گندم خریداری سکیم کا اعلان نہ ہونے پر کسانوں کا احتجاج

گندم خریداری سکیم کا اعلان نہ ہونے پر کسانوں کا احتجاج

ہائیکورٹ بھی منصفانہ قیمت مقرر کر نے کا حکم دے چکی ، عملدر آمد نہیں ہو رہا

حافظ آباد(نامہ نگار ، نمائندہ دُنیا )کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی نائب صدر امان اﷲ چٹھہ نے کہا ہے کہ گندم کی فصل تیار ہو چکی لیکن ابھی تک حکومت نے سرکاری یا نجی شعبہ میں گندم خریداری سکیم کا اعلان نہیں کیا جس پر کسا ن سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا پاسکو کی طرف سے نیلامی کے لیے پیش کی جانے والی پرانی دیسی گندم کی ریزرو قیمت 4150 روپے من مقرر کی گئی ہے جبکہ رواں سیزن میں نجی شعبہ کسانوں سے 2200 روپے من میں گندم خرید کر 4700 روپے تک فروخت کر کے بیک وقت کسانوں اور صارفین کا استحصال کرتا رہا جس پر حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی جو افسوس ناک ہے انہوں نے واضح کیا دو سال پہلے تک پاسکو اور محکمہ فوڈ جیسے حکومتی ادارے کسانوں سے براہ راست 39 سور روپے کی مقررہ امدادی قیمت پر خریداری کرتے رہے جسے موجودہ حکومت پنجاب نے اقتدار میں آتے ہی ختم کردیا جس پر کسانوں نے ملک گیر احتجاج کرتے ہوئے اسے دشمن پالیسی اور معاشی قتل کے مترادف قرار دیا اس دوران کسانوں کے مسلسل احتجاج کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ بھی کسانوں کو اعتماد میں لے کر گندم کی منصفانہ قیمت کا اہتمام کرنے کا صوبائی حکومت کو حکم صادر کر چکی ہے جس پر عمل در آمد میں مسلسل گریز کیا جا رہا ہے انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ پاسکو کے پرانے سٹاک کی ریزرو قیمت 4150  روپے میں معقول اضافہ کے ساتھ گندم کی نئی فصل کی خریداری کا ٹھوس میکنزم بنایا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں