قلعہ منکیرہ

قلعہ منکیرہ

اسپیشل فیچر

تحریر : شیخ نوید اسلم


منکیرہ پنجاب کے ایک بڑے صحرا تھل کے عین وسط میں واقع ہے جھنگ بھکر روڈ شہر کے درمیان سے گزرتا ہوا شہر کو دو حصوں میں تقسیم کر رہا ہے جھنگ بھکر روڈ سے چند سوگز جنوب میں یہ قدیم تاریخی قلعہ واقع ہے اس قلعے کی تعمیر کا کام تاریخی ریاست منکیرہ پر مسلمانوں کے آخری فرمانروا نواب سربلند خان سدوزئی نے 1804ء میں کیا۔ اس قلعے کی تعمیر بارہ سال کے عرصے میں مکمل ہوئی قلعے کی تعمیر کا کام مکمل ہونے کے بعد اس کے بانی نواب سربلند خان انتقال کر گئے یہ قلعہ کم و بیش پچاس ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہے قلعہ کے شمالاً جنوباً اور مشرقاً غرباً چار دروازے اور اس کے ہر گوشہ میں ایک برج45 فٹ سے زیادہ بلند ہیں قلعہ کی دیواروں کی بلندی بیس فٹ اور موٹائی بیس فٹ سے زائد ہے ان دیواروں پر جگہ جگہ مورچے بنے ہوئے ہیں قلعہ کی بیرونی جانب چاروں اطراف ایک خندق تھی قلعہ سے باہر خندق کے ساتھ ساتھ چاروں طرف ایک ایک کنواں تھا جن کی تعداد 12 تھی ہر خندق کو پرآب رکھنے کے لیے ہر وقت چلتے رہتے تھے خندق کی چوڑائی چالیس فٹ اور گہرائی 15 فٹ تھی قلعے کے اندر جا بجا مکانات کے آثار موجود ہیں قلعہ کے اندر جو درخت اور باغات تھے وہ آج ناپید ہیں۔ سکھ دور حکومت میں دیوان لکھی مل نے اس قلعہ سے مسلمانوں کو نکال کر ہندوئوں کو آباد کیا اس قلعہ کے اندر ایک اور قدیم قلعہ موجود ہے جو عمومی طور پر بلوچاں کے نام سے مشہور ہے یہ قلعہ تقریباً دس ایکڑ رقبہ پر محیط ہے(130) 540 ق۔ م میں مل قوم کے راجہ مل کھیڑہ نے ایک قلعہ تعمیر کیا جس کا نام مل کھیر کوٹ رکھا جسے عرب تاجر اور مورخین نے اپنی عربی لہجے میں نیکرکوٹ کہتے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منکیرہ کے نام مشہور ہوا 712ء میں محمد بن قاسم نے جرنیل ابوالا سود جیم بن زحر ثقفی نے کوٹ کروڑ بھکر اور نیکر کو فتح کرکے احمد بن خزیمہ بن عبتہ مدنی کو ان علاقوں کا گورنر مقرر کیا پھر شیخ حامد موسیٰ گورنر بنے جنہوں نے اس قدیم قلعہ کی تعمیر و مرمت کرائی پھر میکن قوم نے اپنی سنہری دور میں قلعہ منکیرہ کی مرمت کروائی۔980ء میں امیر سبکتگین ملتان پر حملہ کرنے کے لیے یہاں سے گذرا تو اس نے منکیرہ کے قلعہ قدیم کی تعریف کی مکینوں کے عہد حکومت میں سہہ پال نامی شخص جو میکن افواج کا سالار اعلیٰ تھا۔1380ء میں قلعہ منکیرہ کی ازسرنو تعمیر ومرمت کی گئی قلعہ کی دیواروں کو چاروں اطراف سے تیس تیس فٹ بلند کیا قلعہ کے گرد خندق کھدوائی جو40 فٹ چوڑی اور 15 فٹ گہری تھی اس کے اردگرد چاروں طرف4 کنویں بنوائے گئے اور ایک کنواں قلعہ کے اندر بنوایا میکنوں کے بعد لنگاہ، ہوت، میرانی،رند، جسکانی’’کلہوڑہ بلوچوں نے یکے بعد دیگرے منکیرپر سوا تین سو سال تک حکمرانی کی اور قلعہ کی تعمیر و مرمت میں خصوصی دلچسپی لی۔ قلعہ کے چاروں اطراف بیس برج بنوائے گئے۔ نواب سربلند خان نے 1804ء میں قلعہ منکیرہ کے اندر ایک شاندار مسجد تعمیر کرائی یہ مسجد قلعہ بلوچاں کے باہر شمالی جانب اور قلعہ سربلند خان کے اندر غربی سمت واقع ہے۔1821ء میں جب رنجیت سنگھ منکیرہ پر حملہ کیا تو اس نے منکیرہ سے دو کلو میٹر جنوب ایک اونچا تاریخی ٹیلہ ککی والاسے زمزمہ توپ سے گولہ داغ کر مسجد کا جنوبی مینار شہید کر دیا۔ مارچ1816ء میں نواب سربلندخان کے ہاں کوئی اولاد نرینہ نہ تھی ان کی وفات کے بعد ان کے بھانجے حافظ احمد خان اور نواسے شیر محمد خان ان کے جانشین مقرر ہوئے انہوں نے سربلندخان کا مقبرہ تعمیر کروایا۔ یہ مقبرہ قلعہ منکیرہ کے اندر جنوبی دیوار کے ساتھ ہے بعدازاں جب رنجیت سنگھ نے ریاست منکیرہ پر قبضہ کر لیا تونواب سربلند خان کی مسجد کے چند گز کے فاصلے پر ہندوئوں کا مندر تعمیر کر دیا گیا اور مسلمانوں کی عبادت پر پابندی لگا دی گئی۔ نواب کی مسجد کو اصطبل بنا دیا گیا۔ وقت کے ساتھ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے قلعہ منکیرہ کی دیواریں شکست ورغیت میں بدلنے لگیں۔(پاکستان کے آثارِ قدیمہ)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
روبوٹ نے دنیا کو حیران کردیا

روبوٹ نے دنیا کو حیران کردیا

28.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار، روبوٹ نے یوسین بولٹ کو پیچھے چھوڑ دیاروبوٹکس کی دنیا میں انسان نما مشینوں کو تیز، ذہین اور زیادہ باصلاحیت بنانے کی دوڑ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ''سپر مین‘‘ نامی ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے حیران کن رفتار کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ اس روبوٹ نے دوڑتے ہوئے 28.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرکے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جو تقریباً 45.5 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ یہ رفتار عام انسان کیلئے حیران کن ہے اور روبوٹکس کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے نزدیک ایسی پیشرفت مستقبل میں روبوٹس کی نقل و حرکت، صنعتی کاموں اور مختلف مشکل حالات میں ان کے استعمال کے امکانات کو مزید وسیع کرسکتی ہے۔ایک حیرت انگیز ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چینی سائنس دانوں کا تیار کردہ روبوٹ ''سپر مین‘‘ ٹریک پر دوڑتے ہوئے 12.66 میٹر فی سیکنڈ، یعنی 28.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرلیتا ہے۔اس کے مقابلے میں سپرنٹ کے عالمی چیمپئن یوسین بولٹ نے 2009ء میں عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 12.42 میٹر فی سیکنڈ، یعنی 27.78 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی تھی۔اس روبوٹ کو چین کے شہر ہانگژو میں قائم روبوٹکس کمپنی یونٹری (Unitree) نے تیار کیا ہے، جو جدید اور تیز رفتار روبوٹک کتوں اور انسان نما روبوٹس کی تیاری کے حوالے سے مشہور ہے۔ویڈیو کے ایک اور حصے میں یہ مشین کھڑے کھڑے دو میٹر عمودی بلندی تک ہوا میں چھلانگ لگاتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ کارکردگی بھی موجودہ انسانی عالمی ریکارڈ سے بہتر ہے۔ امریکا کے کرسٹوفر اسپیل نے 2021ء میں کھڑے ہوکر 1.7 میٹر (5 فٹ 7 انچ) بلند چھلانگ لگا کر یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔کمپنی نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس‘‘ پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یونٹری کا نیا روبوٹ ''سپر مین‘‘ انسانی صلاحیتوں کی حدود توڑ رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس نئی مشین کی تیاری کو ابھی صرف تین ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ ہوا ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔یہ شاندار مظاہرے بظاہر کسی عملی کام کے بجائے روبوٹ کی خالص جسمانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ ویڈیو محض کمپنی کی جانب سے پیش کیا گیا ایک مظاہرہ ہے اور روبوٹ کی تیز رفتار دوڑ اور بلند چھلانگ سے متعلق دعوؤں کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ اس کی ٹانگوں کی لمبائی مبینہ طور پر صرف 0.85 میٹر (2.8 فٹ) ہے۔ نسبتاً چھوٹے قدموں کے باوجود اس قدر زیادہ رفتار حاصل کرنا اس کی کارکردگی کو خاص طور پر حیران کن بنا دیتا ہے۔یونٹری نے ابھی تک ''سپر مین‘‘ روبوٹ کی مکمل تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ ان تفصیلات میں روبوٹ کا قد، وزن، بیٹری کی گنجائش اور یہ معلومات بھی شامل نہیں کہ رفتار اور چھلانگ کے تجربات کتنی مرتبہ دہرائے گئے۔ یہ نئی مشین یونٹری کے اس سے قبل تیار کیے گئے انسان نما روبوٹ ''H1‘‘ کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے بھی دوڑنے کی صلاحیت کے باعث خاصی توجہ حاصل کی تھی۔ ایک سابقہ مظاہرے میں H1 نے 10 میٹر فی سیکنڈ، یعنی 22.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی تھی۔ اس روبوٹ کی موجودہ قیمت 13,500 امریکی ڈالر (تقریباً 9,980 برطانوی پاؤنڈ) بتائی جاتی ہے۔ٹیکنالوجی کے شعبے کے تجربہ کار تجزیہ کار ما جیہوا نے گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ اس نوعیت کے انتہائی کارکردگی والے تجربات بنیادی طور پر روبوٹ کے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کے باہمی تال میل کے ''اسٹریس ٹیسٹ‘‘ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان تجربات سے یہ جانچنے میں مدد ملتی ہے کہ روبوٹ کے مختلف نظام انتہائی جسمانی دباؤ کے دوران کس حد تک مؤثر انداز میں کام کرتے ہیں۔یہ تجربات روبوٹ کی دوڑنے، چھلانگ لگانے، دھماکہ خیز طاقت، توازن برقرار رکھنے اور انتہائی متحرک حرکات جیسی صلاحیتوں کو ان کی آخری حدود تک آزمانے کیلئے کیے جاتے ہیں، تاکہ نظام کی کارکردگی کی حقیقی حد کا تعین کیا جاسکے۔ما جیہوا کے مطابق، جس طرح گاڑیوں یا طیاروں کی تیاری کے دوران انتہائی حالات میں ان کی آزمائش کی جاتی ہے، اسی طرح روبوٹ کی حدود کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اس سے پہلے کہ کسی روبوٹ کو حقیقی دنیا کے کاموں میں قابلِ اعتماد طریقے سے استعمال کیا جائے، یہ جاننا ناگزیر ہے کہ وہ کس حد تک دباؤ برداشت کرسکتا ہے۔ماہر کے مطابق، انتہائی متحرک حرکات میں مہارت حاصل کرنے سے مستقبل میں ہیومنائیڈ روبوٹس دشوار گزار علاقوں، قدرتی آفات کے مقامات اور دیگر خطرناک یا مشکل حالات میں کام کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔رواں ماہ کے آغاز میں یونٹری نے بتایا تھا کہ وہ دیگر انسان نما ڈیزائنز اور پہیوں والے ماڈلز کو چھوڑ کر اب تک تقریباً 18 ہزار ہیومنائیڈ روبوٹس تیار کرچکی ہے۔سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرےاگرچہ ویڈیو نے لوگوں کو متاثر کیا، تاہم بعض افراد نے اس کے دوڑنے کے انداز کو مزاحیہ بھی قرار دیا۔ ایک شخص نے تبصرہ کیا: ''شاید یہ سب سے مضحکہ خیز دوڑ ہے جو میں نے کبھی دیکھی ہے‘‘ ۔ایک اور صارف نے لکھا: ''یہ تو عجیب انداز میں دوڑتا ہے۔‘‘ کسی نے مزاحاً کہا: ''اس کے بعد اسکول کے کھیلوں کے مقابلے پہلے جیسے نہیں رہیں گے‘‘۔تاہم کئی افراد روبوٹ کی کارکردگی سے بے حد متاثر بھی ہوئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ اگر روبوٹ کا ہارڈویئر اسی رفتار سے بہتر ہوتا رہا تو ہیومنائیڈ روبوٹس بہت جلد انتہائی حیرت انگیز صلاحیتوں کے حامل ہوجائیں گے۔

کتابوں کی دیوانی خاتون

کتابوں کی دیوانی خاتون

مصنفین کے دستخط شدہ 2,652 کتابوں کا خزانہکتاب سے محبت انسان کو محض مطالعے تک محدود نہیں رکھتی بلکہ کبھی کبھی یہی شوق زندگی بھر کی ایک منفرد داستان بن جاتا ہے۔ دنیا میں ایسے کتاب دوست افراد بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی پسندیدہ کتابوں کو جمع کرنے کا شوق غیر معمولی حد تک پہنچا دیا۔ ایسی ہی ایک خاتون نے معروف مصنفین کے دستخط شدہ ناول جمع کرتے کرتے 2,652 کتابوں کا حیرت انگیز مجموعہ تیار کر لیا۔ ہر کتاب اپنے اندر ایک کہانی سمیٹے ہوئے ہے، لیکن مصنف کے دستخط اسے ایک منفرد یادگار بنا دیتے ہیں۔ یہ غیر معمولی مجموعہ نہ صرف کتابوں سے گہری وابستگی کی مثال ہے بلکہ ادب، مصنفین اور مطالعے سے محبت کی ایک ایسی داستان بھی ہے جو قارئین کو حیرت اور تحسین دونوں میں مبتلا کرتی ہے۔کتاب جمع کرنے والی ایک پرجوش خاتون نے ادب سے اپنی گہری محبت کو گنیز ورلڈ ریکارڈ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے پاس معروف مصنفین کے دستخط شدہ کتابوں کی حیرت انگیز تعداد موجود ہے۔ پولینڈ سے تعلق رکھنے والی ویولیٹا سادوفسکا (Wioleta Sadowksa) مطالعے کے فروغ کیلئے کام کرنے والی شخصیت اور بک بلاگر ہیں۔ وہ اپنی نوعمری کے زمانے سے کتابیں جمع کرنے کا شوق رکھتی ہیں، جبکہ 2011ء سے مصنفین کے دستخط شدہ کتابوں کے نسخے بھی باقاعدگی سے اپنے مجموعے میں شامل کر رہی ہیں۔3 جولائی کو پولینڈ کے شہر زوفیوفکا میں ان کے کتابوں کے مجموعے کی باقاعدہ تصدیق کی گئی، جس کے بعد ویولیٹا سادوفسکا کو سب سے زیادہ دستخط شدہ کتابوں کے مجموعے کا عالمی ریکارڈ رکھنے والی شخصیت قرار دیا گیا۔ ان کے مجموعے میں مصنفین کے دستخط شدہ کتابوں کی مجموعی تعداد 2,652 ہے۔کتابوں کی صنعت سے وابستہ رہتے ہوئے 15 سال سے زائد عرصہ گزارنے اور بے شمار کتب میلوں اور ادبی میلوں میں شرکت کرنے کے بعد ویولیٹا کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈ کتابوں سے ان کی گہری محبت اور شوق کا نقط عروج ہے۔ان کے مجموعے میں شامل ہونے والی پہلی دستخط شدہ کتاب پولینڈ کی مصنفہ مالگورژاتا موسے رووِچ کی تصنیف'' Noelka‘‘ تھی۔ اس کے بعد ان کا ذاتی کتب خانہ مسلسل وسعت اختیار کرتا گیا اور وقت کے ساتھ دستخط شدہ کتابوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ ویولیٹا کا کہنا ہے کہ ''میرے مجموعے میں گراہم ماسٹرٹن، سیسیلیا آہرن، رابن کک اور میلیسا ڈارووڈ جیسے معروف مصنفین کے دستخط شدہ کتب کے علاوہ اداکار ژاں رینو کے دستخط بھی شامل ہیں۔ میرے پاس نکولس اسپارکس کے دستخط شدہ کتاب بھی موجود ہے، جن سے مجھے 2017ء کے کراکوف بک فیئر میں ملاقات کا موقع ملا تھا‘‘۔ان کی پسندیدہ کتاب زبیگنیو نیناکی(Zbigniew Nienacki) کی ''Nowe przygody Pana Samochodzika‘‘ ہے، جس نے ادب سے ان کی دلچسپی کو مزید گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کے سب سے قیمتی اثاثوں میں بھی اسی مرحوم پولش مصنف کی دستخط شدہ کتاب شامل ہے۔ یہ کتاب تلاش کرنا خاصا مشکل تھا، تاہم ان کے بلاگ کے ایک قاری نے یہ نایاب کتاب انہیں تحفے میں دے دی۔ویولیٹا نے اپنی پوری ذاتی لائبریری گھر میں شیلفوں پر سجا رکھی ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ ان کے اس شاندار کتب خانے کی مالیت 10 لاکھ سے 15 لاکھ پولش زلوٹی کے درمیان ہے، جو تقریباً 2 لاکھ 67 ہزار 984 سے 4 لاکھ 1 ہزار 278 امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ان کے مجموعے میں اہلِ خانہ، دوستوں اور ناشرین کی جانب سے دی گئی تحائف میں شامل کتابیں بھی موجود ہیں، جبکہ بعض مصنفین نے خود بھی اپنی دستخط شدہ کتابیں ویولیٹا کو بھیجی ہیں تاکہ وہ انہیں اپنے منفرد کتب خانے کا حصہ بنا سکیں۔ان کے مجموعے میں موجود سب سے مشہور مصنف کا دستخط برطانوی ہارر ناول نگار گراہم ماسٹرٹن (Graham Masterton)کا ہے۔ وہ اپنی خوفناک اور سنسنی خیز تحریروں کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی معروف تصانیف میں ''دی مینیٹو‘‘ (The Manitou) بھی شامل ہے، جو 1976ء میں شائع ہوئی تھی۔ گراہم ماسٹرٹن کی اس کتاب نے انہیں عالمی سطح پر نمایاں کیا اور وہ ہارر ادب کے معروف مصنفین میں شمار ہونے لگے۔ویولیٹا نے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کامیابی نے انہیں اپنی لائبریری کو مزید وسیع کرنے کیلئے نیا حوصلہ دیا ہے۔ اس کامیابی کے ذریعے میں یہ دکھانا چاہتی ہوں کہ اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے کوشش کرنا قابلِ قدر ہے اور پولینڈ کی کتاب دوستی اور مطالعے کی ثقافت دنیا کو بہت کچھ پیش کر سکتی ہے۔ان کے خوابوں میں ایک خواب یہ بھی ہے کہ انہیں معروف امریکی مصنف اسٹیفن کنگ کی دستخط شدہ کتاب حاصل ہو جائے۔ ویولیٹا امید کرتی ہیں کہ ریکارڈ قائم کرنے کی ان کی یہ منفرد داستان شاید خود اسٹیفن کنگ تک بھی پہنچ جائے۔

آج کا دن

آج کا دن

جنیوا کنونشن22 اگست 1864ء کو12 ممالک نے پہلے جنیوا کنونشن پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ جنگی تنازعات کے دوران زخمی اور متاثرہ افراد کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی اصول و ضوابط وضع کرنے کی جانب ایک اہم قدم تھا۔ اس کنونشن کا بنیادی مقصد جنگوں میں زخمی فوجیوں اور دیگر متاثرین کے ساتھ انسانی سلوک کو یقینی بنانا تھا۔ اس معاہدے نے بین الاقوامی انسانی قانون کی بنیاد رکھنے اور بعدازاں جنیوا کنونشنز کیلئے راہ ہموار کی۔برازیل کا اعلان جنگ1942ء میں آج کے روزبرازیل نے جرمنی، جاپان اور اٹلی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ ایک اہم پیشرفت تھی۔ اس فیصلے کے بعد برازیل اتحادی ممالک کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور محوری طاقتوں کے خلاف جنگی کوششوں میں شامل ہوا۔ برازیل نے بعد ازاں اپنی فوجی قوت بھی اتحادی افواج کے تعاون کیلئے استعمال کی۔ اس اقدام نے جنوبی امریکا میں جنگ کے سیاسی و عسکری اثرات کو مزید نمایاں کیا اور عالمی جنگ میں برازیل کے کردار کو اہم بنا دیا۔یوکرین فضائی حادثہ2006ء میں پلکووو ایوی ایشن انٹرپرائز کی پرواز 612 روسی سرحد کے قریب مشرقی یوکرین کے علاقے میں گر کر تباہ ہوگئی۔ یہ مسافر طیارہ روس سے یوکرین کی فضائی حدود سے گزر رہا تھا کہ اچانک حادثے کا شکار ہوگیا۔ طیارے میں سوار تمام 170 افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ حادثہ فضائی سفر کی تاریخ کے ان المناک واقعات میں شمار ہوتا ہے جن میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ پینٹنگز کی چوری2004ء میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے ایک عجائب گھر سے معروف مصور ایڈورڈ منک کی دو شاہکار پینٹنگز ''دی اسکریَم‘‘ اور ''میڈونا‘‘ چوری کرلی گئیں۔ مسلح نقاب پوش چور عجائب گھر میں داخل ہوئے اور دونوں قیمتی فن پارے لے کر فرار ہوگئے۔ یہ چوری دنیا بھر میں فنونِ لطیفہ کے حلقوں کیلئے ایک بڑا صدمہ تھی، کیونکہ دونوں پینٹنگز منک کے مشہور ترین فن پاروں میں شمار ہوتی ہیں۔ آئس لینڈکا تاریخی فیصلہ1991ء میں آج کے روز آئس لینڈ دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے سوویت یونین سے آزادی حاصل کرنے والی بالٹک ریاستوں، یعنی ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا کی آزادی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب سوویت یونین میں سیاسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہورہی تھیں۔ آئس لینڈ کے اس فیصلے نے بالٹک ریاستوں کی عالمی سطح پر آزاد حیثیت تسلیم کیے جانے کی راہ ہموار کی۔فرانسیسی صدر پر حملہ22اگست 1962ء کو فرانس کے صدر چارلس ڈیگال کو قتل کرنے کی ایک بڑی کوشش کی گئی۔ یہ حملہ ''پیٹی کلامار حملے ‘‘کے نام سے معروف ہے، جس میں فرانسیسی خفیہ تنظیم او اے ایس (OAS) کے ارکان نے صدر ڈیگال کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی، تاہم صدر ڈیگال محفوظ رہے۔ یہ واقعہ فرانس کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور سنسنی خیز واقعہ سمجھا جاتا ہے۔

MIT کا ننھا روبوٹ

MIT کا ننھا روبوٹ

کیڑے مکوڑوں کی طرح اڑنا سیکھ گیا روبوٹکس کا شعبہ تیزی سے ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں مشینیں صرف انسانوں کے بنائے ہوئے ڈیزائن کی نقل نہیں کر رہیں بلکہ قدرت سے سیکھ کر اپنی صلاحیتیں بہتر بنا رہی ہیں۔ اس کی ایک دلچسپ مثال میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے انجینئرز کا تیار کردہ ایک انتہائی چھوٹا اڑنے والا روبوٹ ہے جس نے اب کیڑے مکوڑوں جیسی تیز اور پھرتیلی پرواز کا مظاہرہ کیا ہے۔یہ روبوٹ جسامت میں ایک جیلی بین کے قریب ہے اور اس کے پروں کا ڈیزائن بھی کیڑے کے پروں سے متاثر ہے۔ لیکن اصل حیرت اس کے حجم میں نہیں بلکہ اس کی پرواز کی صلاحیت میں ہے۔ MIT کے محققین نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نیا کنٹرول سسٹم تیار کیا ہے جس نے اس ننھے روبوٹ کو تیز رفتاری سے موڑنے، اچانک سمت تبدیل کرنے اور مسلسل قلابازیاں لگانے کے قابل بنا دیا ہے۔رفتار اور پھرتی میں غیر معمولی اضافہچھوٹے اڑنے والے روبوٹس کے سامنے ایک بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ انہیں بہت تیزی سے حرکت دینا اور ساتھ ہی مستحکم رکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ جسامت جتنی کم ہوتی ہے ہوا کا معمولی زوراور جسم کی معمولی حرکت بھی روبوٹ کی پرواز پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔MIT کی نئی تحقیق نے اس مسئلے کو بڑی حد تک حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تجربات میں روبوٹ کی رفتار پہلے کے بہترین مظاہروں کے مقابلے میں تقریباً 447 فیصد بڑھ گئی جبکہ اس کی acceleration یعنی رفتار پکڑنے کی صلاحیت میں تقریباً 255 فیصد اضافہ ہوا۔لیکن شاید سب سے حیران کن مظاہرہ اس کی قلابازیاں ہیں۔ یہ ننھا روبوٹ صرف 11 سیکنڈ میں مسلسل دس somersaults مکمل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس دوران اگر ہوا کا جھونکا اسے راستے سے ہٹانے کی کوشش بھی کرتا رہا تو روبوٹ نے اپنی پرواز کو درست کیا اور مطلوبہ راستے کے قریب رہا۔ MIT کے مطابق تجربات میں یہ روبوٹ اپنے طے شدہ راستے سے عموماً صرف 4 سے 5 سینٹی میٹر تک ہی ہٹا۔یہ کارکردگی اس لیے اہم ہے کیونکہ حقیقی کیڑے، مثلاً بھونرا یا مکھی انتہائی تیزی سے اپنی پرواز کی سمت اور جسم کا زاویہ تبدیل کر سکتے ہیں۔ روایتی ڈرونز میں یہ صلاحیت نسبتاً محدود ہوتی ہے۔روبوٹ کے پر اور مصنوعی پٹھےیہ روبوٹ کسی عام کواڈ کاپٹر ڈرون کی طرح چار گھومتے ہوئے پروپیلرزاستعمال نہیں کرتا۔اس میں ایسے پر استعمال کیے گئے ہیں جو کیڑے کے پروں کی طرح تیزی سے پھڑپھڑاتے ہیں۔MIT کی ٹیم نے روبوٹ کے ایک زیادہ پائیدار ورژن میں نسبتاً بڑے پر استعمال کیے جنہیں نرم مصنوعی پٹھوں کے ذریعے حرکت دی جاتی ہے۔ یہ مصنوعی پٹھے انتہائی تیزی سے پروں کو حرکت دے سکتے ہیں جس سے روبوٹ کو فضا میں اٹھنے، آگے بڑھنے اور اچانک سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت ملتی ہے۔تاہم صرف اچھے پر اور طاقتور مصنوعی پٹھے کافی نہیں تھے۔ روبوٹ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اسے کس لمحے کتنی طاقت لگانی ہے، کس سمت جھکنا ہے اور کب اپنی حرکت کو روکنا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت نے اہم کردار ادا کیا۔اصل کمال اس کے AI دماغ کا ہےاس روبوٹ کی پرواز کا سب سے اہم حصہ اس کا نیا AIبیسڈ کنٹرولر ہے۔ پہلے روبوٹ کا کنٹرول سسٹم بڑی حد تک انسانوں کی جانب سے ہاتھ سے ٹیون کیا جاتا تھا۔ اس طریقے سے روبوٹ بنیادی پرواز تو کر سکتا تھا لیکن انتہائی تیز اور پیچیدہ حرکات کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔MIT کے محققین نے ایک دو مرحلوں پر مشتمل نظام تیار کیا۔ پہلے مرحلے میں ایک طاقتورکنٹرولر روبوٹ کی حرکت کا اندازہ لگاتا اور پیچیدہ قلابازیوں کے لیے بہترین راستہ تلاش کرتا ہے۔ اس میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ روبوٹ کتنی قوت استعمال کر سکتا ہے تاکہ حرکت کے دوران وہ بے قابو نہ ہو جائے۔دوسرے مرحلے میں ڈیپ لرننگ استعمال کی گئی۔ سادہ الفاظ میں ایک طاقتور کنٹرولر پہلے مشکل حرکات کرنا سیکھتا ہے پھر AI اس کے طریقہ کار سے سیکھ کر ایک ایسا نسبتاً ہلکا اور تیز ماڈل تیار کرتی ہے جو حقیقی وقت میں روبوٹ کو کنٹرول کر سکے۔یہ طریقہ اس لیے ضروری تھا کیونکہ اتنے چھوٹے روبوٹ پر بہت زیادہ کمپیوٹیشنل طاقت دستیاب نہیں ہوتی۔ اگر ہر لمحے انتہائی پیچیدہ کیلکولیشنز کی جائیں تو روبوٹ کا نظام اتنی تیزی سے فیصلہ نہیں کر پائے گا جتنی تیزی سے اسے پرواز کے دوران ضرورت ہوتی ہے۔ AI نے اس پیچیدہ عمل کو نسبتاً تیز اور مؤثر بنا دیا۔مستقبل خودکار روبوٹس تکMIT کے محققین کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کے امکانات بہت وسیع ہیں۔مثلاً کسی زلزلے کے بعد عمارتیں گرنے کی صورت میں بڑے ڈرونز یا ریسکیو مشینیں ملبے کے اندر موجود انتہائی تنگ جگہوں تک نہیں پہنچ سکتیں۔ ایک کیڑے جتنا چھوٹا روبوٹ ملبے کے درمیان موجود دراڑوں سے گزر کر ممکنہ طور پر زندہ افراد کی تلاش کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ روبوٹ گرتے ہوئے ملبے اور دوسری رکاوٹوں سے بچنے کے لیے اپنی سمت تیزی سے تبدیل بھی کر سکتا ہے۔مستقبل میں ایسے روبوٹس پر چھوٹے کیمرے اور سنسرز نصب کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے وہ صرف پہلے سے طے شدہ راستے پر چلنے کے بجائے اپنے اردگرد کے ماحول کو محسوس کرکے خود فیصلہ کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ MIT کی ٹیم خاص طور پر ایسے سنسرز کے استعمال پر کام کرنا چاہتی ہے جو روبوٹ کو بیرونی ماحول میں بغیر کسی بڑے موشن کیپچر سسٹم کے پرواز کرنے میں مدد دیں۔یہاں سے ایک اور دلچسپ امکان سامنے آتا ہے کہ اگر متعدد ایسے ننھے روبوٹس ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرکے مشترکہ طور پر کام کرنا سیکھ جائیں تو وہ ایکrobotic swarm کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ایک روبوٹ کے بجائے درجنوں یا سینکڑوں چھوٹے روبوٹس کسی بڑے علاقے کی نگرانی، تلاش یا ماحولیاتی مشاہدے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔موجودہ تجربات میں کنٹرولر بیرونی کمپیوٹر پر چلتا ہے جبکہ مستقبل کا اہم ہدف اتنی ہی مؤثر AI کو روبوٹ کے اپنے آن بورڈ کمپیوٹنگ نظام پر چلانا ہے۔

عالمی یومِ انسانی ہمدردی

عالمی یومِ انسانی ہمدردی

انسانیت کی حفاظت کا عالمی عہددنیا میں ایسے دن بھی آتے ہیں جو کسی جشن، فتح یا تاریخی کامیابی کی یاد نہیں دلاتے بلکہ انسان کو اس کی اپنی انسانیت یاد دلاتے ہیں۔ عالمی یومِ انسانی ہمدردی (World Humanitarian Day) بھی ایسا ہی دن ہے جو ہر سال 19 اگست کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان لاکھوں انسانوں کے نام ہے جو جنگوں، قدرتی آفات، قحط، وباؤں، نقل مکانی اور دیگر بحرانوں سے متاثر ہوتے ہیں ،اور ان لوگوں کے نام بھی جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر مصیبت زدہ لوگوں تک مدد پہنچانے کے لیے میدانِ عمل میں موجود رہتے ہیں۔ اس دن کا بنیادی مقصد انسانی خدمت کرنے والے کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور بحرانوں میں گھرے لوگوں کی بقا، وقار اور فلاح کے لیے عالمی عزم کو مضبوط کرنا ہے۔ایک المیے سے جنم لینے والا دنعالمی یومِ انسانی ہمدردی کی تاریخ ایک المناک واقعے سے جڑی ہوئی ہے۔ 19 اگست 2003 ء کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر، کینال ہوٹل، پر بم حملہ ہوا جس میں 22 افراد مارے گئے، ان میں اقوام متحدہ کے عراق میں خصوصی نمائندے سرجیو ویئرا ڈی میلو بھی شامل تھے۔ ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ نہ صرف اقوام متحدہ کے لیے ایک بڑا سانحہ تھا بلکہ دنیا بھر کے انسانی امدادی کارکنوں کے لیے بھی ایک ایسا لمحہ تھا جس نے ان کے کام کے خطرات کو نمایاں کر دیا۔اس سانحے کی یاد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2008ء میں قراردادکے ذریعے 19 اگست کو عالمی یومِ انسانی ہمدردی قرار دیا۔ انسانی ہمدردی محض کسی ضرورت مند کو چند روپے یا کھانے کا ایک پیکٹ دینے کا نام نہیں۔ یہ دراصل اس بنیادی انسانی اصول کا نام ہے کہ مصیبت میں مبتلا انسان کی مدد کی جائے خواہ اس کا تعلق کسی بھی ملک، مذہب، نسل، زبان یا سیاسی گروہ سے ہو۔ جنگ زدہ علاقے میں زخمی شخص کو طبی امداد دینا، سیلاب زدگان کو محفوظ مقام تک پہنچانا، بے گھر خاندانوں کو خوراک اور خیمے فراہم کرنا، بچوں کو تعلیم کے مواقع دینا اور وبا کے دوران لوگوں کو طبی سہولت پہنچانا،یہ سب انسانی خدمت کے مختلف روپ ہیں۔ خطرے میں امید قدرتی آفت یا جنگ کے دوران عام انسان عموماً محفوظ مقام تلاش کرتا ہے مگر انسانی امدادی کارکن اکثر اس کے برعکس خطرے کے مرکز کی طرف بڑھتے ہیں۔ ڈاکٹر، نرسیں، ریسکیو اہلکار، رضاکار، ڈرائیور، امدادی اداروں کے کارکن اور مقامی کمیونٹی کے افراد اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی زندگی بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔انسانی کارکن صرف خوراک اور پانی تقسیم نہیں کرتے وہ تباہ شدہ معاشروں کو دوبارہ کھڑا کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ بچوں کے لیے عارضی سکول قائم کرتے ہیں، بیماروں کا علاج کرتے ہیں، بے گھر افراد کو پناہ دیتے ہیں، خواتین اور بچوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لانے میں مدد کرتے ہیں۔افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ دوسروں کی جان بچانے نکلتے ہیں وہ خود بھی محفوظ نہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اقوام متحدہ کے393 امدادی کارکن مارے گئے۔ اس دن کی اہمیت پہلے سے زیادہآج دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں انسانی بحرانوں کی نوعیت زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔ جنگیں، سیاسی تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، خشک سالی، قحط اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے کروڑوں انسانوں کو غیر یقینی زندگی سے دوچار کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے 2026 ء کے جائزے کے مطابق دنیا بھر میں 239 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ عالمی انسانی نظام محدود وسائل کے باوجود تقریباً 135 ملین افراد تک امداد پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی نے بھی انسانی ہمدردی کی ضرورت میں اضافہ کیا ہے۔ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے دوران امدادی کارکنوں اور رضاکاروں کا کردار اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ بحران کے وقت ریاستی اداروں کے ساتھ معاشرے کی اجتماعی قوت بھی انتہائی اہم ہوتی ہے۔انسانی ہمدردی صرف اداروں کی ذمہ داری نہیںعالمی یومِ انسانی ہمدردی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت صرف اقوام متحدہ، حکومتوں یا بڑے امدادی اداروں کی ذمہ داری نہیں۔ عام شہری بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کسی ضرورت مند کی مدد، خون کا عطیہ، آفت زدہ لوگوں کے لیے امداد، کسی بے گھر خاندان کے لیے سہارا یا کسی پریشان انسان کے ساتھ ہمدردی،یہ سب انسانی خدمت کی صورتیں ہیں۔اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس دوسروں کے لیے کتنا ہے اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے پاس موجود وسائل میں سے کتنا بانٹنے کے لیے تیار ہیں۔انسانیت کو زندہ رکھنے کا عہدعالمی یومِ انسانی ہمدردی دراصل ایک آئینہ ہے جس میں دنیا اپنی ترجیحات دیکھ سکتی ہے۔ اگر ایک طرف انسان نے سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی کی حیرت انگیز منزلیں طے کی ہیں تو دوسری طرف کروڑوں انسان آج بھی جنگ، بھوک، بیماری اور بے گھری کا شکار ہیں۔ ترقی کا حقیقی معیار صرف بلند عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی یا مضبوط معیشتیں نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ معاشرہ اپنے کمزور ترین انسان کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔یہ دن ہمیں ان گمنام ہیروز کو یاد کرنے کا موقع دیتا ہے جو کسی تمغے یا شہرت کی خواہش کے بغیر دوسروں کی زندگی آسان بناتے ہیں۔ ان کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت کسی سرحد، زبان یا قوم کی پابند نہیں۔19 اگست کا پیغام دراصل بہت سادہ ہے کہ مصیبت میں مبتلا انسان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو نشانہ نہ بنایا جائے اور دنیا کو اس اصول پر قائم کیا جائے کہ ہر انسان کی جان، عزت اور وقار برابر اہمیت رکھتے ہیں۔کیونکہ جب دنیا کے کسی کونے میں ایک انسان دوسرے انسان کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہاں صرف ایک زندگی نہیں بچتی، انسانیت کا تصور بھی زندہ رہتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ڈاگیریو ٹائپ فوٹوگرافی19 اگست 1839ء کو فرانسیسی موجد لوئی ژاک مانڈے ڈاگیریو کے تیار کردہ فوٹوگرافی کے طریقے، جسے ڈاگیریو ٹائپ (Daguerreotype) کہا جاتا ہے، کو عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ اعلان فرانسیسی اکیڈمی آف سائنسز کے اجلاس میں ہوا۔ اس ایجاد کی اہمیت اس لیے غیر معمولی تھی کہ اس سے پہلے کسی منظر یا انسان کی شکل کو مستقل اور انتہائی تفصیل کے ساتھ محفوظ کرنا بہت مشکل تھا۔ ڈاگیریو ٹائپ میں چاندی سے ملمع شدہ تانبے کی پلیٹ استعمال کی جاتی تھی۔ اسے کیمیائی طریقے سے حساس بنایا جاتا، کیمرے میں رکھ کر روشنی کے سامنے لایا جاتا اور پھر کیمیائی عمل کے ذریعے تصویر ظاہر کی جاتی۔ نتیجہ ایک انتہائی باریک تفصیلات والی تصویر کی صورت میں سامنے آتا تھا۔ ڈاگیریو ٹائپ اگرچہ نسبتاً پیچیدہ، مہنگا تھا، لیکن اس نے جدید فوٹوگرافی کی بنیاد مضبوط کی۔ ڈائیپے پر اتحادی حملہ19 اگست 1942ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران فرانس کے ساحلی شہر ڈائیپے (Dieppe) پر اتحادی افواج نے ایک بڑا بحری و زمینی حملہ کیا۔ اس فوجی کارروائی کو 'آپریشن جوبلی‘ کہا جاتا ہے۔ تقریباً چھ ہزار سے زائد اتحادی فوجی اس کارروائی میں شریک ہوئے جن میں تقریباً پانچ ہزار کینیڈین تھے۔ حملہ مختلف ساحلی مقامات پر کیا گیا۔ جرمن افواج نے بھرپور مزاحمت کی اور اتحادی فوجوں کے لیے واپسی بھی انتہائی مشکل ہو گئی۔ نتیجتاً یہ کارروائی اتحادیوں کے لیے ایک بڑی فوجی ناکامی ثابت ہوئی۔ تاہم اس کارروائی سے اتحادی کمانڈروں کو معلوم ہوا کہ مضبوط جرمن ساحلی دفاع کے خلاف براہِ راست حملے میں کن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بعد میں یہ تجربات 6 جون 1944ء کے نارمنڈی حملے کی منصوبہ بندی میں اہم ثابت ہوئے۔ محمد مصدق حکومت کا خاتمہ19 اگست 1953ء کو ایران میں وزیراعظم ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور جنرل فضل اللہ زاہدی نے اقتدار سنبھال لیا۔ مصدق 1951ء میں وزیراعظم بنے تھے اور ان کی حکومت نے ایرانی تیل کی صنعت کو قومیانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام سے برطانیہ کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا کیونکہ برطانوی کمپنی ایرانی تیل کی پیداوار اور تجارت میں مرکزی کردار رکھتی تھی۔بعد میں سامنے آنے والی امریکی سرکاری دستاویزات اس واقعے میں امریکی خفیہ ایجنسی CIA اور برطانوی کردار کی تصدیق کرتی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے تاریخی دستاویزات میں واضح طور پر درج ہے کہ مصدق کو اقتدار سے ہٹانے کا عمل 19 اگست 1953ء کو کامیاب ہوا اور زاہدی کو وزیراعظم بنایا گیا۔ سپوتنک 5 کی لانچنگ19 اگست 1960ء کو سوویت یونین نے سپوتنک 5 خلا میں روانہ کیا۔ اس مشن میں دو کتے Belka اور Strelka، ایک خرگوش، 40 چوہے اور مختلف پودے اور حیاتیاتی نمونے شامل تھے۔اس مشن کی اصل اہمیت صرف جانوروں کو خلا میں بھیجنے میں نہیں تھی بلکہ انہیں محفوظ طریقے سے زمین پر واپس لانے میں تھی۔ اس سے پہلے مختلف ممالک خلا میں جانور بھیجنے کے تجربات کر چکے تھے مگر ہر مشن کامیاب نہیں ہوا تھا۔ سوویت سائنسدان یہ جاننا چاہتے تھے کہ ایک زندہ جسم خلائی سفر، راکٹ کے ارتعاش، بے وزنی اور دوبارہ زمین کی فضا میں داخل ہونے کے مراحل کو کس طرح برداشت کرتا ہے۔سپوتنک 5 نے زمین کے گرد چکر لگائے اور اگلے دن اس کا کیپسول واپس لایا گیا۔ Belka اور Strelka دونوں زندہ واپس آ گئے۔ Syncom 3کی لانچنگ 19 اگست 1964ء کو امریکہ نے Syncom 3 نامی سیٹلائٹ خلا میں روانہ کیا گیا اور بعد میں اسے خطِ استوا کے اوپر ایسی مدار میں پہنچایا گیا جہاں وہ زمین کے مقابلے میں تقریباً ساکن دکھائی دیتا تھا۔۔ یہ واقعہ جدید عالمی مواصلاتی نظام کی تاریخ میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔Syncom 3 نے جیو سٹیشنری کمیونی کیشن سیٹلائٹ کے تصور کو عملی طور پر مزید مضبوط کیا۔Syncom 3کی کامیابی کا ایک بہت مشہور عملی مظاہرہ 1964ء کے ٹوکیو اولمپکس کے دوران ہوا۔ ناسا کے تکنیکی ریکارڈ کے مطابق Syncom 3 کے ذریعے جاپان سے امریکہ تک اولمپک مقابلوں کی براہِ راست ٹیلی ویژن ترسیل میں مدد ملی۔ اسی سیٹلائٹ نے بحرالکاہل کے پار مسلسل مواصلاتی رابطے کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔