کسانوں سے 1بوری گندم بھی نہیں خریدی گئی:کسان بورڈ

 کسانوں سے 1بوری گندم بھی نہیں خریدی گئی:کسان بورڈ

کٹائی تیزی سے جاری ، کسان 3 ہزار روپے من فصل فروخت کرنے پر مجبور

 حافظ آباد(نمائندہ دُنیا)کسان بورڈ کے مرکزی نائب صدر امان اﷲ چٹھہ ضلعی چیئرمین ملک شوکت پھلروان اور ضلعی صدر سہیل تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہے کہا کہ حکومت نے جن کمپنیوں کو کسانوں سے 3500 روپے من پر گندم خریداری کی ذمہ داری دی ہے انہوں نے ابھی تک کسانوں سے ایک بوری گندم بھی نہیں خریدی جبکہ کٹائی تیزی سے جاری ہے اور کسان 3 ہزار روپے من میں فصل فروخت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ ضلع حافظ اباد میں تین لاکھ 93 ہزار ایکڑ رقبہ گندم کے زیر کاشت ہونے کے باوجود صرف 70 ہزار بوری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے جس کیخلاف کسان سراپااحتجاج ہیں انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ نجی کمپنیوں کے لیے 71 ارب روپے 48 کروڑ روپیہ کی رقم خزانے سے جاری کرنے کے بعد ان کو بلا تاخیر ون ونڈو اپریشن کے ذریعے خریداری کا آغاز کرنے کا پابند کیا جائے ۔ کسانوں اور زراعت کو تباہ کرنے کی موجودہ پالیسی ملک کو سنگین فوڈ سکیورٹی خطرات سے دوچار کر رہی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں