قومی ہاکی،ہیڈکوچ کی تبدیلی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

قومی ہاکی،ہیڈکوچ کی تبدیلی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

قومی ہاکی،ہیڈکوچ کی تبدیلی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا نصف صدی قبل گھاس پر ہاکی کھیلنے والوں کی جگہ ماڈرن کوچز لاناہونگے

اسلام آباد(سپورٹس رپورٹر) قومی ہاکی ٹیم کی حالیہ بدترین کارکردگی کے بعد 74سالہ ہیڈکوچ منظورالحسن سینئرکی تبدیلی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ قومی کھیل کے ماہرین نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی کھیل کو دوبارہ عروج بخشنے کیلئے نصف صدی قبل قدرتی گھاس پر ہاکی کھیلنے والے بزرگ لیجنڈ کی جگہ طاہرزمان کیساتھ محمدثقلین جیسے ماڈرن کوچزکو لاناہوگا کیونکہ وقت کیساتھ ہاکی کی رفتار، قوانین اور ایسٹرو ٹرف کے مزاج نے کھیل کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے ۔ منظور الحسن(سنیئر)نے پاکستان ہاکی کا وہ سنہری دور دیکھا جب کھیل زیادہ تر قدرتی گھاس پر کھیلا جاتا تھا، جہاں کھیل کی رفتار آج کے مقابلے میں کم تھی لیکن کھلاڑیوں کی انفرادی مہارت اور فٹنس کمال کی تھی۔ منظور الحسن اپنے دور کے فولادی فل بیک تھے جن کے کلاسک ڈیفنس کا کوئی ثانی نہیں تھا، تاہم انہوں نے ماڈرن ہاکی نہیں کھیلی۔موجودہ ٹیکٹیکل کوچنگ میں طاہر زمان اور محمدثقلین سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ پی ایچ ایف کے صدر محی الدین وانی نے ''دنیا''سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طاہرزمان ہی بطور ڈائریکٹر پاکستان ہاکی کے کوچنگ سمیت تمام معاملات کو دیکھ رہے ہیں ، ہیڈ کوچ بارے ٹیکنیکل کمیٹی سے مشاورت کی جائے گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں