غلامی سے نجات کا عالمی دن
اسپیشل فیچر
تاریخ،حقیقت اور آج کا چیلنج
ہر سال 25 مارچ کو دنیا بھر میں غلامی اور غلاموں کی تجارت کے متاثرین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن انسانیت کی تاریخ کے ایک سیاہ باب،بحرِ اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت کو یاد کرنے اور اس کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مخصوص ہے۔ اقوامِ متحدہ نے اس دن کو 2007ء میں باقاعدہ تسلیم کیا تاکہ نہ صرف ماضی کی ہولناکیوں کو یاد رکھا جائے بلکہ آج کی دنیا میں موجود جدید غلامی کے خلاف شعور بھی اجاگر کیا جا سکے۔
غلامی کی تاریخ، المناک داستان
تاریخی طور پر غلامی صدیوں تک انسانی معاشروں کا حصہ رہی مگر 15ویں سے 19ویں صدی تک جاری رہنے والی ٹرانس اٹلانٹک غلاموں کی تجارت کو انسانی تاریخ کا بدترین باب سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران اندازاً ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد مرد، خواتین اور بچوں کو زبردستی افریقہ سے امریکہ منتقل کیا گیا۔ ان میں سے لاکھوں افراد سمندری سفر کے دوران ہی ہلاک ہو گئے جبکہ زندہ بچنے والوں کو غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس ظلم نے نہ صرف لاکھوں زندگیاں تباہ کیں بلکہ نسل در نسل سماجی، معاشی اور ثقافتی اثرات بھی چھوڑے جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔مگریہ سمجھنا غلط ہوگا کہ غلامی صرف ماضی کا قصہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی دنیا میں غلامی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً پانچ کروڑ لوگ جدید غلامی کا شکار ہیں۔ ان میں سے دو کروڑ80لاکھ افراد جبری مشقت میں جبکہ دوکروڑ20 لاکھ جبری شادیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہر 150 میں سے ایک انسان کسی نہ کسی شکل میں غلامی کا شکار ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ غلامی ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں جیسے انسانی سمگلنگ، جبری مشقت،قرض کے بدلے غلامی،کم عمری کی شادی،جنسی استحصال وغیرہ۔
اعداد و شمار کے مطابق خواتین اور بچے اس ظلم کا سب سے بڑا شکار ہیں۔جبری جنسی استحصال کے تقریباً 80 فیصد متاثرین خواتین اور لڑکیاں ہیں۔ غلامی کا شکار افراد میں ایک بڑا حصہ بچوں پر مشتمل ہے جنہیں مزدوری یا جنسی استحصال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غلامی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی حقوق کا بحران ہے۔
پاکستان اور خطے کی صورتحال
گلوبل سلیوری انڈیکس کے مطابق پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں جدید غلامی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 23 لاکھ افراد کسی نہ کسی شکل میں غلامی کا شکار ہیں۔ غلامی کی عام صورتوں میں اینٹوں کے بھٹوں پر جبری مشقت،زرعی شعبے میں قرض کے بدلے کام،گھریلو ملازمین کا استحصال اور بچوں سے مشقت شامل ہے ۔یہ مسائل غربت، تعلیم کی کمی اور قانون کے کمزور نفاذ کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق جدید غلامی کے پھیلاؤ کی کئی بنیادی وجوہات ہیں جیسا کہ غربت اور بے روزگاری، تعلیم کی کمی، سیاسی عدم استحکام اور جنگیں، مجبوراً ہجرت اور کمزور قانونی نظام۔عالمی اقتصادی فورم کے مطابق جبری مشقت سے حاصل ہونے والی غیر قانونی آمدنی 236 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے جو اس مسئلے کے معاشی پہلو کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
دنیا بھر میں غلامی کے خاتمے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں جیسا کہ اقوامِ متحدہ کا ایس ڈی جی ٹارگٹ 8.7، جس کا مقصد 2030ء تک غلامی کا خاتمہ ہے۔اس کے علاوہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے قوانین،انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی معاہدے۔سپلائی چین میں شفافیت کے قوانین، مگراس کے باوجود غلامی کا مکمل خاتمہ ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ یہ اکثر خفیہ طریقوں سے جاری رہتی ہے۔
کیا کیا جا سکتا ہے؟
پاکستان میں غلامی کے خاتمے کے لیے جو اقدامات ضروری ہیں ان میںجبری مشقت کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد،تعلیم اور آگاہی مہمات،غریب طبقات کے لیے معاشی مواقع،میڈیا کا فعال کردار اورانسانی سمگلنگ کے خلاف مؤثر کارروائیاں شامل ہیں۔ 25 مارچ کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ غلامی صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ایک جاری مسئلہ ہے۔ یہ دن ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم نہ صرف ماضی کے متاثرین کو یاد کریں بلکہ آج کے مظلوم انسانوں کے لیے آواز بھی اٹھائیں۔ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ظلم کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے۔ کیونکہ جب تک دنیا میں ایک بھی انسان غلامی کا شکار ہے، تب تک انسانی آزادی کا خواب ادھورا ہے۔