شوگر کی دوا کے دماغ پر ممکنہ منفی اثرات کا انکشاف

 شوگر کی دوا کے دماغ پر ممکنہ منفی اثرات کا انکشاف

لاہور(نیٹ نیوز) نئی سائنسی تحقیق کے نتائج میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ذیابیطس کے علاج میں استعمال ہونے والی معروف دوا میٹفارمن صرف خون میں شوگر کم نہیں کرتی بلکہ براہِ راست دماغ پر اثر انداز بھی ہوتی ہے۔

جس کے بعد ماہرین نے اسکے طویل مدتی اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔سائنسی جریدے ‘سائنس ایڈوانسز’ میں شائع تحقیق کے مطابق میٹفارمن دماغ کے حصے ہائپوتھیلمس پر اثر ڈالتی ہے جو توانائی اور شوگر کے توازن کو کنٹرول کرتا ہے ، دوا دماغ میں موجود ایک پروٹین ریپ 1 کو دباتی ہے ، مخصوص اعصابی خلیات کو متحرک کرتی ہے اور اس کی دماغ میں معمولی مقدار بھی خون میں شوگر نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے ۔ یہ دریافت حیران کُن ہے کیونکہ زیادہ تر ذیابیطس کی ادویات جگر یا لبلبے پر اثر کرتی ہیں، دماغ پر نہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں