ایشیا کی سب سے بڑی رائس منڈی کامونکے جدید ٹرانسپورٹ سے محروم، سفر میں مشکلات

ایشیا کی سب سے بڑی رائس منڈی کامونکے جدید ٹرانسپورٹ سے محروم، سفر میں مشکلات

کوئی سرکاری یا منظم ٹرانسپورٹ سروس نہ ہونے سے شہری رکشوں، اوورلوڈ ویگنوں ، خستہ حال بسوں پر سفرکرنے پرمجبور ،من مانے کرائے ، گرین بس کو کامونکے تک توسیع دینے کامطالبہ

 کامونکے (تحصیل رپورٹر)ایشیا کی سب سے بڑی رائس منڈیکامونکے جدید ٹرانسپورٹ سے محروم، شہریوں کا کہنا ہے کہ کامونکے میں کوئی سرکاری یا منظم ٹرانسپورٹ سروس موجود نہیں جسکے باعث لاکھوں شہری غیر محفوظ رکشوں، اوورلوڈ ویگنوں اور خستہ حال بسوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ ٹرانسپورٹ مافیا کی جانب سے من مانے کرائے وصول کرنے کی شکایات بھی عام ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید گھمبیر ہو گئی جب سیالکوٹ لاہور موٹر وے کی تعمیر کے بعد جی ٹی روڈ سے گزرنے والی بسیں موٹر وے پر منتقل ہو گئیں۔ اسکے علاوہ کامونکی ریلوے سٹیشن پر ٹرینوں کے سٹاپ بھی بتدریج ختم کر دیئے گئے ۔ شہریوں کی سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ حکومت پنجاب نے گوجرانوالہ کیلئے میٹرو یا گرین بس سروس کا منصوبہ تو بنایا لیکن کامونکے کو اس سے باہر رکھا گیا۔ تاجروں، طلبہ اور شہریوں نے وزیر اعلیٰ اور وزیر ٹرانسپورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ گرین بس سروس کو کامونکے تک توسیع دی جائے ، کامونکی سٹیشن پر ٹرین سٹاپ بحال کیے جائیں اورسیکرٹری آر ٹی اے اوورلوڈنگ و ہوشربا کرایوں کیخلاف فوری ایکشن لیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں