امیر العظیم نے جو ورثہ چھوڑا وہ ناپید ہوتا جا رہا ،احسن اقبال
ہمارے ہاں سیاسی کارکن بڑھ رہے ہیں لیکن نظریاتی کارکن کم ہو رہا ہے امیر العظیم کے اندر لوگوں کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا،لیاقت بلوچ
اسلام آباد(اپنے رپورٹرسے )وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ امیر العظیم نے جو ورثہ چھوڑا وہ ناپید ہوتا جا رہا ہے ، ہمارے ہاں سیاسی کارکن بڑھ رہے ہیں لیکن نظریاتی کارکن کم ہو رہا ہے ، وہ نظریاتی کلاس کے ایک درخشندہ ستارے تھے ، ضرورت ہے کہ ہم اپنے نظریات کو اپنے عمل میں ڈھالیں ،نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ امیرالعظیم ایک عظیم شخصیت تھے ، امیرالعظیم سید ابوالاعلی مودودی کے افکار کے بہترین داعی تھے ، جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ عوام کو ریلیف ملے اور امید ہے ہماری جدوجہد کامیاب ہوگی، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سابق سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ دنیا کے حالات کے تناظر میں ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ملک کے استحکام کو اپنی سیاسی جدوجہد میں سامنے رکھیں، لیاقت بلوچ نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امیر العظیم کے اندر لوگوں کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، انہوں نے خدمت کی بہت اچھی اور اعلی روایات قائم کیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments