واٹر اور سیوریج چارجز میں اضافہ،کاروباری افراد پریشان
ہزاروں خاندان سمال مینو فیکچرنگ ،دستکاری سے وابستہ ہیں :جمال بھٹہ ودیگر
وزیرآباد(ڈسٹرکٹ رپورٹر )چیئرمین پاکستا ن کٹلری اینڈ سٹین لیس سٹیل یوٹینسلز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن جمال بھٹہ، منیجنگ ڈائریکٹر پاک کٹلری کنسورشیم وزیرآباد خالد مغل، چیئر پرسن کٹلری کونسل وزیرآباد مہر شکیل اعظم،مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما مستنصر علی گوندل، صدر پریس کلب وزیرآباد افتخار احمد بٹ اور پروفیسر حافظ محمد منیر نے کہا ہے کہ واسا وزیرآباد کی جانب سے واٹر سپلائی اور سیوریج چارجز میں نمایاں اضافہ مقامی آبادی خصوصاً مائیکرو اینڈ سمال انٹرپرائزز کرافٹ مینوں چھوٹے تاجروں اور متوسط طبقے کیلئے شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیرآباد سٹی آف کٹلری ہے جہاں ہزاروں خاندان چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ دستکاری اور مقامی کاروبار سے وابستہ ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت میونسپل کارپوریشن کو واٹر سپلائی سیوریج سینیٹیشن اور دیگر شہری خدمات کے بنیادی اختیارات حاصل ہیں اور اسی قانونی فریم ورک کے تحت واسا بطور سپیشلائزڈ سروس ایجنسی خدمات انجام دے رہی ہے تاہم کسی بھی قسم کے نئے ریٹس فیس یا سروس چارجز کے نفاذ میں عوامی استطاعت شفافیت قانونی نوٹیفکیشن اور مقامی مشاورت کو بنیادی اہمیت دی جانی چا ہیے ۔ انہوں نے حکومت پنجاب سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور متعلقہ انتظامی حکام سے مطالبہ کیا کہ سابق میونسپل کمیٹی وزیرآباد کے واٹر سپلائی اور سیوریج شیڈول کو معمولی اضافے کے ساتھ برقرار رکھا جائے اور واٹر سپلائی و سیوریج کے علیحدہ علیحدہ مناسب چارجز مقرر کئے جائیں تاکہ شہریوں تاجروں اور چھوٹے صنعتی اداروں پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے ۔