چرس برآمدگی کیس،4ملزمان کی سزائیں کالعدم

چرس برآمدگی کیس،4ملزمان کی سزائیں کالعدم

کوئی مزید مقدمہ زیر التوا نہیں تو فوری جیل سے رہا کیا جائے ،ہائیکورٹ پراسیکیوشن کے گواہان کے بیانات میں واضح تضاد موجود ہے ،وکیل کا موقف

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے بیس کلو سے زائد چرس برآمدگی کیس میں چار ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں منظور کرتے ہوئے سزا کالعدم قرار دے دی۔سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا کہ اگر ملزمان کے خلاف کوئی مزید مقدمہ زیر التوا نہیں ہے تو انہیں فوری طور پر جیل سے رہا کیا جائے ۔ پراسیکیوشن کے مطابق ملزمان میں اینٹی انکروچمنٹ فورس کا اہلکار سکندر، سلیم، ولی محمد اور کم عمر احمد شامل ہیخ، ملزمان کو 16 جون 2023 کو مشرف کالونی سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے قبضے سے 5،5 کلو سے زائد چرس برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ فروری 2025 میں سیشن کورٹ نے ملزمان کو 14،14 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

دوران سماعت ملزمان کے وکیل لیاقت گبول ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے کوئی پرائیویٹ گواہ پیش نہیں کیا گیا، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کی نہ کوئی ویڈیو موجود ہے اور نہ ہی تصاویر بنائی گئیں۔ وکیل کے مطابق ملزمان کے قبضے سے ظاہر کی گئی چرس کو جائے وقوعہ پر سیل بھی نہیں کیا گیا۔ عدالت کے روبرو یہ بھی مؤقف پیش کیا گیا کہ پراسیکیوشن کے گواہان کے بیانات میں واضح تضاد موجود ہے جس کی بنیاد پر کیس مشکوک ہو جاتا ہے ۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے سیشن کورٹ کی سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا اور رہائی کا حکم جاری کر دیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں