قلعہ منکیرہ

اسپیشل فیچر
منکیرہ پنجاب کے ایک بڑے صحرا تھل کے عین وسط میں واقع ہے جھنگ بھکر روڈ شہر کے درمیان سے گزرتا ہوا شہر کو دو حصوں میں تقسیم کر رہا ہے جھنگ بھکر روڈ سے چند سوگز جنوب میں یہ قدیم تاریخی قلعہ واقع ہے اس قلعے کی تعمیر کا کام تاریخی ریاست منکیرہ پر مسلمانوں کے آخری فرمانروا نواب سربلند خان سدوزئی نے 1804ء میں کیا۔ اس قلعے کی تعمیر بارہ سال کے عرصے میں مکمل ہوئی قلعے کی تعمیر کا کام مکمل ہونے کے بعد اس کے بانی نواب سربلند خان انتقال کر گئے یہ قلعہ کم و بیش پچاس ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہے قلعہ کے شمالاً جنوباً اور مشرقاً غرباً چار دروازے اور اس کے ہر گوشہ میں ایک برج45 فٹ سے زیادہ بلند ہیں قلعہ کی دیواروں کی بلندی بیس فٹ اور موٹائی بیس فٹ سے زائد ہے ان دیواروں پر جگہ جگہ مورچے بنے ہوئے ہیں قلعہ کی بیرونی جانب چاروں اطراف ایک خندق تھی قلعہ سے باہر خندق کے ساتھ ساتھ چاروں طرف ایک ایک کنواں تھا جن کی تعداد 12 تھی ہر خندق کو پرآب رکھنے کے لیے ہر وقت چلتے رہتے تھے خندق کی چوڑائی چالیس فٹ اور گہرائی 15 فٹ تھی قلعے کے اندر جا بجا مکانات کے آثار موجود ہیں قلعہ کے اندر جو درخت اور باغات تھے وہ آج ناپید ہیں۔ سکھ دور حکومت میں دیوان لکھی مل نے اس قلعہ سے مسلمانوں کو نکال کر ہندوئوں کو آباد کیا اس قلعہ کے اندر ایک اور قدیم قلعہ موجود ہے جو عمومی طور پر بلوچاں کے نام سے مشہور ہے یہ قلعہ تقریباً دس ایکڑ رقبہ پر محیط ہے(130) 540 ق۔ م میں مل قوم کے راجہ مل کھیڑہ نے ایک قلعہ تعمیر کیا جس کا نام مل کھیر کوٹ رکھا جسے عرب تاجر اور مورخین نے اپنی عربی لہجے میں نیکرکوٹ کہتے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منکیرہ کے نام مشہور ہوا 712ء میں محمد بن قاسم نے جرنیل ابوالا سود جیم بن زحر ثقفی نے کوٹ کروڑ بھکر اور نیکر کو فتح کرکے احمد بن خزیمہ بن عبتہ مدنی کو ان علاقوں کا گورنر مقرر کیا پھر شیخ حامد موسیٰ گورنر بنے جنہوں نے اس قدیم قلعہ کی تعمیر و مرمت کرائی پھر میکن قوم نے اپنی سنہری دور میں قلعہ منکیرہ کی مرمت کروائی۔980ء میں امیر سبکتگین ملتان پر حملہ کرنے کے لیے یہاں سے گذرا تو اس نے منکیرہ کے قلعہ قدیم کی تعریف کی مکینوں کے عہد حکومت میں سہہ پال نامی شخص جو میکن افواج کا سالار اعلیٰ تھا۔1380ء میں قلعہ منکیرہ کی ازسرنو تعمیر ومرمت کی گئی قلعہ کی دیواروں کو چاروں اطراف سے تیس تیس فٹ بلند کیا قلعہ کے گرد خندق کھدوائی جو40 فٹ چوڑی اور 15 فٹ گہری تھی اس کے اردگرد چاروں طرف4 کنویں بنوائے گئے اور ایک کنواں قلعہ کے اندر بنوایا میکنوں کے بعد لنگاہ، ہوت، میرانی،رند، جسکانی’’کلہوڑہ بلوچوں نے یکے بعد دیگرے منکیرپر سوا تین سو سال تک حکمرانی کی اور قلعہ کی تعمیر و مرمت میں خصوصی دلچسپی لی۔ قلعہ کے چاروں اطراف بیس برج بنوائے گئے۔ نواب سربلند خان نے 1804ء میں قلعہ منکیرہ کے اندر ایک شاندار مسجد تعمیر کرائی یہ مسجد قلعہ بلوچاں کے باہر شمالی جانب اور قلعہ سربلند خان کے اندر غربی سمت واقع ہے۔1821ء میں جب رنجیت سنگھ منکیرہ پر حملہ کیا تو اس نے منکیرہ سے دو کلو میٹر جنوب ایک اونچا تاریخی ٹیلہ ککی والاسے زمزمہ توپ سے گولہ داغ کر مسجد کا جنوبی مینار شہید کر دیا۔ مارچ1816ء میں نواب سربلندخان کے ہاں کوئی اولاد نرینہ نہ تھی ان کی وفات کے بعد ان کے بھانجے حافظ احمد خان اور نواسے شیر محمد خان ان کے جانشین مقرر ہوئے انہوں نے سربلندخان کا مقبرہ تعمیر کروایا۔ یہ مقبرہ قلعہ منکیرہ کے اندر جنوبی دیوار کے ساتھ ہے بعدازاں جب رنجیت سنگھ نے ریاست منکیرہ پر قبضہ کر لیا تونواب سربلند خان کی مسجد کے چند گز کے فاصلے پر ہندوئوں کا مندر تعمیر کر دیا گیا اور مسلمانوں کی عبادت پر پابندی لگا دی گئی۔ نواب کی مسجد کو اصطبل بنا دیا گیا۔ وقت کے ساتھ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے قلعہ منکیرہ کی دیواریں شکست ورغیت میں بدلنے لگیں۔(پاکستان کے آثارِ قدیمہ)٭…٭…٭