جیکب آباد:خزانہ آفس میں مبینہ کرپشن، سیکریٹری کا تحقیقات کاحکم

جیکب آباد:خزانہ آفس میں مبینہ کرپشن، سیکریٹری کا تحقیقات کاحکم

اختیارات کے ناجائز استعمال، پنشن بقایاجات میں بدعنوانی کیخلاف درخواست پرانکوائریمتعلقہ حکام سے تفصیلات طلب، کروڑوں روپے کی بوگس ادائیگیاں ہوئیں، درخواست گزار

جیکب آباد (نمائندہ دنیا)خزانہ آفس جیکب آباد میں مبینہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور پنشن بقایاجات میں بدعنوانی کیخلاف درخواست پر سیکریٹری فنانس سندھ نے انکوائری کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلات مانگ لیں، صحافی خدابخش سومرو کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ افسران کی مبینہ ملی بھگت سے مختلف محکموں کے ریٹائرڈ ملازمین کے بقایاجات کی مد میں کروڑوں روپے کی بوگس ادائیگیاں کی گئیں، درخواست گزار کے مطابق نئے ریٹائر ہونے والے ملازمین سے بقایاجات کی ادائیگی کے عوض 20 فیصد تک رشوت طلب کی جاتی ہے ، جبکہ بغیر دستخط کے ایف او ٹو فارم پراسیس کیے جاتے ہیں، مزید برآں حاضر سروس ملازمین کے سروس ریکارڈ میں رد و بدل کرکے انہیں قبل از وقت ریٹائر کرنے اور سیپ سسٹم تک غیر متعلقہ افراد کو رسائی دی گئی ہے۔

سیکریٹری فنانس سندھ نے اس معاملے پر دو الگ الگ خطوط جاری کرتے ہوئے اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر جیکب آباد محمد علی منگی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی، رابطہ کرنے پر محمد علی منگی نے بتایا کہ ان کا تبادلہ سکھر ہوچکا، تاہم جیکب آباد کا چارج تاحال ان کے پاس ہے اور وہ اس معاملے کو میرٹ پر دیکھتے ہوئے جلد رپورٹ سیکریٹری فنانس کو پیش کریں گے ، ذرائع کے مطابق خزانہ آفس جیکب آباد میں پنشن، ایل پی آر، کمیوٹیشن، گریجویٹی اور جی پی فنڈ کی ادائیگیوں کے سلسلے میں مبینہ ملازمین سے لاکھوں روپے رشوت لی جاتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں