اسرائیل کا اوسلو معاہدہ توڑنا انتہائی تشویشناک عمل، تنظیم اسلامی
مغربی کنارے پرکنٹرول کا منصوبہ، چین امریکہ اپنے مفادات کی دوڑ میں، شجاع الدین
جیکب آباد (نامہ نگار)چین اور امریکہ اپنے مفادات کے حصول کی دوڑ میں ہیں۔ اسرائیل کا اوسلو معاہدہ توڑ کر مغربی کنارے کو کنٹرول میں لینے کا منصوبہ انتہائی تشویش ناک ہے ۔ اپنے بیان میں تنظیم ِ اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا بھاری بھرکم تجارتی اور حکومتی شخصیات کے ساتھ دورۂ چین جاری ہے جس میں اطلاعات کے مطابق چین کے صدر اور دیگر اعلیٰ عہدیداران نے امریکہ کو وارننگ دی ہے کہ تائیوان کے معاملے پر اگر امریکہ نے کوئی چھیڑ چھاڑ کی تو چین جنگ کرنے سے نہیں کترائے گا۔ میڈیامیں امریکی صدر کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ چین نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد کی پیشکش کی۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے میں جنگ اور بدامنی پیدا کرنے کا ظاہری ذمہ دار تو امریکہ ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اسرائیل اپنے ابلیسی ‘‘گریٹر اسرائیل’’ کے منصوبے کو جلد از جلد آگے بڑھانے کیلئے امریکہ کے ذریعے جنگ کے شعلے بھڑکا رہا ہے ۔ عالمی طاقتوں کے اِس کھیل میں نقصان صرف مسلم ممالک کاہورہاہے ۔ امریکہ کو اپنے ملکی مفادات سے زیادہ ناجائز صیہونی ریاست کے مفادات عزیز ہیں۔ دوسری طرف چین سرمایہ اور تجارت کو عالمی قوت بننے کیلئے استعمال کرتاہے اور اُسے ایران، پاکستان یا عرب ممالک سے زیادہ دنیا میں اپنی اجارہ داری کا قیام عزیز ہے ، جس کیلئے وہ کوئی بھی سمجھوتہ کرسکتاہے ۔ مغربی کنارے کے حوالے سے میڈیا کی اطلاعات کہ اسرائیل فلسطین کے اِس علاقے پر بھی باقاعدہ قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔ درحقیقت اسرائیل مسجدِاقصیٰ کو (معاذ اللہ) شہید کرکے اُس کی جگہ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کی تیاری کر رہا ہے ۔