محکمہ کسٹمز میں کروڑوں کے فراڈ کااسکینڈل بے نقاب

محکمہ کسٹمز میں کروڑوں کے فراڈ کااسکینڈل بے نقاب

جعلی دستاویزات کے ذریعے نیلامی کا قیمتی سامان گودام سے نکلوانے کا انکشاف ڈیوٹی اور ٹیکس کی مد میں 55لاکھ 30 ہزار 99روپے کی ادائیگی نہیں کی

کراچی(اسٹاف رپورٹر)محکمہ کسٹمز میں کروڑوں روپے کے فراڈ کا بڑا اسکینڈل بے نقاب ہو گیا۔ کسٹمز اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے جعلی دستاویزات کے ذریعے نیلامی کا قیمتی سامان کسٹمز گودام سے نکلوانے کا انکشاف ہوا ہے ۔کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے نیلامی لاٹ میں مبینہ جعلسازی پر کسٹمز ایکٹ 1969 کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے ۔مقدمے کے مطابق محمد شہزاد اسلم پر نیلامی ریکارڈ میں مبینہ جعلسازی، فائل غائب کرنے اور خریدار کو نیلامی کی خفیہ معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے ۔ طلحہ حفیظ خان محمد پر جعلی دستاویزات کے ذریعے نیلامی کا سامان حاصل کرنے کا الزام ہے ۔ محمد تحسین اور سیف نامی شخص پر جعلی دستاویزات کے ذریعے سامان نکلوانے میں معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔کسٹمز ذرائع کے مطابق نیلامی کے سامان کی مجموعی مالیت 1 کروڑ 82 لاکھ 3 ہزار 257 روپے تھی جبکہ نیلامی کی قیمت 1 کروڑ 26 لاکھ 73 ہزار 158 روپے مقرر تھی۔ بولی کی رقم 1 کروڑ 50 لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی۔تحقیقات میں سامنے آیا کہ ڈیوٹی اور ٹیکس کی مد میں 55 لاکھ 30 ہزار 99 روپے اور 15 لاکھ روپے انکم ٹیکس کی ادائیگی مبینہ طور پر نہیں کی گئی۔ تحقیقات کے مطابق 1 کروڑ 50 لاکھ روپے نقد رقم کی مبینہ ادائیگی محمد تحسین کے ذریعے محمد شہزاد اسلم تک پہنچانے کا الزام بھی شامل ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نیلامی کی اصل فائل آکشن سیکشن سے غائب کر دی گئی۔ جعلی ڈلیوری آرڈر، سرٹیفکیٹ، چالان اور ادائیگی کی رسیدیں تیار کی گئیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...