سول اسپتال سکھر کی خستہ حالی، دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ

سول اسپتال سکھر کی خستہ حالی، دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ

آرتھو پیڈک وارڈ کی عمارت ٹراما سینٹر منتقلی کی پی سی ون، فزیبلٹی رپورٹ پیشآرتھوپیڈک وارڈ اسٹیٹ آف دی آرٹ بنائینگے ، انتظامیہ کی عدالت کو یقین دہانی

سکھر(بیورو رپورٹ)سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں سول اسپتال میں ٹراما سینٹر کے قیام اور آرتھوپیڈک وارڈ کی خستہ حالی کیس کی سماعت ہوئی ، وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ، عدالتی ذرائع کے مطابق کیس کی سماعت سندھ ہائی کورٹ سکھر کے جسٹس امجد علی بوھیو اور جسٹس علی حیدر ادا پر مشتمل دو رکنی آئینی بینچ نے کی،اسپتال انتظامیہ کی جانب سے آرتھوپیڈک وارڈ کی عمارت کو ٹراما سینٹر میں منتقل کرنے کی پی سی ون اور فزیبلٹی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ، سول اسپتال میں آرتھوپیڈک وارڈ کو اسٹیٹ آف دی آرٹ بنایا جائے گا، اسپتال انتظامیہ کی عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ علی رضا بلوچ اور سول اسپتال کی جانب سے ایڈووکیٹ محفوظ اعوان عدالت میں پیش ہوئے ، جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے ڈپٹی سیکریٹری ٹیکنیکل ، پرنسپل جی ایم سی ، ایم ایس سول اسپتال ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس سمیت آرتھو اور ٹراما کے ڈاکٹرز عدالت میں پیش ہوئے ۔ بعد ازیں بیرسٹر خان عبدالغفار خان نے میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ عدالتی فیصلے میں عوام کی سہولت کو مد نظر رکھا جائے گا ہم چاہتے ہیں کہ سکھر میں اچھے آرتھوپیڈک وارڈ کے ساتھ ایک بہتر ٹراما سینٹر بھی موجود ہو،انہوں نے بتایا کہ عدالت نے محکمہ صحت اور اسپتال انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ آرتھوپیڈک وارڈ اور آپریشن تھیٹرز کو جلد مکمل کیا جائے عدالت نے اسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران کا موقف اور وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں