئی وزن ہے ہی نہیں۔ تاہم بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کا وزن ضرور ہے مگر یہ اتنا کم ہے کہ اسے ناپنا انتہائی مشکل ہے۔نیوٹرینو تین اقسام یا فلیورز میں پائے جاتے ہیں: الیکٹران نیوٹرینو، میون نیوٹرینو اور ٹاؤ نیوٹرینو۔ ان کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ سفر کے دوران یہ ایک قسم سے دوسری قسم میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں، جسے نیوٹرینو آسلیشن کہا جاتا ہے۔
چین کا زیرِ زمین تجربہ کیا تھا؟
چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر کائی پنگ میں قائم جیانگ مین انڈر گراؤنڈ نیوٹرینو آبزرویٹری (JUNO) دنیا کے جدید ترین سائنسی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ تجربہ گاہ زمین کی سطح سے تقریباً 700 میٹر نیچے تعمیر کی گئی ہے تاکہ کائناتی شعاعوں اور دیگر بیرونی اثرات سے اسے محفوظ رکھا جا سکے۔اس عظیم تجربہ گاہ کے مرکز میں 20 ہزار ٹن مائع پر مشتمل ایک دیوقامت کروی ڈٹیکٹر نصب ہے۔ یہ ڈیٹیکٹر قریبی جوہری بجلی گھروں سے خارج ہونے والے اینٹی نیوٹرینو کو ریکارڈ کرتا ہے۔ جب یہ اینٹی نیوٹرینو ڈیٹیکٹر کے اندر موجود ذرات سے ٹکراتے ہیں تو روشنی کی معمولی سی چمک پیدا ہوتی ہے جسے حساس آلات ریکارڈ کر لیتے ہیں۔یہ روشنی کی معمولی چمک سائنسدانوں کے لیے انتہائی قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے کیونکہ اسی کے ذریعے وہ نیوٹرینو کی خصوصیات اور رویوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔
پہلی تحقیق سے کیا انکشاف ہوا؟
جونو آبزرویٹری نے گزشتہ سال اگست میں اپنے مشاہداتی کام کا آغاز کیا تھا اور صرف دو ماہ کے ڈیٹا کے بعد اس کے ابتدائی نتائج سامنے آگئے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن اس نے نیوٹرینو کے رویوں کی اب تک کی سب سے درست پیمائشوں میں سے بعض فراہم کی ہیں۔سائنسدان کئی دہائیوں سے ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ تینوں نیوٹرینو اقسام میں سے سب سے زیادہ وزنی کون سی ہے اور سب سے ہلکی کون سی؟ موجودہ معلومات کے مطابق دو نیوٹرینو تقریباً ایک جیسا وزن رکھتے ہیں جبکہ تیسرا ان سے مختلف ہے، مگر ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا دو بھاری ہیں اور ایک ہلکا ہے یا معاملہ اس کے برعکس ہے۔JUNO کے ابتدائی نتائج نے اس سوال کا جواب تو نہیں دیا لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ تجربہ گاہ مستقبل میں اس معمہ کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
کائنات کے رازوں تک رسائی کی امید
نیوٹرینو کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا محض ایک سائنسی تجسس نہیں بلکہ یہ کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے کی کنجی بھی ہو سکتا ہے۔اگر نیوٹرینو کی درست کمیت اور ان کے رویوں کو سمجھ لیا جائے تو اس سے یہ سوال حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کائنات میں مادہ،اینٹی میٹر (Antimatter) کے مقابلے میں زیادہ کیوں موجود ہے۔اسی طرح یہ تحقیق کائنات کی ابتدائی ساخت، ستاروں کے ارتقا اور بنیادی طبیعیاتی قوانین کے بارے میں ہمارے موجودہ نظریات میں بھی بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔JUNO کے نتائج کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ آئندہ برسوں میں جاپان کا ہائپر کامی اوکانڈے اور امریکہ کا ڈیپ انڈر گراؤنڈ نیوٹرینو ایکسپیریمنٹ بھی اپنے تجربات شروع کریں گے۔ مختلف ممالک میں ہونے والی یہ تحقیقات ایک دوسرے کے نتائج کی تصدیق کریں گی اور ممکن ہے کہ آنے والے دس برسوں میں نیوٹرینو کے کئی بڑے راز بے نقاب ہو جائیں۔سائنس کی تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات بظاہر معمولی ذرات پوری کائنات کے بارے میں ہمارے نظریات بدل دیتے ہیں۔ نیوٹرینو بھی شاید ایسا ہی ایک ذرہ ہے۔ چین کی یہ زیرِ زمین تجربہ گاہ اس بات کی امید دلا رہی ہے کہ انسان جلد ہی کائنات کے ان ذرات کی پراسرار دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو جائے گا اور ممکن ہے کہ انہی ذرات کی بدولت ہمیں کائنات کی تخلیق اور اس کے ارتقا کے کئی پوشیدہ رازوں تک رسائی حاصل ہو جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
16جون:خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن

16جون:خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن

سمندر پارکارکن،معیشت کے خاموش ہیروہر سال 16 جون کو دنیا بھر میں خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن (International Day of Family Remittances) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان تارکینِ وطن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو اپنے وطن سے دور رہ کر نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ اپنے ملکوں کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (IFAD) کے مطابق ترسیلاتِ زر دنیا بھر میں غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ملک عزیزپاکستان کے لیے بھی اس دن کی خاص اہمیت ہے کیونکہ سمندر پار پاکستانی کارکنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار رکھتی ہیں۔قومی معیشت کا مضبوط سہارااس وقت ایک کروڑ سے زائد پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔ ان میں بڑی تعداد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، برطانیہ اور امریکہ میں کام کر رہی ہے۔ ان پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر لاکھوں خاندانوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کے استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔پاکستان کی معیشت کو گزشتہ چند برسوں سے بلند درآمدی بل، بیرونی قرضوں کی ادائیگی، تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ایسے میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر ملک کے لیے ایک مضبوط معاشی ڈھال ثابت ہوئی ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق ترسیلاتِ زر نہ صرف جاری کھاتوں کے خسارے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ روپے کے استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 ء کے پہلے گیارہ ماہ، یعنی جولائی 2025ء سے مئی 2026ء تک، بیرونِ ملک پاکستانی 38.1 ارب ڈالر وطن بھیج چکے ہیں۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ رواں مالی سال ترسیلاتِ زر ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کر سکتی ہیں۔صرف مئی 2026ء میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 4.3 ارب ڈالر وطن بھیجے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی مہینے کے دوران موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کی بلند ترین سطح ہے۔ اس سے قبل مارچ 2025 میں 41 کروڑ ڈالر کی ترسیلات ریکارڈ کی گئی تھیں، تاہم مئی 2026ء میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔گزشتہ مالی سال میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے مجموعی طور پر38.3 ارب ڈالر وطن بھیجے تھے جو اُس وقت تک ملکی تاریخ کی بلند ترین سالانہ ترسیلات تھیں۔ تاہم موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا رہی ہے کہ مالی سال 2025-26 ء کے اختتام تک یہ ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔ترسیلاتِ زر کے معاشی اور سماجی فوائدترسیلاتِ زر کے فوائد صرف زرمبادلہ کے ذخائر تک محدود نہیں، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم لاکھوں خاندانوں کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ان رقوم سے بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، رہائش، کاروبار اور دیگر ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں چھوٹے کاروباروں کے فروغ، گھروں کی تعمیر اور غربت میں کمی میں ترسیلاتِ زر کا بنیادی کردار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ہنرمند افرادی قوت کی بیرونِ ملک برآمد میں اضافہ کرے اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے مزید سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے تو ملک کو سالانہ کئی ارب ڈالر اضافی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ نے بھی قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کی حوصلہ افزائی کی ہے۔سمندر پار پاکستانی قومی ہیروخاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی صرف اپنے خاندانوں کے کفیل نہیں بلکہ ملکی معیشت کے بڑے معاون بھی ہیں۔ ان کی محنت، قربانی اور وطن سے محبت کی بدولت پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کو قومی سرمایہ سمجھتے ہوئے ان کے لیے بہتر سہولتیں، سرمایہ کاری کے مواقع اور مؤثر قونصلر خدمات فراہم کرے۔آج جب پاکستان معاشی استحکام کی جانب سفر کر رہا ہے تو اس میں سمندر پار پاکستانیوں کا کردار کسی بھی شعبے سے کم نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پاکستانی اپنے وطن سے دور رہ کر بھی پاکستان کی معیشت کے خاموش مگر مضبوط ہیرو ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

سپین کی برطانیہ کے خلاف جنگ 16 جون 1779ء کو سپین نے برطانیہ کے خلاف جنگ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی اور یوں اس جنگ کا آغاز ہوا جو1783ء تک جاری رہی۔ اس جنگ کا تعلق امریکی جنگِ آزادی کے وسیع تر عالمی تناظر سے بھی تھا، جہاں یورپی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف محاذوں پر سرگرم تھیں۔ سپین نے فرانس کے ساتھ اتحاد کیا تاکہ برطانیہ کی بحری اور نوآبادیاتی طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔سپین کی شمولیت نے جنگ کا دائرہ مزید وسیع کر دیا اور برطانیہ کو ایک سے زیادہ محاذوں پر لڑنے پر مجبور کر دیا۔ ہسپانوی بحریہ نے بحرِ اوقیانوس اور بحیرہ روم میں برطانوی مفادات کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ سپین جبرالٹر واپس حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا تاہم اس نے فلوریڈا جیسے اہم علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ پہلی خاتون کا خلا میں سفر16 جون 1963ء کو سوویت یونین نے خلائی مشن وستوک 6 کامیابی سے خلا میں روانہ کیا۔ اس مشن کی پائلٹ ویلنٹینا ٹیرشکووا تھیں جو خلا میں جانے والی دنیا کی پہلی خاتون بنیں۔انہوں نے تقریباً تین دن خلا میں گزارے اور زمین کے گرد 48 چکر لگائے۔ اس دوران انہوں نے سائنسی تجربات کیے اور انسانی جسم پر خلائی ماحول کے اثرات کے بارے میں اہم ڈیٹا جمع کیا۔ یہ مشن سوویت یونین کے لیے ایک بڑی سائنسی اور سیاسی کامیابی تھا۔یہ واقعہ خواتین کے لیے سائنس اور خلائی تحقیق کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بنا اور آج بھی عالمی خلائی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سوویٹو بغاوت 16 جون 1976ء کو جنوبی افریقہ کے علاقے سوویٹو میں ہزاروں سیاہ فام طلبہ نے نسل پرستانہ تعلیمی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ حکومت نے طلبہ کو افریقی زبان میں تعلیم دینے کا فیصلہ کیا تھا جسے انہوں نے اپنی ثقافتی شناخت پر حملہ قرار دیا۔پرامن احتجاج کے دوران پولیس نے فائرنگ کر دی جس سے متعدد طلبہ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس واقعے کی تصاویر پوری دنیا میں پھیل گئیں اور جنوبی افریقہ کی حکومت کو شدید عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔یہ احتجاج بعد میں نسل پرستی کے خلاف عالمی تحریک کی علامت بن گیا اور جنوبی افریقہ میں آزادی کی جدوجہد کو مزید تقویت ملی۔ بلومز ڈے 16 جون کو دنیا بھر میں Bloomsday منایا جاتا ہے۔ یہ دن آئرش ادیب جیمز جوائس کے مشہور ناول Ulysses کے مرکزی کردار لیوپولڈ بلوم کے ایک دن (16 جون 1904) کی یاد میں منایا جاتا ہے۔یہ ادبی دن پہلی بار 1954ء میں منایا گیا اور بعد میں دنیا کے مختلف ممالک تک پھیل گیا۔ اس دن ادبی تقریبات، ریڈنگ سیشنز اور جیمز جوائس کے ناول کے اقتباسات پڑھے جاتے ہیں۔یہ واقعہ ادب کی دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد تہوار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ کسی افسانوی دن کو عالمی سطح پر یادگار بنانے کی مثال ہے۔ شین ذو 9 مشن 16 جون 2012 ء کو چین نے خلائی مشنShenzhou 9 لانچ کیا۔ اس مشن میں لیو یانگ شامل تھیں جو خلا میں جانے والی چین کی پہلی خاتون بنیں۔اس مشن کے دوران خلائی سٹیشن کے ماڈیول کے ساتھ ڈاکنگ اور مختلف سائنسی تجربات کیے گئے۔ یہ چین کے خلائی پروگرام کی بڑی کامیابی تھی اور اس نے ملک کی تکنیکی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔۔لیو یانگ کی کامیابی نے چین میں خواتین کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئے امکانات پیدا کیے۔

خلا کے عظیم گھر کا آخری سفر!

خلا کے عظیم گھر کا آخری سفر!

2030ء تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو محفوظ طریقے سے تباہ کرنے کا منصوبہدو دہائیوں سے زائد عرصے تک انسان کی خلائی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کی علامت رہنے والا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اب اپنی عمر کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ دنوں میں خلائی اسٹیشن میں ہونے والی ایک نئی لیک کے بعد اس کی سلامتی اور مستقبل کے حوالے سے خدشات نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔ انہی خدشات کے درمیان امریکی خلائی ادارے ناسا نے 2030ء تک آئی ایس ایس کو باقاعدہ طور پر مدار سے نکال کر زمین کے ماحول میں تباہ کرنے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے، جس پر تقریباً ایک ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور غیر معمولی آپریشن ہو گا، جس کا مقصد خلائی اسٹیشن کے ملبے کو محفوظ انداز میں زمین کے ایک دور افتادہ سمندری علاقے میں گرانا ہے تاکہ انسانی آبادی اور ماحول کو کسی قسم کے خطرے سے بچایا جا سکے۔بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہلے خلابازوں کی آمد کو 25 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اور اب زمین کے گرد مدار میں گردش کرنے والی اس خلائی چوکی کیلئے وقت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ناسا کے خلابازوں کو ہنگامی انخلا کی تیاری کا حکم دیا گیا، جبکہ روسی خلانورد نے لیک کو درست کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ بالآخر کسی ہنگامی فرار کی ضرورت پیش نہیں آئی، تاہم اس خطرناک صورتحال نے یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ خلائی سٹیشن اب اپنی عمر کے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔خلائی ماہرین نے اس ایک ارب ڈالر مالیت کے منصوبے کی تفصیلات بیان کی ہیں جس کے تحت خلائی اسٹیشن کو زمین پر واپس لا کر تباہ کیا جائے گا۔ فضائی و خلائی شعبے کی کانفرنس ''ایسنڈ 2026ء‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ناسا کے آپریشنز ڈائریکٹر ریان لینڈن نے کہا کہ آئی ایس ایس کو 2028ء کے دوران بتدریج زمین کی جانب دھکیلا جائے گا۔4لاکھ 50ہزار کلوگرام وزن رکھنے والے اس خلائی اسٹیشن کو اگر وقتاً فوقتاً اوپر کی جانب دھکیلا نہ جائے تو یہ آہستہ آہستہ اپنے مدار سے نیچے آنے لگتا ہے۔ خلائی اسٹیشن کو قدرتی طور پر مدار سے خارج ہونے دینا ایک بے قابو واپسی کا سبب بن سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کا ملبہ زمین کے مختلف حصوں میں بکھرنے سے جانی و مالی نقصان کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔اسی لیے ناسا منصوبہ بندی کے تحت خلائی اسٹیشن کو مدار سے باہر دھکیلے گا، تاکہ اس کا ملبہ بحرالکاہل کے دور افتادہ اور غیر آباد سمندری علاقے میں گرایا جا سکے۔بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اور اس میں موجود سات خلاباز زمین سے تقریباً 250 میل (400 کلومیٹر) کی بلندی پر مدار میں گردش کر رہے ہیں۔اس نسبتاً کم بلندی والے مدار کو برقرار رکھنے کیلئے خلائی اسٹیشن کو انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کرنا پڑتی ہے۔ یہ تقریباً 28ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے اور روزانہ 16 مرتبہ زمین کا چکر لگاتا ہے۔ اس دوران اسے مدار میں رکھنے کیلئے کئی بار اوپر کی جانب دھکیلا جاتا ہے تاکہ وہ نیچے نہ گرنے لگے۔ تاہم ناسا کا منصوبہ ہے کہ 2028ء سے اس عمل کو قدرتی انداز میں جاری رہنے دیا جائے۔ اگر اس عمل کو بغیر مداخلت کے جاری رہنے دیا جائے تو بالآخر خلائی اسٹیشن زمین کی فضا میں داخل ہو جائے گا، جہاں رگڑ کے باعث پیدا ہونے والی شدید حرارت اس کے بیشتر حصوں کو جلا کر ختم کر دے گی۔لیکن آئی ایس ایس جیسے بڑے حجم کے حامل خلائی ڈھانچے کیلئے اس قسم کی بے قابو واپسی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔برطانیہ میں قائم خلائی مشاورتی ادارے بیلسٹیڈ ریسرچ (Belstead Research) کے ڈائریکٹر اور خلائی ملبے کے ماہر ڈاکٹر جیمز بیک کے مطابق یہ یقینی ہے کہ اس کے کچھ حصے زمین کی سطح تک پہنچ جائیں گے، اور غالب امکان ہے کہ ایسے حصوں کی تعداد خاصی زیادہ ہو گی۔اب بھی سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ خلائی اسٹیشن کے کتنے حصے زمین تک پہنچیں گے اور آیا ان پر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے گا یا نہیں۔ ڈاکٹر جیمز بیک کے مطابق خلائی جہازوں کی زمین پر واپسی کیلئے بین الاقوامی سطح پر حادثاتی جانی نقصان کے خطرے کی ایک حد مقرر ہے، جو دس ہزار میں ایک سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ عام طور پر یہ حد اس وقت اہم ہو جاتی ہے جب کسی خلائی جہاز یا مصنوعی سیارے کا وزن تقریباً 500 سے ایک ہزارکلوگرام کے درمیان ہو، جبکہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا وزن تقریباً 450 ٹن ہے۔ڈاکٹر بیک کا کہنا ہے کہ یہ توقع کی جانی چاہیے کہ اس عمل کے نتیجے میں چند سو ایسے ٹکڑے پیدا ہوں گے جو زمین پر گرنے کی صورت میں جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ چونکہ خلائی ادارے اس بات کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکتے کہ کتنا ملبہ زمین تک پہنچے گا، اس لیے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ملبہ کس مقام پر گرے، اس پر مکمل اور درست کنٹرول رکھا جائے تاکہ کسی انسان کو نقصان نہ پہنچے۔اسی مقصد کیلئے خلائی اسٹیشن کو اس کے مدار میں ایک مخصوص مقام پر پیچھے کی جانب دھکا دیا جائے گا، جس سے اس کی رفتار کم ہو جائے گی اور وہ بتدریج زمین کی طرف اترتے ہوئے بحرالکاہل کے ایک غیر آباد اور دور افتادہ علاقے میں جا گرے گا۔آئی ایس ایس کو زمین پر واپس کیسے لایا جائے گا؟٭...2028ء سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کو بتدریج اپنے مدار سے نیچے آنے دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں اس کی بلندی زمین سے 250 میل سے کم ہو کر تقریباً 200 میل رہ جائے گی۔٭...2029ء میں خلائی اسٹیشن پر موجود آخری انسانی عملہ اسے چھوڑ دے گا اور اپنے ساتھ وہ تمام اشیا لے جائے گا جو تاریخی اہمیت کی حامل ہوں اور جنہیں لے جانا ممکن ہو۔٭...اس کے بعد جب آئی ایس ایس کی بلندی 200 میل سے کم ہو کر 175 میل تک پہنچ جائے گی تو اسپیس ایکس کے ترمیم شدہ ڈریگن (Dragon) خلائی کیپسول کو اسٹیشن کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔٭...جب خلائی اسٹیشن 175 میل کی اس بلندی پر پہنچ جائے گا، جسے واپسی کے ''ناقابلِ واپسی مرحلے‘‘(Point Of No Return) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تو ڈریگن کیپسول آئی ایس ایس کو ایک بیضوی (Elliptical) مدار میں لے جانے کا عمل شروع کرے گا۔٭...مناسب وقت آنے پر یہ خلائی گاڑی خلائی اسٹیشن کو آخری طاقتور دھکا دے گی، جس کے نتیجے میں یہ نصف مدار سے بھی کم وقت میں زمین کی فضا کی جانب بڑھنے لگے گا۔٭...آخرکار آئی ایس ایس اور اسے نیچے لانے والی خلائی گاڑی تقریباً 17ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی فضا میں داخل ہوں گے، جہاں شدید حرارت اور رگڑ کے باعث دونوں بڑی حد تک تباہ ہو جائیں گے۔

مقبرہ جہانگیر۔۔ مغلیہ سلطنت کا خاموش امین

مقبرہ جہانگیر۔۔ مغلیہ سلطنت کا خاموش امین

لاہور کے نواح میں واقع مقبرہ جہانگیر مغلیہ دور کی عظمت، شان و شوکت اور فن تعمیر کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔ صدیوں پر محیط تاریخ کا یہ خاموش امین آج بھی اپنے بلند و بالا میناروں، نفیس سنگِ مرمر کی نقش و نگاری اور دلکش باغات کے ذریعے ماضی کی داستانیں سناتا دکھائی دیتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی آخری آرام گاہ کے طور پر تعمیر کیا گیا یہ مقبرہ نہ صرف ایک تاریخی یادگار ہے بلکہ برصغیر کی تہذیبی اور ثقافتی وراثت کا قیمتی سرمایہ بھی شمار ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود اس کی دلکشی اور تاریخی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی، یہی وجہ ہے کہ یہ مقام ملکی و غیر ملکی سیاحوں، محققین اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا۔ 1605ء میں تخت نشین ہوا اورتقریباً ساڑھے اکیس سال حکومت کر کے8 نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا۔ اُسے دریائے راوی کے کنارے واقع ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا کے وسط میں دفن کیا گیا۔ اس باغ کو باغ دلاآمیز بھی کہا جاتاہے۔ جہانگیر کا مقبرہ اُس کے بیٹے شاہجہاں نے بنوایا تھا۔مقبرہ جہانگیر کو مغلیہ عہد میں تعمیر کئے گئے مقابر میں اہم مقام حاصل ہے۔ دریائے راوی کے دوسرے کنارے یعنی شاہدرہ کی طرف سے لاہور آئیں تو مغلیہ دور کی تعمیرات میں سے مقبرہ جہانگیر، مقبرہ آصف جاہ اور ملکہ نور جہاں کا مقبرہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کا شمار مغلوں کی تعمیر کردہ حسین یادگاروں میں ہوتا ہے۔مقبرہ جہانگیر باغ ''دلکشا‘‘ میں واقع ہے۔ باغ دلکشا نواب مہدی قاسم کی ملکیت تھا جو اکبر بادشاہ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا۔ اس نے یہ باغ 1556ء میں دریائے راوی کے پار بنوایا تھا۔ نواب مہدی خاں کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اب لوگ باغ دلکشا کا نام بھول چکے ہیں اور اس ساری جگہ کو مقبرہ جہانگیر ہی کہا جاتا ہے۔ مقبرہ جہانگیر کی تعمیر کا آغاز ملکہ نور جہاں نے کیا تھا اور شاہ جہاں نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ شہنشاہ اکبر کی وفات 1605ء میں ہوئی تو اس کا بیٹا جہانگیر ''نور الدین جہانگیر‘‘ کے لقب کے ساتھ تخت نشیں ہوا۔ اس نے کئی اصلاحات کیں۔ فریادیوں کی داد رسی کیلئے اپنے محل کی دیوار کے ساتھ ایک زنجیر لگوا دی جسے '' زنجیرِ عدل‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس کے ذریعے ہر کوئی اپنی شکایت باآسانی بادشاہ تک پہنچا سکتا تھا۔ شہنشاہ جہانگیر نے حکم دیا کہ شاہراہوں پر سرائے، کنویں اور مساجد تعمیر کی جائیں۔شہنشاہ جہانگیر کو بھی اپنے باپ اکبر کی طرح لاہور سے بہت زیادہ لگائو تھا۔ 1624ء میں جب کشمیر کے سفر کے دوران اس کی وفات ہوئی تو اس نے وفات سے قبل لاہور میں دفن کیے جانے کی خواہش ظاہر کی تھی چنانچہ اسے چہیتی بیگم ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا میں دفن کیا گیا۔ شاہ جہاں نے مقبرے کی تعمیر پر دس لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔ قرآن پاک پڑھنے کیلئے حفاظ مقرر کئے گئے جو باری باری ہر وقت مزار پر قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔ مقبرہ جہانگیر کی حدود میں ملکہ نور جہاں نے ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی تھی۔ یہاں نور جہاں نے کافی عرصہ رہائش بھی اختیار کی اس لیے یہاں رہائشی عمارات بھی تعمیر کی گئی تھیں۔ ملکہ نور جہاں اور شہنشاہ جہانگیر کے مقبرے ایک ہی رقبے میں تھے لیکن جب انگریزوں نے ان کے درمیان ریلوے لائن بچھائی تو مقبرہ جہانگیر اور مقبرہ نور جہاں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔مقبرہ جہانگیر کے چاروں کونوں پر خوبصورت مینار موجود ہیں۔ ہر مینار سو فٹ بلند ہے اور اس کی اکسٹھ سیڑھیاں ہیں۔ مقبرہ کی عمارت ایک مربع نما چبوترے پر ہے۔ قبر کا تعویز سنگ مرمر کا ہے اور اس پر عقیق، نیلم، مرجان اور دیگر قیمتی پتھروں سے گلکاری کی گئی ہے۔ دائیں اور بائیں اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام کندہ ہیں۔ سرہانے کی طرف بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہے۔ مزار کے چاروں جانب سنگ مرمر کی جالیاں لگی ہوئی ہیں۔ مقبرے کا اندرونی فرش سنگ مرمر، سنگ موسیٰ اور سنگ ابری جیسے مختلف قیمتی پتھروں سے مزین ہے۔ مقبرہ جہانگیر کا غربی دروازہ جس میں سے ہاتھی بمعہ سوار کے گزر سکتا تھا اور چار دیواری کے باہر جو کنویں تھے دریا برد ہو چکے ہیں صرف ایک کنواں موجود ہے۔ باغ کے اندر آج بھی کھجور کے قدیم درخت موجود ہیں۔ باغ کی دیواروں کے ساتھ کمروں کی ایک لمبی قطار موجود ہے جہاں شاہی محافظ، سپاہی اور خدام رہا کرتے تھے۔نادر شاہ اور احمد شاہ کے حملوں اور سکھوں کے دور میں مقبرہ جہانگیر کو بہت نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود یہ عمارت آج بھی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنی عہدِ رفتہ کی یاد دلاتی ہے۔

بیمار غوطہ خور نے تاریخ رقم کر دی

بیمار غوطہ خور نے تاریخ رقم کر دی

ایک سانس میں پانی کے اندر طویل ترین چہل قدمیاپنی جسمانی کمزوری اور بیماری کے باوجود ایک غوطہ خور نے انسانی حوصلے اور عزم کی نئی مثال قائم کر دی ہے۔ اس نے ایک ہی سانس میں پانی کے اندر طویل ترین پیدل چہل قدمی کا اپنا ہی سابقہ عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ یہ کارنامہ نہ صرف اس کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ مسلسل محنت اور مضبوط ارادے کے ذریعے ناممکن دکھائی دینے والے ہدف بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اس حیران کن کامیابی نے عالمی سطح پر کھیلوں کے شائقین اور ماہرین کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔پولینڈ سے تعلق رکھنے والے غوطہ خور سٹانسلاء اوبڈیزیلک (Stanislaw Odbiezalek) نے ایک ہی سانس میں پانی کے اندر طویل ترین چہل قدمی کا اپنا سابقہ ریکارڈ 110.70 میٹر (363.18 فٹ) سے بڑھا کر 120.10 میٹر (394 فٹ) کر دیا۔یہ کارنامہ اس وقت اور بھی زیادہ متاثر کن ہو جاتا ہے جب معلوم ہو کہ سٹانسلاء اس وقت برونکائٹس (bronchitis) جیسے مرض میں مبتلا ہیں۔انہوں نے مارچ میں اپنی تازہ کوشش کی تیاری کے دوران کہا تھا کہ میں خود کو 100 فیصد ٹھیک محسوس نہیں کر رہا لیکن اتنی زیادہ تیاری کے بعد میں اس موقع کو ضائع نہیں کر سکتا۔ میرا خیال ہے کہ جسم اس برونکیل انفیکشن پر قابو پانے کیلئے کافی مضبوط ہے، اور ہم بس جا کر یہ کر دیں گے۔ مجھے یہ کرنا ہے۔ سٹانسلاء نے بتایا کہ وہ تقریباً ڈیڑھ سال سے اس مقابلے کی تیاری کر رہے تھے اور اس دوران وہ سخت محنت کرتے رہے تاکہ اپنے پھیپھڑوں کی صلاحیت کو مزید بڑھا سکیں اور ایک سانس میں زیادہ طویل فاصلہ طے کر سکیں۔اس ریکارڈ کو حاصل کرنے کیلئے سٹانسلاء کو ایک سوئمنگ پول کی تہہ تک ڈوبنا پڑتا ہے اور ایک ہی سانس روک کر زیادہ سے زیادہ لمبائی تک چلنا ہوتا ہے۔ جس لمحے وہ سانس لینے کیلئے پانی کی سطح پر واپس آتا ہے اور سانس لیتا ہے، اسی وقت اس کی کوشش ختم ہو جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹریننگ ضرورت سے زیادہ سخت تھی اور یہ ایک اچھی بات ثابت ہوئی، کیونکہ معلوم ہوا کہ گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے سے ایک ہفتہ پہلے مجھے برونکائٹس ہو گیا تھا۔ اس لیے مجھے یہ کوشش اب اسی وقفے میں کرنی ہے جب مجھے کھانسی نہیں آ رہی۔ یہ مشکل ہوگا، لیکن میں کوشش کروں گا۔ میں خوش ہوں کیونکہ آج جو کچھ ہوا وہ واقعی ناقابلِ یقین ہے۔ غوطہ لگانے سے بہت پہلے میں توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا اور اس بات کیلئے جدوجہد کر رہا تھا کہ کھانسی کچھ دیر کیلئے رک جائے اور گلے میں ہونے والی خراش کا احساس ختم ہو۔ جب ایسا مختصر وقفہ آیا اور سب کچھ تھوڑا بہتر ہوا تو میں نے کہا ''یہی لمحہ ہے‘‘۔ میں نے جا کر یہ کر دکھایا، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ میرے پاس تھوڑا سا اضافی مارجن موجود تھا۔ میں اس سے بھی آگے جا سکتا تھا، لیکن کون جانتا ہے، شاید ہم اگلے سال اس میں مزید بہتری لے آئیں۔اس نے وہی تکنیک استعمال کی جو اس نے پہلی بار ریکارڈ بنانے کیلئے اپنائی تھی، یعنی کولہوں سے جھک کر اپنے دھڑ کو افقی (horizontal) حالت میں رکھنا جب وہ چل رہا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے پر رکھ کر آگے کی طرف پھیلائے رکھے تاکہ پانی کی مزاحمت کم ہو سکے۔ اور وہ اپنے گھٹنوں کو موڑ کر پوری طاقت سے دھکا لگاتا تھا تاکہ آگے بڑھ سکے، اور ہر بار جب وہ پول کی دیوار تک پہنچتا تو اپنے ہاتھوں کی مدد سے خود کو موڑ لیتا تھا۔ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی ایک اسکوبا غوطہ خور ہر وقت اس کے ساتھ پانی کے اندر موجود تھا تاکہ اس کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کی کوشش کی ویڈیو بھی ریکارڈ کر سکے۔

اتوار

اتوار

وہ مبارک ومسعود دن جس کی قدر شاہ داند یا بداندجوہری ''یعنی یا تو عیسائی سمجھ سکتے ہیں یا ہمارے ایسے ملازمت پیشہ ان لوگوں کا یہاں ذکر ہی نہیں جو گھر بیٹھے شنبہ دوشنبہ‘‘ سب کو ایک ہی لاٹھی ہانکا کرتے ہیں اور ان کو خبربھی نہیں ہوتی کہ ہفتہ کے بعد کون سا دن آنے والا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ لوگ اتوار کی کیا قدر کرسکتے ہیں۔ ان کے نزدیک جیسے بدھ اور منگل ویسے ہی اتوار۔ اس اتوار کی قدر تو کوئی ہمارے دل سے پوچھے کہ یہی وہ دن ہے: ''دن گنے جاتے تھے جس دن کیلئے‘‘یقین کیجئے کہ اس دن کا انتظار پیر کے دن سے شروع ہوجاتا ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ ہمارے ایسے بیچارے ملازمت پیشہ خدا کے بندے اپنی ذاتی زندگی کا دن تمام ہفتہ صرف اتوار ہی کو سمجھتے ہیں، اس کے علاوہ باقی تمام دن کی بندگی اوربیچارگی میں اس طرح گزارتے ہیں کہ ہم کو اپنے انسان ہونے کا ایک دفعہ بھی احساس نہیں ہوتا، معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مشین ہے، اگر لکھنے والا بٹن دبا دیا گیا تو لکھ رہے ہیں، اگر بیٹھنے والا پرزہ چلا گیا تو بیٹھے ہوئے ہیں، مختصر یہ کہ صبح ہوتے ہیں دفتر آنا، دفتر میں ایک مقررہ خدمت انجام دینا شام کو دفتر سے جانا سب کچھ اس طرح ہوتا ہے کہاپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلےکی ایک متحرک تصویر معلوم ہوتے ہیں۔ ہم نے کبھی یہ غور نہیں کیا کہ علاوہ اتوار کے ہم انسان بھی رہتے ہیں یا نہیں اور نہ اس مسئلہ پر غور کرنے کا موقع ملا لیکن جب کبھی اتوار کے دن ہم نے اپنی زندگی پر غور کیا تو یہی نتیجہ نکلا کہ ہماری زندگی کے دن شمار کرنے والے جو چاہیں شمار کریں لیکن ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ بس اتوار کا دن تو ہماری زندگی کے دنوں میں شمار کئے جانے کے قابل ہے اس کے علاوہ باقی دن تو خدا جانے ہم زندگی بسرکرتے ہیں یا زندگی ہم کو بسر کرتی ہے اب اس سے اندازہ فرمائیے اگر بجائے بہادر شاہ ظفر کے آپ کے جناب غالب صاحب قبلہ ہم کو یہ دعا دیتے ہیں کہتم سلامت رہو ہزار برسہر برس کے ہوں دن پچاس ہزارتو یا تو ہم ان سے کہتے کہ قبلہ عالم یہ دعا آپ ہی کو مبارک رہے۔ ہم کو تو ایسی دعا دیجئے کہ ہماری جتنی زندگی بھی ہے اس میں چاہے کچھ تخفیف کردی جائے لیکن ہر دن اتوار بن جائے یا کم از کم ہفتہ میں دوتین مرتبہ تو اتوار آیا کرے۔ذرا غور تو فرمائیے کہ ایک اتوار کا دن ہفتہ بھر کے بعد آتا ہے جس میں معمولی دنوں کی طرح بارہ گھنٹے ہوتے ہیں۔ ان ہی بارہ گھنٹوں میں اپنی خوشی کھانا کھائے، اپنی خوشی نہائے، اپنی خوشی بال بنوائے، اپنی خوشی سیر کو جائیے اوراگر کہیں اپنی خوشی سے سو رہے تو تمام کام آئندہ اتوار تک ملتوی یا اگر بیگم صاحبہ نے موقع غنیمت جان کر اور وقت کی قدر کرتے ہوئے اپنی خوشیاں پوری کرانا شروع کر دیں تو بس دن بھر گھر سے بزاز کی دکان، گھر سے اناج کی منڈی، گھر سے جوتے والے کی دکان، گھر سے گوٹا کناری، لیس، بانکڑی والے کی دکان کے سو سو چکر کاٹنے اور چورن چٹنی دال کا مسالہ فراہم کرتے کرتے شام کو اس طرح تھک کر پڑے رہیے گویا دن بھر ہل جوتا ہے۔ قصہ یہ کہ ہمارا تمام پروگرام ہفتہ بھر اتوار کے دن کیلئے ملتوی رہتا ہے اور اسی طرح بیگم صاحبہ بھی اتوار کی تاک میں لگی رہتی ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اتوار کے دن ہمارا ذاتی پروگرام ایسا ہوجاتا ہے کہ ہفتہ بھرکا کھایا یا پیا نکلوا کر چھوڑتا ہے۔ ہم تو تمام ہفتہ یہ کرتے ہیں کہ بالوں پر ہاتھ پھیرا اور زیر لب کہہ دیا اب کی اتوار کو بنوائیں گے، جوتے پرنظر پڑی اور طے کر لیا اب کی اتوار کو پالش ہوگی، کپڑوں کو دیکھا اور ارادہ کرلیا کہ ''اب کی اتوار کو نہا کر بدلیں گے‘‘۔ کسی نے نہ ملنے کی شکایت کی تو وعدہ کر لیا کہ اب کی اتوار کو حاضر ہوں گا، کوئی مر گیا تو تعزیت کیلئے بھی اتوار کا دن مقرر کیا گیا، کسی نے ہم سے ملنے کو کہا تو اتوار کا دن دیا، کہیں سفر کو جانا ہے تو اتوار کے دن کی سفر کی ٹھہری، شکار کو دل چاہا تو اتوار پر اٹھا رکھا۔غرضیکہ تمام ہفتہ جو جو باتیں ہم کو اپنی زندگی کے متعلق یاد آئیں ہم نے سب کو اتوار کے سپرد کردیا لیکن ہم کو یہ خبر نہیں ہوتی کہ اسی طرح بیگم صاحبہ نمک ختم ہونے پر، کپڑے پھٹنے پر، زیور ٹوٹنے پر، غرضیکہ ہر بات پر اتوار کو یاد کیا کرتی ہیں اور اتوارکے دن ان کووہ باتیں سوجھتی ہیں کہ ہمارے فرشتوں کو بھی نہیں سوجھ سکتیں۔ وہ تو کہئے اس دن ہمارے دفتر کی طرح ہسپتال کچہریاں، ڈاک خانہ، مدرسے وغیرہ سب بند ہوتے ہیں ورنہ بچوں کو ہسپتال لے جانا، سکول میں نام لکھوانا وغیرہ بھی اسی دن پر اٹھا رکھا جاتا اور اب شکر ہے کہ ہم کو اس سے ایک طرح کی یکسوئی حاصل ہے اس میں شک نہیں کہ اتوار کے دن کی مشغولتیں معمولی دنوں سے دگنی اور چوگنی ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اتوار کے عاشق صرف اس لئے ہیں کہ وہ تمام مشغولتیں ہم کو اپنی او ر اپنی ذاتی زندگی سے متعلق معلوم ہوتی ہیں اور باقی دنوں میں تو نہیں معلوم ہم کس طرح اور کس کیلئے جیتے ہیں۔