ہندو بچیوں کی جبری مذہب تبدیلی کیخلاف قانون سازی کامطالبہ

ہندو بچیوں کی جبری مذہب تبدیلی کیخلاف قانون سازی کامطالبہ

دراوڑ اتحاد کی جانب سے 17اہم نکات وفاقی اور سندھ حکومت کے سامنے پیشواضح پالیسی مرتب کرکے نابالغ بچیوں کا نکاح غیر قانونی قرار دیا جائے ، رہنما

میرپور خاص (بیورو رپورٹ )میرپورخاص میں دراوڑ اتحاد کی جانب سے 17 اہم نکات پر مشتمل مسائل کے حوالے سے چیئرمین فقیر شیوا کچھی، مرکزی صدر وکیل بھاگ چند بھیل، ڈاکٹر ہمیر سنگھ، ڈاکٹر نارائن داس، سیٹھ مان سنگھ ٹھکر، سیٹھ موہن شانتی ٹھکر اور دیگر رہنماؤں نے میرپورخاص پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دراوڑ اتحاد نے ہمیشہ غریبوں، مسکینوں اور مظلوموں کی آواز بلند کی ہے اور اب دراوڑ اتحاد کی جانب سے 17 اہم نکات وفاقی اور سندھ حکومت کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سمیت پورے ملک میں ہندو اقلیتی بچیوں کے اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور زبردستی شادی کے خلاف قانون سازی کی جائے ۔ نابالغ بچیوں کے مذہب کی تبدیلی اور نکاح کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور واضح پالیسی بنائی جائے تاکہ بچیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔ اس کے علاوہ مندروں، قبرستانوں اور ہندوؤں کی زمینوں پر ہونے والے قبضے فوری ختم کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے لیے حکومت کی جانب سے ملنے والے فنڈز خورد برد کیے جا رہے ہیں اور من پسند افراد کو دیے جاتے ہیں۔ حکومتی فنڈز ہر اقلیتی فرد کو بغیر سفارش فراہم کیے جائیں۔ پاکستان دراوڑ اتحاد کو اقلیتوں کی سماجی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی سرکاری گرانٹ دی جائے تاکہ غریبوں کی مالی مدد کی جا سکے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقلیتوں کے لیے سرکاری زمینیں رہائش، مندروں اور قبرستانوں کے لیے مخصوص کی جائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں