پانی چوروں کیخلاف آپریشن کا منصوبہ تیار،رینجرز، پولیس طلب
محکمہ آبپاشی سندھ نے محکمہ داخلہ سے باضابطہ درخواست کردی، کارروائی کا آغاز جلد ہوگا منصفانہ تقسیم آب کیلئے کارروائی کا دائرہ پورے صوبے تک بڑھایا جائے ،آبادگار تنظیمیں
پنگریو (نمائندہ دنیا) سندھ میں پانی چوروں کے خلاف بڑے آپریشن کا منصوبہ تیار، غیرقانونی پائپ لائنوں کے خاتمے کے لیے رینجرز اور پولیس کو طلب کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ بھر میں نہری پانی کی چوری کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا جلد آغاز ہونے جا رہا ہے ۔ محکمہ آبپاشی نے وارہ برانچ سسٹم اور اس سے منسلک نہروں پر قائم غیرقانونی پائپ لائنوں اور پانی چوری کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے محکمہ داخلہ سے پولیس اور رینجرز کی تعیناتی کی باضابطہ درخواست کر دی ہے ۔ سرکاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ غیرقانونی تنصیبات کے ذریعے پانی چوری ہونے سے نہری نظام، منصفانہ تقسیم متاثر اور زیریں علاقوں کے آبادگار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
سکھر بیراج رائٹ بینک ریجن لاڑکانہ کے چیف انجینئر کی رپورٹ کے مطابق وارہ برانچ اور اس کی شاخی نہروں پر متعدد غیر مجاز پائپ نصب کرکے پانی کا رخ موڑا جا رہا ہے ، جس کے باعث نہ صرف پانی کی چوری ہو رہی ہے بلکہ نہری نظام میں آپریشنل رکاوٹیں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ محکمہ آبپاشی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ غیرقانونی پائپوں کے خاتمے اور پانی چوری روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت ناگزیر ہے ، اس لیے خصوصی آپریشن کے دوران پولیس اور رینجرز کی تعیناتی کی سفارش کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچتے ہوئے کارروائی مکمل کی جا سکے ۔ کسان اور آبادگار تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت واقعی پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا چاہتی ہے تو رینجرز اور پولیس کی تعیناتی کا دائرہ پورے سندھ تک بڑھایا جائے۔