آج تم یاد بے حساب آئے! کیپٹن محمد سرور شہید(نشان حیدر) (1948-1910ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! کیپٹن محمد سرور شہید(نشان حیدر) (1948-1910ء)

اسپیشل فیچر

تحریر :


٭...10نومبر 1910ء کو راولپنڈی کے گاؤں سنگھوری میں پیدا ہوئے۔
٭...آپ کے والد راجہ محمد حیات خاں بھی فوج میں حوالدار تھے۔
٭...ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مسلم ہائی سکول فیصل آباد سے حاصل کی۔
٭... 1927 ء میں دسویں جماعت میں اول پوزیشن حاصل کی۔
٭...15 اپریل 1929ء کو فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی۔
٭... 1944ء میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔
٭... دوسری جنگ عظیم میں شاندار فوجی خدمات پر 1946ء میں کیپٹن کے عہدے پر ترقی پائی۔
٭...قیام پاکستان کے بعد پاک فوج میں شمولیت اختیار کرلی۔
٭... 1948ء میں جب پنجاب رجمنٹ کی سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر فائز تھے انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا۔
٭...27 جولائی 1948ء کو اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا۔اس حملے میں ایک گولی کیپٹن سرور کے سینے میں لگی اور آپ نے شہادت پائی۔
٭...27اکتوبر 1959ء کو انہیں نشانِ حیدرسے نوازا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ماحول اور صحت داؤ پر

ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ماحول اور صحت داؤ پر

ایلون مسک کے ڈیٹا سینٹر پر آلودگی پھیلانے کے الزاماتمصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے جہاں دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، وہیں ان کے ماحولیاتی اور صحت سے متعلق اثرات بھی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں ایلون مسک کی کمپنی سے منسوب ایک ڈیٹا سینٹر کے خلاف دائر مقدمے نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر چلائے جانے والے اس مرکز سے سرطان سے منسلک مضر کیمیکل قریبی امریکی رہائشی علاقوں میں خارج کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ان الزامات کی عدالتی سطح پر جانچ ابھی جاری ہے اور ان پر حتمی فیصلہ نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ جدید ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔ایک نئے وفاقی مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی ''ایکس اے آئی‘‘ (xAI) کے وسیع ڈیٹا سینٹر کے اردگرد واقع رہائشی علاقوں میں سرطان سے منسلک کیمیکل خارج کیے جا رہے ہیں۔ نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل (NAACP) نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ایکس اے آئی مسیسیپی کے علاقے ساؤتھ ہیون میں فضائی آلودگی کیلئے درکار اجازت نامے کے بغیر 27 گیس ٹربائنز چلا رہی ہے، جس کے ذریعے اپنے کولوسس 2ڈیٹا سینٹر کیلئے ایک بجلی گھر قائم کر لیا گیا ہے۔ یہی ڈیٹا سینٹر کمپنی کے چیٹ بوٹ 'گروک‘ کو طاقت فراہم کرتا ہے۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ان ٹربائنز سے یا تو دھواں اور آلودگی پیدا کرنے والے مضر مواد خارج ہوئے یا ان کے اخراج کا امکان موجود تھا۔ ان میں سموگ پیدا کرنے والے آلودہ ذرات، انتہائی باریک معلق ذرات (فائن پارٹیکیولیٹ میٹر) اور فارملڈیہائیڈ شامل ہیں، جو سرطان پیدا کرنے والا ایک معروف کیمیکل ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق یہ آلودہ مادے سانس کی نالی میں سوزش پیدا کر سکتے ہیں، پھیپھڑوں اور خون کی گردش تک گہرائی میں پہنچ سکتے ہیں جبکہ دمہ، دل کی بیماریوں اور سرطان کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث زیادہ تر سیاہ فام آبادی پر مشتمل وہ علاقے مزید مضر آلودگی کا شکار ہوئے، جہاں پہلے ہی سانس کی بیماریوں کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ یہ قانونی تنازع ایکس اے آئی کی تیزی سے ہونے والی توسیع کے گرد گھومتا ہے۔ کمپنی نے اپنے چیٹ بوٹ گروک کی تربیت کیلئے دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی ذہانت پر مبنی سپر کمپیوٹر تعمیر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔مقدمے کے مطابق قومی بجلی کے نظام سے مطلوبہ مقدار میں بجلی حاصل نہ ہونے کے باعث کمپنی نے مبینہ طور پر ضروری اجازت نامے کے بغیر گیس سے چلنے والا ایک بجلی گھر تعمیر کیا تاکہ اس ڈیٹا سینٹر کو مسلسل بجلی فراہم کی جا سکے۔ اب این اے اے سی پی (NAACP) نے وفاقی عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان گیس ٹربائنز کے آپریشن کو فوری طور پر روکا جائے، کمپنی پر مالی جرمانے عائد کیے جائیں اور ایکس اے آئی کو آلودگی پر قابو پانے کے مؤثر انتظامات نصب کرنے کا پابند بنایا جائے۔ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے مسیسیپی کے علاقے ساؤتھ ہیون میں میکروہارڈرنامی ڈیٹا سینٹر کی تعمیر پر 20 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے، جسے مسیسیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز کی مکمل حمایت حاصل ہے۔یہ کمپنی کا تیسرا ڈیٹا سینٹر ہوگا۔ ایکس اے آئی کے چیف فنانشل آفیسر انتھونی آرمسٹرانگ کے مطابق، ان ڈیٹا سینٹرز کا مجموعہ دو گیگا واٹ کمپیوٹنگ صلاحیت کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا سپر کمپیوٹر بنائے گا۔این اے اے سی پی نے ارتھ جسٹس اور سدرن انوائرمنٹل لا سینٹر کی نمائندگی میں رواں سال اپریل میں ایکس اے آئی اور اس کی ذیلی کمپنی ایم زیڈ ایکس ٹیک کیخلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ گزشتہ ماہ ایکس اے آئی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ یہ مقدمہ خارج کر دیا جائے۔

موسمیاتی بحران، پاکستان کیلئے بڑا معاشی چیلنج

موسمیاتی بحران، پاکستان کیلئے بڑا معاشی چیلنج

قدرتی آفات سے مؤثر تحفظ کیلئے بروقت  منصوبہ بندی، زرعی تحفظ اور عالمی تعاون وقت کی اہم ضرورتپاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ منفی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار اسی طرح برقرار رہی تو پاکستان کو مستقبل میں مزید شدید سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، شدید گرمی کی لہروں اور زرعی پیداوار میں نمایاں کمی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ عالمی حدت میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، مگر اس کے باوجود موسمیاتی آفات کا بوجھ سب سے زیادہ انہی ممالک پر پڑ رہا ہے جو ترقی پذیر ہیں۔2022ء کے تباہ کن سیلاب نے دنیا کو یہ حقیقت دکھا دی تھی کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی، سماجی اور انسانی بحران بھی ہے۔ لاکھوں ایکڑ زرعی زمین زیر آب آگئی، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں اور پل تباہ ہوئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس سانحے نے واضح کر دیا کہ پاکستان کے پاس آفات سے نمٹنے کیلئے مضبوط مالیاتی تحفظ کا نظام موجود نہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں قدرتی آفات کے بعد زیادہ تر انحصار ہنگامی امداد، بین الاقوامی مالی معاونت اور عطیات پر کیا جاتا ہے۔ یہ امداد اگرچہ متاثرین کیلئے اہم ہوتی ہے، لیکن اکثر دیر سے پہنچتی ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آفت کے بعد بحالی کا عمل طویل اور دشوار ثابت ہوتا ہے۔دنیا کے کئی ممالک نے اس مسئلے کا حل پہلے ہی تلاش کر لیا ہے۔ افریقہ، ایشیاء اور بحرالکاہل کے متعدد ممالک نے ایسے مالیاتی نظام متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے قدرتی آفات کی صورت میں فوری مالی وسائل دستیاب ہو جاتے ہیں۔ ان ممالک نے زرعی بیمہ، قومی ہنگامی فنڈز، پیشگی مالی معاونت، موسمی خطرات سے متعلق بیمہ اور علاقائی تعاون کے ذریعے اپنی معیشت کو زیادہ محفوظ بنایا ہے۔ ان اقدامات کی بدولت آفت آنے کے بعد بحالی کا عمل تیز ہوتا ہے اور معاشی نقصان نسبتاً کم رہتا ہے۔پاکستان کیلئے بھی یہی راستہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ایک جامع قومی موسمیاتی مالیاتی پالیسی مرتب کی جانی چاہیے جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان واضح ذمہ داریاں طے ہوں۔ اس پالیسی کے تحت ایک مستقل قومی موسمیاتی تحفظ فنڈ قائم کیا جائے تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں فوری مالی وسائل دستیاب ہوں اور متاثرہ علاقوں کی بحالی میں تاخیر نہ ہو۔زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر یہی شعبہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ شدید بارشیں، خشک سالی، ژالہ باری اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ کسانوں کی محنت کو چند گھنٹوں میں ضائع کر دیتا ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت چھوٹے اور متوسط درجے کے کسانوں کیلئے آسان، سستی اور قابلِ رسائی زرعی بیمہ اسکیمیں متعارف کرائے تاکہ فصل تباہ ہونے کی صورت میں انہیں فوری مالی سہارا مل سکے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کا معاشی تحفظ ممکن ہوگا بلکہ ملکی غذائی سلامتی بھی مضبوط ہوگی۔اس کے ساتھ بینکاری اور مالیاتی اداروں کو بھی موسمیاتی خطرات کو اپنی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ایسے قرضے اور مالیاتی سہولیات متعارف کرائی جائیں جو پانی کی بچت، جدید آبپاشی، شمسی توانائی، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، ماحول دوست صنعتوں اور موسمیاتی موافق زراعت کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس سے ماحول کا تحفظ بھی ہوگا اور معیشت زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگی۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بروقت وارننگ سسٹم آفات سے ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔ جدید موسمیاتی پیش گوئی، سیلاب کی بروقت اطلاع، گلیشیئرز کی نگرانی، مقامی سطح پر آگاہی اور موثر انخلاء کے منصوبے ہزاروں جانیں بچانے کے ساتھ اربوں روپے کے معاشی نقصانات سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک آفات کے بعد تعمیر نو کے بجائے آفات سے پہلے تیاری پر زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔بین الاقوامی برادری کی بھی اس حوالے سے اہم ذمہ داری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی ترقی کے دوران سب سے زیادہ کاربن فضا میں خارج کی، جبکہ پاکستان جیسے ممالک اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ اس لیے عالمی موسمیاتی فنڈز تک پاکستان کی آسان رسائی، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، کم سود مالی معاونت اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ پاکستان کو اندرونی سطح پر بھی کئی بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ جنگلات کے رقبے میں اضافہ، آبی ذخائر کی تعمیر، زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال پر قابو، شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو شامل کرنا، ندی نالوں پر غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی توسیع اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ان شعبوں میں مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے تو مستقبل کے خطرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ پاکستان کیلئے ایک موجودہ قومی چیلنج بن چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ، مالیاتی ادارے، زرعی ماہرین اور بین الاقوامی شراکت دار مشترکہ طور پر ایسا نظام تشکیل دیں جو آفات آنے سے پہلے ہی ملک کو مالی اور انتظامی طور پر تیار کر دے۔اگر آج موسمیاتی تحفظ، مالیاتی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، ماحول دوست ترقی اور قدرتی وسائل کے موثر انتظام میں سرمایہ کاری کی گئی تو پاکستان نہ صرف آنے والی موسمیاتی آفات کے نقصانات کو کم کر سکے گا بلکہ پائیدار ترقی، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کی جانب بھی مضبوط قدم بڑھا سکے گا۔

موستار کا پل

موستار کا پل

تاریخ، تہذیب اور امن کی لازوال علامتموستار کا پل محض پتھروں سے تعمیر کیا گیا ایک قدیم شاہکار نہیں بلکہ تہذیبوں، ثقافتوں اور انسانوں کو جوڑنے والی ایک زندہ علامت ہے۔ بوسنیا و ہرزیگووینا کے تاریخی شہر موستار میں دریائے نیریتوا پر قائم یہ پل صدیوں تک مشرق اور مغرب، مختلف قومیتوں اور مذاہب کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی علامت رہا۔ 16ویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے دور میں تعمیر ہونے والا یہ منفرد پل اپنے دلکش طرزتعمیر اور تاریخی اہمیت کے باعث عالمی شہرت رکھتا ہے۔ اگرچہ 1993ء میں بوسنیائی جنگ کے دوران یہ پل تباہ کر دیا گیا، مگر بعد ازاں بین الاقوامی تعاون سے اس کی ازسرِنو تعمیر نے یہ ثابت کر دیا کہ نفرت اور جنگ کے مقابلے میں امن، محبت اور اتحاد کی قوت کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ موستار کا مطلب ہے پرانا پل، روسی زبان میں موست بمعنی پل اور سٹار یا سٹاری پرانا۔ یعنی موستار کا شہر اس کے درمیان بہنے والے دریائے نریتوا کے اوپر بنے ہوئے پرانے پل کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ ترکش معمار خیر الدین کی نگرانی میں بنایا گیا تھا۔ دریائے نریتواپر اس پل کی تعمیر کا آغاز 1557 ء میں ہوا اور 1566 ء میں مکمل ہوا۔ پل اس لیے بھی شہرت کا حامل ہے کہ یہ ایک محراب کی شکل میں بنایا گیا ہے۔ اس کی تعمیر میں پتھر اور چونا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ پل ساڑھے چار سو سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ یہ پل پورے علاقے میں اپنی نوعیت کا واحد پل ہے، جو اپنی محرابی ساخت کی وجہ سے تاریخی شہرت رکھتا ہے۔ اس کی لمبائی 95 فٹ، چوڑائی 13 فٹ اور اونچائی 79 فٹ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پل کی تکمیل کے وقت اس کے افتتاح سے قبل سلطنت عثمانیہ کے سلطان نے قسم کھائی تھی کہ پل کے نیچے عارضی ستون ہٹانے کے بعد پل اگر نیچے گر گیا تو معمار خیرالدین کو قتل کر دیا جائے گا۔کہا جاتا ہے کہ معمار خیرالدین کو اپنے آپ پر اور اپنی کاریگری پر بھروسہ تو تھا لیکن سلطان کا خوف اس کے ذہن پر غالب آ گیا۔ جس دن پل کے نیچے سے عارضی ستون ہٹائے جانے تھے، اس دن معمار خیرالدین نے اپنی قبر بھی تیار کروانا شروع کر دی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہ پل آج بھی قابل استعمال چلا آ رہا ہے۔ بقول محترمہ ساجدہ سلاجک صاحبہ گزشتہ جنگ میں اس موستار پل کو تباہ کرنے میں سربوں اور کروٹوں کو ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔ پہلے سرب زور آزمائی کرتے رہے، پھر کروٹ گولہ باری کرتے رہے پھر کہیں جا کردہ اس پل کے کچھ حصے کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو سکے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد اس پل کو دوبارہ بنانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس میں ورلڈ بینک ''یونیسکو‘‘ اورآغا خاں ٹرسٹ نے خاص طور پر مددکی۔ اس کے علاوہ اٹلی، ہالینڈ،ترکی، کروشیا اور بوسنیا کی حکومت نے خاص تعاون کیا۔ پھر کہیں 2004 ء میں اس تاریخی پل کو پیدل چلنے والوں کیلئے کھولا گیا۔ تقریباً 80 فٹ کی بلندی سے پیشہ ور غوطہ خور دریائے نریتوا میں ایک خاص سٹائل میں غوطہ لگا کر حاضرین سے داد وصول کرتے ہیں۔ جبکہ دریا کا پانی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔ آج موستار کا پل نہ صرف ایک سیاحتی مرکز ہے بلکہ یہ انسانیت کیلئے اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ دلوں اور معاشروں کو جوڑنے والے پل ہمیشہ دیواروں سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔

عید ملنا!

عید ملنا!

مرزا صاحب ہمارے ہمسائے تھے، یعنی ان کے گھر میں جو درخت تھا اس کا سایہ ہمارے گھر میں بھی آتا تھا۔ اللہ نے انہیں سب کچھ وافر مقدار میں دے رکھا تھا۔ بچے اتنے تھے کہ بندہ ان کے گھر جاتا تو لگتا اسکول میں آگیا ہے۔ ان کے ہاں ایک پانی کا تالاب تھا جس میں سب بچے یوں نہاتے رہتے کہ وہ تالاب میں 500 گیلن پانی بھرتے اور سات دن بعد 550 گیلن نکالتے۔ وہ مجھے بھی اپنے بچوں کی طرح سمجھتے، یعنی جب انہیں مارتے تو ساتھ میں مجھے بھی پیٹ ڈالتے، انہیں بچوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا سخت ناپسند تھا۔ حالانکہ ان کی بیگم سمجھاتیں کہ مسلمان بچے ہیں، آپس میں نہیں لڑیں گے تو کیا غیروں سے لڑیں گے۔ ایک روز ہم لڑ رہے تھے، بلکہ یوں سمجھیں رونے کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ یوں بھی رونا بچوں کی لڑائی کا ٹریڈ مارک ہے۔ اتنے میں مرزا صاحب آگئے۔''کیوں لڑ رہے ہو؟‘‘ہم چپ! کیونکہ لڑتے لڑتے ہمیں یہ بھول گیا تھا کہ کیوں لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں خاموش دیکھا تو دھاڑے، ''چلو گلے لگ کر صلح کرو۔‘‘ وہ اتنی زور سے دھاڑے کہ ہم ڈر کر ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ اس بار جب میں نے عید پر لوگوں کو گلے ملتے دیکھا تو یہی سمجھا کہ یہ سب لوگ بھی ہماری طرح صلح کر رہے ہیں۔عید کے دن گلے ملنا، عید ملنا کہلاتا ہے۔ پہلی بار اس دن انسان گلے ملا، جب خدا نے اسے ایک سے دو بنایا۔ یوں آج بھی گلے ملنے کا عمل دراصل انسان کے ایک نہ ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ عمل ہمیں دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتا ہے کہ وہ گلے پڑ تو سکتے ہیں، گلے مل نہیں سکتے۔ہمارے ہاں عید ملنا، عید سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ دکاندار گاہکوں سے، کلرک سائلوں سے اور ٹریفک پولیس والے گاڑی والوں کو روک روک کر ان سے عید ملتے ہیں۔ بازاروں میں عید سے پہلے اتنا رش ہوتا ہے کہ وہاں سے گزرنا بھی عیدملنا ہی لگتا ہے۔ کچھ نوجوان تو لبرٹی اور بانو بازار میں عید ملنے کی ریہرسل کرنے جاتے ہیں۔عید کے دن میں خوشبو لگا کر عید گاہ کا رخ کرتا ہوں۔ واپسی پر کپڑوں سے ہر قسم کی خوشبو آ رہی ہوتی ہے سوائے اس خوشبو کے جو لگاکر جاتا ہوں۔ عید مل مل کر وہی حال ہوجاتا ہے جو سومیٹر کی ریس جتنے کے بعد ہوتا ہے۔ اوپر سے گوجرانوالہ کی عید ملتی مٹی ایسی کہ جب واپس آکر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں تو گھر والے گردن نکال کر پوچھتے ہیں،''جی! کس سے ملنا ہے؟‘‘سیاست دان تو عید یوں ملنے نکلتے ہیں، جیسے الیکشن کمپین پر نکلے ہوں۔ جیتنے سے پہلے عید تو وہ آگے بڑھ کر ملتے ہیں اور جیتنے کے بعد عید مل کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پنجاب کے ایک سابق گورنر کا عید ملنے کا انداز نرالہ ہوتا تھا۔ ان کا حافظہ ہمارے ایک ادیب دوست جیسا تھا جو ایک ڈاکٹر سے اپنے مرض نسیان کاعلاج کروا رہے تھے، دو ماہ کے مسلسل علاج کے بعد ایک دن ڈاکٹر نے پوچھا،''اب تو نہیں بھولتے آپ؟‘‘۔''بالکل نہیں، مگر آپ کون ہیں اور یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘وہ سابق گورنر بھی عید پر معززین شہر سے عید ملنا شروع کرتے، ملتے ملتے درمیان تک پہنچتے تو بھول جاتے کہ کس طرف کے لوگوں سے مل لیا اور کس طرف کے لوگوں سے ابھی ملنا ہے۔ یوں وہ پھر نئے سرے سے عید ملنے لگتے۔ ایسے ہی ایک صاحب تیز دریا عبور کرنے کی کوشش میں تھے مگر عین دریا کے درمیان سے واپس پلٹ آئے۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے، دراصل جب میں دریا کے درمیان پہنچا تو بہت تھک گیا تھا سو واپس لوٹ آیا۔شاعر وہ طبقہ ہے جو خوشی غمی ہر دوموقعوں پر شعر سناتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سکھ کرپان کے بغیر، بنگالی پان کے بغیر اور شاعر دیوان کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا۔ اس لیے شاعر عید ملنے کیلئے بھی مشاعرے ہی کرتے ہیں۔ یوں مشاعروں کو لفظوں کا عید ملنا کہہ لیں اگرچہ وہ ہوتی تو لفظوں کی ہاتھا پائی ہے۔بچے پیار سے عید کو عیدی کہتے ہیں۔ اس لیے ان کو عیدی ملناان کا عید ملنا ہے۔ عورتیں بھی اکٹھی ہوکر عید ملتی ہیں، لیکن جہاں چار عورتیں اکٹھی ہوں وہاں وہ ایک دوسری سے نہیں، پانچویں سے خوب خوب ملتی ہیں۔ اور کوئی وہاں سے اٹھ کر اس لیے نہیں جاتی کہ جانے کے بعد وہاں بیٹھی رہنے والیاں اس سے ''عید ملنا‘‘ نہ شروع کردیں۔عید کے روز امام مسجد سے عید ملنے کا یہ طریقہ ہے کہ اپنی مٹھی مولوی صاحب کی ہتھیلی پر یوں رکھیں کہ ان کے منہ سے جزاک اللہ کی آواز نکلے۔ چھوٹے شہروں میں نوجوانوں کی اکثریت سنیما گھروں میں بھی عید ملنے جاتی ہے۔ بکنگ کے سامنے وہ عید ملن ہوتی ہے کہ جو سفید سوٹ پہن کر آتا ہے وہ براؤن سوٹ بلکہ کبھی کبھی تو کالے سوٹ میں لوٹتا ہے، اکثر بنیان میں بھی واپس آتے ہیں۔ عید ملنا وہ ورزش ہے جس سے وزن بہت کم ہوتا ہے۔ میرا ایک دوست بتاتا ہے کہ بیرون ملک میں نے عید پر سو پونڈ کم کیے۔

آج کا دن

آج کا دن

انسولین کی ایجاد27 جولائی 1921ء کو ٹورنٹو یونیورسٹی کے بائیو کیمسٹ ڈاکٹر فریڈریک بینٹنگ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انسولین دریافت کی، جو ذیابیطس کے علاج میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہوئی۔ بینٹنگ پیشے کے لحاظ سے ہڈیوں کے سرجن تھے، لیکن انہوں نے لبلبے (Pancreas) پر تجربات کرتے ہوئے یہ اہم دریافت کی۔انسولین کی دریافت سے قبل ذیابیطس ایک لاعلاج اور مہلک بیماری سمجھی جاتی تھی۔ جنیوا کنونشنجنگی قیدیوں سے متعلق جنیوا کنونشن پر27 جولائی 1929ء کو دستخط ہوئے جبکہ یہ 19 جون 1931ء کو نافذ ہوا۔ یہ بین الاقوامی قوانین کا ایک مجموعہ ہے جو جنگوں کے دوران انسانی ہمدردی کے اصولوں کو یقینی بنانے کیلئے بنایا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد جنگ کے دوران زخمیوں، بیماروں، قیدیوں اور عام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ریڈ کراس کا قیام بھی اسی کنونشن کے تحت عمل میں آیا۔جیٹ طیارے کی پہلی اڑان 1949ء میں آج کے روزدنیا کے پہلے جیٹ انجن سے لیس مسافر بردار طیارے نے اپنی پہلی کامیاب پرواز کی۔''ڈی ہیولینڈ ڈی ایچ 106‘‘ دنیا کا پہلا کمرشل جیٹ ہوائی جہاز ہے۔اس میں چار ڈی ہیولینڈ گھوسٹ ٹربو جیٹ انجن نصب تھے۔ اس نے اپنی پہلی تجارتی پرواز مئی 1952ء میں بھری ۔یوکرین ائیر شو حادثہ27جولائی2015ء کو یوکرین میں ہونے والے فضائی شو میں ایک حادثہ پیش آیا۔یہ شو یوکرین کی فضائیہ کے زیر اہتمام کروایا گیا تھا۔ اس میں ایک جہاز اپنی محارت دکھاتا ہوا ائیر فیلڈ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔اس حادثے میں 77افراد جان بحق جبکہ543کے قریب زخمی ہوئے۔ یہ حادثہ دنیا میں کسی بھی ائیر شو کے دوران ہونے والے حادثات میں سب سے بھیانک تصور کیا جاتا ہے۔سی زیروک قتل عام27جولائی 1997ء کو الجزائر کے علاقے سی زیروک میں ایک قتل عام کیا گیا جسے ''زیروک قتل عام‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں تقریباً 50 لوگ مارے گئے۔ 1997ء میں الجزائر میں خانہ جنگی عروج پر تھی۔دوگوریلا گروہ حکومت سے لڑائی میں مصروف تھے۔اس حملے سے قبل گاؤں کی بجلی کو منقطع کر دیا گیا اور آرمی بیرکس کے قریب حملہ کیا گیا۔

 خلائی مخلوق کہاں ہے؟

خلائی مخلوق کہاں ہے؟

فرمی پیراڈوکس نے نئی بحث چھیڑ دیاربوں ستاروں اور سیاروں کے باوجود خلائی مخلوق کی خاموشی سائنس کی سب سے بڑی پہیلی بنی ہوئی ہے؟کائنات اپنی وسعت، پراسراریت اور لاتعداد کہکشاؤں کے باعث صدیوں سے انسان کیلئے حیرت کا باعث رہی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق صرف ہماری کہکشاں، ملکی وے، میں ہی تقریباً 200 سے 400 ارب ستارے اور کم از کم 100 ارب سیارے موجود ہیں۔ ان میں سے بے شمار سیارے ایسے بھی ہو سکتے ہیں جہاں زندگی کیلئے موزوں حالات پائے جاتے ہوں۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ اگر کائنات میں زندگی کے امکانات اتنے زیادہ ہیں تو پھر اب تک کسی بھی ذہین خلائی مخلوق کا کوئی واضح ثبوت کیوں نہیں ملا؟ یہی سوال ''فرمی پیراڈوکس‘‘ کہلاتا ہے، جو آج بھی جدید فلکیات اور خلائی سائنس کے سب سے دلچسپ معمّوں میں شمار ہوتا ہے۔اس نظریے کا آغاز اطالوی نژاد امریکی ماہرِ طبیعیات اینریکو فرمی نے 1950ء میں کیا۔ انہوں نے اپنے ساتھی سائنس دانوں سے سادہ الفاظ میں سوال کیا: ''وہ سب کہاں ہیں؟‘‘ یعنی اگر کائنات میں ذہین تہذیبیں موجود ہیں تو ان کے ریڈیو سگنلز، خلائی جہازوں یا کسی قسم کی ٹیکنالوجی کے آثار اب تک ہمیں کیوں دکھائی نہیں دیے؟فرمی کا خیال تھا کہ اگر کوئی تہذیب سائنسی اور تکنیکی اعتبار سے ترقی کر لے تو وہ نسبتاً کم عرصے میں اپنی کہکشاں کے مختلف حصوں تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کر سکتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج تک انسان کو نہ کسی خلائی تہذیب کا قابلِ اعتماد پیغام ملا ہے اور نہ ہی ان کے وجود کا کوئی ناقابلِ تردید ثبوت۔اس معمّے کی وضاحت کیلئے سائنسدانوں نے مختلف نظریات پیش کیے ہیں۔ ان میں سب سے معروف نظریہ ''گریٹ فلٹر‘‘ ہے۔ اس کے مطابق کائنات میں کوئی نہ کوئی ایسی رکاوٹ ضرور موجود ہے جو ذہین تہذیبوں کو اتنی ترقی کرنے سے پہلے ہی ختم کر دیتی ہے کہ وہ دوسری دنیاؤں تک پہنچ سکیں۔ یہ رکاوٹ زندگی کے ابتدائی ارتقا میں بھی ہو سکتی ہے یا پھر ترقی یافتہ تہذیبوں کے مستقبل میں بھی۔برطانوی ماہرِ طبیعیات پروفیسر برائن کاکس کے مطابق ممکن ہے کہ سائنس اور انجینئرنگ کی تیز رفتار ترقی بالآخر کسی تہذیب کی تباہی کا سبب بن جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی طاقت شاید سیاسی بصیرت، عالمی تعاون اور ذمہ دارانہ قیادت سے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں جنگ، ماحولیاتی تباہی یا دیگر عالمی بحران جنم لیتے ہیں اور تہذیب خود اپنی بقا کیلئے خطرہ بن جاتی ہے۔کچھ سائنسدان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خلائی مخلوق یقیناً موجود ہے، لیکن یا تو ان کے پاس زمین سے رابطہ کرنے کی مناسب ٹیکنالوجی نہیں یا پھر کائنات کے بے پناہ فاصلے رابطے کو تقریباً ناممکن بنا دیتے ہیں۔ اگر دو تہذیبوں کے درمیان ہزاروں نوری سال کا فاصلہ ہو تو ممکن ہے کہ ایک تہذیب رابطہ قائم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے۔ایک اور دلچسپ تصور ''زو مفروضہ‘‘ (Zoo Hypothesis) ہے۔ اس نظریے کے مطابق ترقی یافتہ خلائی تہذیبیں جان بوجھ کر زمین سے رابطہ نہیں کرتیں، کیونکہ وہ انسانیت کو قدرتی انداز میں ارتقا کرنے کا موقع دینا چاہتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انسان جنگلی حیات کے محفوظ علاقوں میں جانوروں کے قدرتی ماحول میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرتے ہیں۔اگرچہ فرمی پیراڈوکس کا اب تک کوئی حتمی جواب سامنے نہیں آیا، لیکن اس نے سائنسدانوں کو کائنات، زندگی کے آغاز اور انسان کے مستقبل کے بارے میں نئے زاویوں سے سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ ممکن ہے آنے والے برسوں میں جدید دوربینیں، خلائی مشنز اور نئی سائنسی دریافتیں اس دیرینہ راز سے پردہ اٹھا دیں۔ تب تک فرمی پیراڈوکس انسان کے اس قدیم سوال کی علامت ہے کہ کیا ہم واقعی اس وسیع و عریض کائنات میں تنہا ہیں، یا کہیں نہ کہیں کوئی اور بھی ہماری تلاش میں ہے؟خلائی مخلوق موجود، مگر ہماری تلاش کا رخ غلط ہے:سائنسدانخلائی مخلوق کی تلاش کیلئے سائنسدانوں کا ایک عام طریقہ یہ ہے کہ وہ دیوہیکل ریڈیو دوربینوں کے ذریعے آسمان کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ ''ٹیکنو سگنیچر‘‘ مثلاً طاقتور برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹک) سگنلزکا سراغ لگایا جا سکے۔ تاہم برطانیہ کی یونیورسٹی آف مانچسٹر کے ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اب تک ہماری تلاش کا رخ ہی غلط رہا ہے۔ ہمیں خلائی مخلوق اس لیے نہیں مل رہی کیونکہ ہم غلط ریڈیو فریکوئنسی یا غلط ریڈیو چینل پر تلاش کر رہے ہیں۔ تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر لوئیزا میسن کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں سے ''سیٹی‘‘ (SETI) پروگرام کے تحت خلائی مخلوق کی تلاش ریڈیو اسپیکٹرم کے صرف ایک نسبتاً محدود حصے پر مرکوز رہی ہے۔ ماضی میں ہونے والے تقریباً تمام ریڈیو سروے زیادہ تر 1.42 سے 1.66 گیگا ہرٹز کے درمیان موجود ریڈیو فریکوئنسیوں تک ہی محدود رہے ہیں۔ڈاکٹر لوئیزا میسن کا کہنا ہے کہ خلائی مخلوق کی تلاش کو زیادہ مؤثر بنانے کیلئے سائنسدانوں کوتلاش کے دائرہ کار کو ایک نئے پیرامیٹر اسپیس تک وسعت دینی چاہیے۔ محققین کو نسبتاً زیادہ بلند ریڈیو فریکوئنسیوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے، جہاں اب تک ہماری توجہ نہیں گئی۔