چٹانوں میں تراشی گئی عبادت گاہیں
اسپیشل فیچر
لالیبیلا کے گرجا گھر قدیم افریقی انجینئرنگ کا شاہکار
ایتھوپیا کے شمالی پہاڑی خطے امہارا میں واقع لالیبیلا ایک ایسا تاریخی اور مذہبی شہر ہے جو صدیوں سے دنیا کو حیرت میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ یہ شہر اپنی چٹانوں کو تراش کر بنائی گئی عظیم الشان گرجا گھروں کی بدولت عالمی شہرت رکھتا ہے، جو انسانی محنت، عقیدت اور فن تعمیر کا بے مثال شاہکار ہیں۔ زمین کی سطح سے نیچے ایک ہی چٹان کو کاٹ کر تعمیر کیے گئے یہ گرجا گھر نہ صرف مذہبی تقدس کے حامل ہیں بلکہ قدیم افریقی تہذیب کی اعلیٰ انجینئرنگ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت بھی ہیں۔
لالیبیلا کے گرجا گھر بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں تعمیر کیے گئے، جب ایتھوپیا پر زاگوا خاندان کی حکومت تھی۔ روایت کے مطابق ان گرجا گھروں کی تعمیر کا حکم شاہ لالیبیلا نے دیا، جن کا خواب تھا کہ افریقہ میں ایک مقدس شہر قائم کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ لالیبیلا کو آج بھی ‘‘افریقہ کا یروشلم'' کہا جاتا ہے۔ اس شہر کی تعمیر محض سیاسی یا مذہبی منصوبہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک تہذیبی اعلان تھا کہ افریقہ بھی علم، فن اور تعمیر میں کسی سے کم نہیں۔
لالیبیلا کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا راک ہیون فنِ تعمیر (Rock Hewn Architecture) ہے۔ یہاں گرجا گھر زمین کے اوپر تعمیر نہیں کیے گئے بلکہ ایک ہی چٹان کو اوپر سے نیچے کی طرف کاٹ کر وجود میں لائے گئے۔ یعنی پہلے چٹان کے گرد گہری خندق بنائی گئی، پھر اندرونی حصے کو تراش کر ستون، محرابیں، چھتیں اور راہداریاں تشکیل دی گئیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں نہ سیمنٹ استعمال ہوا، نہ اینٹیں اور نہ ہی لوہے کے جدید اوزار۔ اس کے باوجود یہ عمارتیں صدیوں سے قائم ہیں۔
لالیبیلا میں کل 11 گرجا گھر ہیں، جنہیں تین بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر گرجا گھر نہ صرف ساخت کے اعتبار سے منفرد ہے بلکہ اس کا مذہبی اور علامتی مفہوم بھی الگ ہے۔ ان میں سب سے مشہور ''چرچ آف سینٹ جارج ‘‘ ہے، جو صلیب کی مکمل شکل میں تراشا گیا ہے۔ یہ گرجا گھر سطح زمین سے نیچے واقع ہے اور اس تک پہنچنے کیلئے تنگ راستوں اور سیڑھیوں سے گزرنا پڑتا ہے، جو زائرین کو روحانی یکسوئی کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی طرح بیٹے مدھانِ عالم (Bete Medhane Alem) کو دنیا کا سب سے بڑا یک سنگی گرجا گھر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اندر تراشے گئے ستون اور چھتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قدیم افریقی معمار نہ صرف ساختی توازن سے واقف تھے بلکہ جمالیاتی حسن کو بھی غیرمعمولی اہمیت دیتے تھے۔ یہ گرجا گھر محض عبادت کے مقامات نہیں بلکہ زندہ عجائب گھر ہیں، جہاں ہر دیوار، ہر نقش اور ہر راستہ ایک کہانی سناتا ہے۔
لالیبیلا کے گرجا گھروں کی انجینئرنگ کا ایک اور حیرت انگیز پہلو نکاسی آب ہے۔ پہاڑی علاقے میں بارش کے پانی کو عمارتوں سے محفوظ طریقے سے نکالنے کیلئے زیر زمین نالیاں بنائی گئیں جو آج بھی کارآمد ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان معماروں کو جغرافیہ، موسم اور تعمیراتی سائنس کی گہری سمجھ حاصل تھی۔
مذہبی اعتبار سے لالیبیلا ایتھوپیائی آرتھوڈوکس عیسائیوں کیلئے نہایت مقدس مقام ہے۔ سال بھر یہاں عبادات جاری رہتی ہیں، لیکن کرسمس اور ایپی فینی کے موقع پر ہزاروں زائرین سفید روایتی لباس پہن کر ان گرجا گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ دعائیں، جلوس اور چراغوں کی روشنی اس شہر کو ایک روحانی منظرنامے میں بدل دیتی ہے، جہاں ماضی اور حال ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔
لالیبیلا کی عالمی اہمیت کا اعتراف اس وقت ہوا جب اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا۔ اس اعزاز کا مقصد نہ صرف ان گرجا گھروں کو محفوظ بنانا ہے بلکہ دنیا کو یہ باور کرانا بھی ہے کہ افریقی تہذیبیں محض زبانی روایات تک محدود نہیں بلکہ تعمیر، فن اور فکر میں بھی عظیم ورثہ رکھتی ہیں۔ بدقسمتی سے قدرتی عوامل، وقت کی مار اور سیاحتی دباؤ کے باعث یہ گرجا گھر خطرات سے دوچار ہیں۔
لالیبیلا کے گرجا گھر ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان اگر عقیدت، علم اور محنت کو یکجا کر لے تو پتھر بھی بولنے لگتے ہیں۔ یہ عبادت گاہیں صرف مذہبی عمارتیں نہیں بلکہ ایک تہذیب کی اجتماعی دانش، صبر اور تخلیقی قوت کا مظہر ہیں۔ آج کے جدید دور میں، جہاں بلند عمارتیں شیشے اور فولاد سے بنتی ہیں، لالیبیلا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل عظمت وسائل کی کثرت میں نہیں بلکہ وژن اور ہنر میں ہوتی ہے۔
آخرکار، لالیبیلا کا شہر اور اس کے چٹانوں میں تراشے گئے گرجا گھر انسانی تاریخ کے ان روشن ابواب میں شامل ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ افریقہ محض تاریخ کا پس منظر نہیں بلکہ خود تاریخ کا خالق بھی رہا ہے۔ یہ شاہکار آنے والی نسلوں کیلئے پیغام ہیں کہ ایمان، فن اور علم جب یکجا ہوں تو صدیوں کو مات دے سکتے ہیں۔