سندھ شدید سردی کی لپیٹ میں، معمولات زندگی شدید متاثر
بچوں کو اسکول جانے میں دشواری، والدین نے تعطیلات بڑھانے کا مطالبہ کردیاگرم ملبوسات، مشروبات کی مانگ میں اضافہ، دھند کے باعث ڈرائیورپریشان
حیدرآباد، اندرون سندھ (نمائندگان دنیا) کراچی، حیدر آباد سمیت پورا سندھ شدید سردی کی لپیٹ میں آگیا، کوئٹہ کی یخ ہوائیں چلنے سے پارہ گر گیا، جس سے معمولات زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ بچوں کو اسکول جانے میں دشواری پیش آرہی ہے ، والدین کا کہنا ہے کہ دھند میں اضافہ ہونے کے باعث رات گئے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ، جس کے باعث بچوں کو اسکول روانہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کو چاہئے کہ شدید ٹھنڈ کے پیش نظر سرکاری و پرائیویٹ اسکولز کو ایک ہفتے کے لئے بند کیا جائے اور ایک ہفتے کے اندر موسم میں تبدیلی نہیں آتی تو چھٹیوں میں مزید اضافہ کیا جائے ، کیونکہ شدید ٹھنڈ کے باعث بیماریوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی چکن، انڈے ، ڈرائی فروٹ سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا گیا، متعلقہ انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں اس صورتحال پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مختلف مقامات پر لنڈے کی دکانوں ا ور اسٹالوں پر پرانے اور گرم کپڑے خریدنے والوں کا رش لگا ہوا ہے ۔ دوسری جانب صبح کے وقت قومی شاہراہوں پر بھی دھند کے باعث ٹریفک کی آمد ورفت میں ڈرائیوروں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا، تاہم موٹر وے پولیس کی جانب سے فوگ بڑھ جانے پر ڈرائیوروں کو غیر ضروری سفر سے قبل ہی محفوظ مقام پر کھڑا کر دیا۔