سرحد پار سے جنم لینے والے سکیورٹی چیلنجز،معاشی سرگرمیاں متاثر

سرحد پار سے جنم لینے والے سکیورٹی چیلنجز،معاشی سرگرمیاں متاثر

تجارتی حجم میں 4ارب سے زائد کی کمی، محفوظ کیساتھ فعال سرحد بھی لازم ،گورنر کے پی

اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) ادارہ برائے علاقائی مطالعات کے زیرِاہتمام منعقدہ پالیسی مکالمے میں مقررین نے خبردار کیا کہ سرحد پار سے جنم لینے والے سکیورٹی چیلنجز اور سرحدی راستوں کی بار بار بندشیں پاکستان کی تجارت، ٹرانزٹ امکانات اور علاقائی ربط (ریجنل کنیکٹیوِٹی) کے ایجنڈے کو شدید معاشی نقصان پہنچا رہی ہیں، جس کی مالیت اربوں امریکی ڈالر تک پہنچتی ہے ۔ دہشت گردی کی معاشی قیمت سرحد پار سے درپیش عدمِ تحفظ کے باعث پاکستان کے تجارتی نقصانات کے عنوان سے مکالمہ آئی آر ایس میں ہوا۔ تقریب میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی ،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو محض ایک فرنٹ لائن صوبہ نہیں بلکہ منڈیوں کے مابین ایک پل اور لاجسٹکس، قانونی تجارت اور روزگار کے لیے ایک ممکنہ مرکزی مرکز (hub) کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ۔ انہوں نے زور دیا کہ محفوظ سرحد کے ساتھ فعال سرحد بھی لازم ہے اور وفاق و صوبے کے مابین مضبوط رابطہ کاری، انفراسٹرکچر کی تیاری، اور ایسی پالیسیوں کی ضرورت پر روشنی ڈالی جو سرحدی دباؤ کو معاشی مواقع میں تبدیل کر سکیں۔سالانہ 8.5ارب امریکی ڈالر (یعنی تقریباً 2کروڑ 5لاکھ امریکی ڈالر یومیہ) کے برابر تھی ، تاہم سرحدی بندشوں اور تعطل کے باعث 2024-25میں یہ حجم کم ہو کر تقریباً 4ارب امریکی ڈالر رہ گیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں