مہنگائی،معاشی بحران ،سنت ابراہیمی کی ادائیگی مشکل

مہنگائی،معاشی بحران ،سنت ابراہیمی کی ادائیگی مشکل

بلوں ، فیسوں ، راشن ، ادویات، روزمرہ اخراجات نے زندگی اجیرن بنا دی :شہری

علی پورچٹھہ(تحصیل رپورٹر) مہنگائی، بیروز گاری اور معاشی بحران نے سنت ابراہیمی کی ادائیگی مشکل بنا دی ، مویشی منڈی خریداروں سے خالی ، بیوپاری پریشان ہوگئے ۔ علی پورچٹھہ اور گردونواح کی مویشی منڈیوں میں ماضی کے بر عکس غیر معمولی ویرانی دیکھنے میں آ رہی ہے مہنگائی، بے روزگاری، معاشی بدحالی اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے سنت ابراہیمی کی ادائیگی کو متوسط اور غریب طبقے کیلئے انتہائی مشکل بنا دیا ۔ منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کی بہتات کے باوجود خریدار خال خال نظر آ رہے ہیں جبکہ بیوپاری شدید پریشانی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ علی پورچٹھہ میں میونسپل کمیٹی کی جانب سے منڈی قائم کی گئی ہے مویشی منڈی میں اس سال جانور کی تعداد میں کمی نظر آ رہی ہے اور خریداری کا رجحان انتہائی کم ہے ۔ بیوپاری دن بھر گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں مگر زیادہ تر شہری صرف قیمتیں پوچھ کر لوٹ جاتے ہیں۔

مویشی منڈی میں موجود بیوپاری فضل دین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں انہی دنوں تک آدھے سے زیادہ جانور فروخت ہو چکے ہوتے مگر اس سال صورتحال بالکل مختلف ہے ، لوگوں کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے ، جانور موجود ہیں مگر خریدار نہیں۔ منڈی میں ایک عام بکرے کی قیمت لاکھ سے اوپر جبکہ گائے اور بیل کی قیمت لاکھوں روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کے بھاری بل، بچوں کی فیسیں، راشن، ادویات اور روزمرہ اخراجات نے زندگی اجیرن بنا دی ۔ ایک شہری نعیم اختر نے کہا کہ دل تو چاہتا ہے کہ سنت ابراہیمی ادا کریں مگر گھر کے بنیادی اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے ، ایسے حالات میں قربانی کرنا صرف خواہش بن کر رہ گئی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں