مصر میں دوسرا اسفنکس؟ زیرِ زمین میگا سٹرکچر کی نشاندہی
اسپیشل فیچر
مصر کے صحرائی علاقے میں ایک حیران کن اور تاریخی دریافت سامنے آئی ہے، جس میں اسکیننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ممکنہ دوسرا ''اسفنکس‘‘ یا وسیع زیر زمین میگا سٹرکچر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ دریافت مصر کی قدیم تہذیب کے رازوں کو سمجھنے میں ایک اہم پیشرفت ہو سکتی ہے۔ جدید اسکیننگ اور ریڈار ٹیکنالوجی نے زمین کے نیچے ایسی بڑی ساخت کو اجاگر کیا ہے جس پر تحقیق اور کھوج جاری ہے۔
مصر کے عظیم اسفنکس کے پنجوں کے درمیان واقع اسٹیل پر کندہ 3ہزار سال پرانی علامات ممکنہ طور پر خفیہ دوسرے اسفنکس کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اسٹیل پر دکھائے گئے دو اسفنکس کے نقش اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ مشہور یادگار کبھی اپنی جوڑی رکھتی تھی۔
2025 میں اٹلی کے محققین نے ''ابوالہول‘‘ کے پلیٹو کے نیچے وسیع زیر زمین ڈھانچے دریافت کرنے کا دعویٰ کیا اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرا اسفنکس ریت کے نیچے دفن ہے۔فلِپو بیونڈی نے یہ دریافت میٹ بیل لمیٹ لیس پوڈکاسٹ میں شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ موجود اسفنکس تک کھینچی گئی خطوط ایک آئینہ دار مقام کی نشاندہی کرتی ہیں، جہاں یہ دفن شدہ ڈھانچہ موجود ہو سکتا ہے۔بیونڈی کے مطابق، سیٹلائٹ ریڈار ٹیکنالوجی سے زمین کی ہلکی ارتعاشات کا تجزیہ کرنے پر یہ ڈیٹا سامنے آیا ہے کہ ایک 180 فٹ اونچی ریت کی مضبوط تہہ کے نیچے ایک بڑا ڈھانچہ چھپا ہوا ہے، جو قدرتی چٹان نہیں بلکہ سخت ریت پر مشتمل ہے۔ابتدائی اسکینز میں عمودی شافٹ اور راہداریوں کی موجودگی دکھائی دی ہے جو اصل اسفنکس کے نیچے پائے گئے ڈھانچے کے مشابہ ہیں۔ ان عمودی لائنوں کو ممکنہ طور پر زیر زمین شافٹ کی مضبوط دیواریں قرار دیا گیا ہے۔
بیونڈی کا ماننا ہے کہ ممکنہ دوسرے اسفنکس سے بڑھ کر، ابوالہول کے پلیٹو کے نیچے ایک وسیع زیر زمین میگا سٹرکچر موجود ہے، جس کی پیمائش وہ کر رہے ہیں۔ یہ دریافت مصر کی قدیم تہذیب اور اس کی تعمیراتی مہارت کے راز کھولنے میں ایک نیا باب ثابت ہو سکتی ہے۔
مصر کے عظیم اسفنکس کے سامنے والے پنجوں کے درمیان ڈریم اسٹیل یا سفنکس اسٹیل لگائی گئی تھی، جسے فرعون تھوٹ موس چہارم نے تقریباً 1401 قبل مسیح میں مصر کی 18ویں سلطنت کے دور میں نصب کیا۔یہ قدیم کندہ کاری، جیسے کہ نیو کنگڈم کے دوران بنائی گئی دیگر تحریریں، حکمران کے الٰہی حقِ حکمرانی کو مضبوط کرنے کیلئے کی گئی تھی۔روایت کے مطابق، یہ اسٹیل تھوٹ موس چہارم کے غیر متوقع تخت نشینی کو جواز فراہم کرتی ہے، اس خواب کی کہانی بیان کرتے ہوئے جس میں اسفنکس نے اسے یادگار کی مرمت کے عوض تخت دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس طرح سیاسی پروپیگنڈا اور مذہبی مشروعیت کا امتزاج نظر آتا ہے اور ابتدائی مرمت کے اقدامات کی دستاویز بھی ملتی ہیں۔تاہم، فلِپو بیونڈی اور ان کی ٹیم کا ماننا ہے کہ تصویروں میں چھپے دو اسفنکس کی علامتی اہمیت سے زیادہ حقیقت ہوسکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کندہ کاری محض علامتی نہیں بلکہ یادگاروں کی ترتیب کیلئے ایک خفیہ سراغ ہو سکتا ہے۔بیونڈی نے وضاحت کی کہ جب انہوں نے خفرے کے ہرم کے مرکز سے موجود اسفنکس تک ایک لکیر کھینچی، تو اس کی ترتیب نے پلیٹو پر ایک درست جیومیٹرک راستہ قائم کیا، جو دوسرے ممکنہ مقام کی شناخت کیلئے آئینہ دار حوالہ لکیر کے طور پر کام کرتا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر، جس میں عظیم ہرم، خفرے کا ہرم، منکورے کا ہرم اور عظیم اسفنکس شامل ہیں، ایک تہہ کو ظاہر کرتی ہیں، اور بیونڈی کا ماننا ہے کہ یہ دوسرے اسفنکس کے اوپر موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلا اسفنکس اردگرد کی سطح کے تھوڑا نیچے کم گہرائی میں واقع ہے، ممکن ہے کہ دوسرا اسفنکس اس بلند تہہ کے نیچے چھپا ہوا ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اندازے درست ثابت ہوے تو یہ مصر کے تاریخی نقشے میں ایک نیا اور شاندار اضافہ ثابت ہو سکتا ہے، جو پرانے مصر کی عمارات اور فن تعمیر کی حیرت انگیز مہارت کو سامنے لاتا ہے۔یہ ابتدائی رپورٹ عالمی ماہرین اور محققین کیلئیے بھی ایک سنجیدہ دلچسپی کا سبب بنی ہے، جو قدیم مصر کی تاریخ اور آثار قدیمہ کی دنیا میں نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔