لیبر کالونی:کروڑوں کی سرکاری اراضی پر مافیا کا قبضہ
جڑانوالہ روڈ پر وزیراعلیٰ کوٹہ کے 29 الاٹ شدہ پلاٹس سمیت ڈسپوزل ورکس، ڈسپنسری اور کمرشل سنٹر کے لیے مختص اراضی پر قبضے 5 سال بعد بھی واگزارنہ ہو سکے 20 جنوری کو اسسٹنٹ کمشنر صدر سے عملہ، مشینری ، انتظامی معاونت طلب کی گئی ، پولیس حکام کی تصدیق بھی موجود ، تاحال آپریشن کی تاریخ اور وقت مقرر نہیں کیا جا سکا
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے ) جڑانوالہ روڈ پر واقع لیبر کالونی راجہ غضنفر علی خان کی کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی مبینہ قبضہ مافیا کے رحم و کرم پر ہے ، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے کارروائیاں درخواستوں اور کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ کوٹہ کے 29 غیر الاٹ شدہ پلاٹس سمیت ڈسپوزل ورکس، ڈسپنسری اور کمرشل سنٹر کے لیے مختص اراضی پر بھی پختہ قبضے برقرار ہیں۔چک نمبر 228 ر۔ب میں 1987 میں مزدوروں اور کم آمدن والے افراد کے لیے قائم کی گئی لیبر کالونی میں متعدد سرکاری پلاٹس اور اراضی پر مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات قائم کرلی گئی ہیں۔ بعض الاٹیز کے پلاٹس پر قبضوں کے باعث اصل حقدار بھی اپنی املاک سے محروم ہیں۔محکمہ لیبر فیصل آباد کی جانب سے صورتحال سے پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ لاہور کو متعدد بار آگاہ کیا جا چکا ہے ۔ ڈائریکٹر لیبر ایسٹ نے بھی 6 اپریل 2021 کو تحریری طور پر صورتحال سے آگاہ کیا، تاہم پانچ سال گزرنے کے باوجود سرکاری اراضی واگزار نہ کرائی جا سکی۔ذرائع کے مطابق 20 جنوری 2026 کو قبضے واگزار کرانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر صدر سے عملہ، مشینری اور انتظامی معاونت بھی طلب کی گئی تھی، جبکہ درخواست پر پولیس حکام کی تصدیق بھی موجود ہے ، تاہم تاحال انکروچمنٹ آپریشن کی تاریخ اور وقت مقرر نہیں کیا جا سکا۔شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ لیبر کالونی کی سرکاری اراضی فوری طور پر واگزار کرا کر مبینہ قبضہ مافیا کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ، جبکہ کئی برس سے عملی اقدام نہ کرنے والے متعلقہ افسران کی ذمہ داری بھی طے کی جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments