برسا جامع مسجد
اسپیشل فیچر
سلجوقی و عثمانی عظمت کا سنگم
ترکی کے تاریخی شہر برسا(Bursa) میں واقع برسا جامع مسجد جسے مقامی طور پر ''اولو کامی‘‘ کہا جاتا ہے، اسلامی فن تعمیر کا ایک درخشاں شاہکار ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد 14ویں صدی کے اواخر میں تعمیر کی گئی اور اسے ابتدائی عثمانی دور کی نمایاں ترین یادگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سلجوقی اور عثمانی طرزِ تعمیر کے حسین امتزاج نے اس مسجد کو ایک منفرد شناخت عطا کی ہے، جو آج بھی ہزاروں زائرین اور سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔
برسا، جو کبھی سلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت رہا، تاریخی ورثے سے مالا مال شہر ہے۔ اسی شہر کے قلب میں قائم یہ جامع مسجد اپنی سادگی اور جلال کے باعث ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ روایت ہے کہ اس کی تعمیر سلطان بایزید اوّل کے دور میں مکمل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عثمانی سلطنت اپنی بنیادیں مضبوط کر رہی تھی اور فن تعمیر میں نئی جہتیں متعارف ہو رہی تھیں۔ اولو کامی اسی ارتقائی مرحلے کی عکاس ہے۔مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے 20 گنبد ہیں جو قطار در قطار ترتیب دیے گئے ہیں۔ یہ گنبد چھت کے وسیع ڈھانچے کو سہارا دیتے ہیں اور اندرونی حصے کو ایک منفرد توازن اور ہم آہنگی عطا کرتے ہیں۔ دو بلند مینار مسجد کی شان بڑھاتے ہیں اور دور سے دیکھنے والوں کو اس کے روحانی وقار کا احساس دلاتے ہیں۔ اس میں بیک وقت تقریباً پانچ ہزارافراد نماز ادا کرسکتے ہیں، جو اس کے وسیع و عریض ہال کی گواہی دیتا ہے۔
مسجد کا اندرونی منظر نہایت دلکش ہے۔ دیواروں اور ستونوں پر آویزاں خطاطی کے شاہکار اسے ایک روحانی عجائب گھر کا درجہ دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں موجود قرآنی آیات اور اسمائے حسنیٰ کی خطاطی مختلف ادوار کے نامور خطاطوں کے فن کا نمونہ ہے۔ یہی خطاطی اولو کامی کو دیگر مساجد سے ممتاز کرتی ہے۔ بڑے بڑے ستون، کشادہ فرش اور گنبدوں سے چھنتی روشنی عبادت گزاروں کے دلوں میں سکون اور خشوع پیدا کرتی ہے۔
مسجد کے اندر موجود ایک خوبصورت فوارہ بھی اس کی انفرادیت کا حصہ ہے۔ عموماً فوارے صحن میں ہوتے ہیں، مگر اولو کامی میں یہ اندرونی حصے میں واقع ہے، جو ایک منفرد طرزِ تعمیر کی مثال ہے۔ اس سے نہ صرف وضو کی سہولت میسر آتی ہے بلکہ پانی کی مدھم آواز ایک روح پرور فضا قائم رکھتی ہے۔ یہ عنصر سلجوقی طرزِ تعمیر کی جھلک پیش کرتا ہے، جس میں پانی کو جمالیاتی اور روحانی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
برسا جامع مسجد کی تعمیر میں مضبوط پتھر اور سادہ مگر باوقار ڈیزائن اختیار کیا گیا۔ اس کی بیرونی دیواریں سادگی کا تاثر دیتی ہیں، جبکہ اندرونی حصہ نفیس آرائش اور خطاطی سے مزین ہے۔ یہی تضاد اسے ایک متوازن اور پْراثر عمارت بناتا ہے۔ یہ مسجد نہ صرف عبادت کا مرکز رہی بلکہ صدیوں تک علمی و سماجی سرگرمیوں کا محور بھی بنی رہی۔
آج بھی اولو کامی برسا کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ مقامی افراد کیلئے یہ روحانی مرکز ہے جہاں جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔ سیاح یہاں آکر نہ صرف نماز ادا کرتے ہیں بلکہ اس کے فن تعمیر اور تاریخی پس منظر سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مسجد کے اطراف قائم بازار اور تاریخی عمارات اس علاقے کو مزید پرکشش بناتے ہیں، جس سے یہ مقام ایک ثقافتی مرکز کی صورت اختیار کرچکا ہے۔
ترکی میں موجود دیگر عظیم مساجد کی طرح برسا جامع مسجد بھی اس بات کی گواہ ہے کہ اسلامی تہذیب نے فن تعمیر میں کس قدر بلندی حاصل کی۔ سلجوقی سادگی اور عثمانی عظمت کا امتزاج اسے ایک منفرد مقام دیتا ہے۔ یہ مسجد ماضی کی یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ حال کا زندہ روحانی مرکز بھی ہے۔مختصراً، برسا جامع مسجد یا اولو کامی صرف اینٹ اور پتھر کی عمارت نہیں بلکہ تاریخ، ایمان اور فن کا حسین امتزاج ہے۔ اس کے 20 گنبد، دو مینار، دلکش خطاطی اور وسیع ہال اسے ترکی کی نمایاں ترین مساجد میں شامل کرتے ہیں۔ صدیوں گزر جانے کے باوجود اس کی شان و شوکت برقرار ہے اور یہ آج بھی اسلامی فن تعمیر کی عظمت کا روشن استعارہ ہے۔