مصنوعی قلت آب کا بہانہ بنا کر صوبہ بنجر بنایا جا رہا،کاشف شیخ
پانی، زرخیز زمینوں اور قدرتی وسائل کی سودی بازی میں پیپلز پارٹی قوم کی مجرم 1991کے آبی معاہدے پر عملدرآمدکیا جائے ، ضلعی امراکے اجلاس سے خطاب
حیدر آباد (بیورو رپورٹ) امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے صوبے میں پانی کی شدید قلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے پانی، زرخیز زمینوں اور قدرتی وسائل کی سودی بازی میں پیپلز پارٹی قوم کی مجرم ہے ، پانی کی مصنوعی کمی کا بہانہ بنا کر صوبے کو بنجر بنایا جا رہا ہے ، جبکہ دریائے سندھ میں اس وقت ریت اڑ رہی ہے اور صرف حیدرآباد ڈویژن میں 11 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں پانی کی کمی کے باعث متاثر ہو رہی ہیں۔ضلعی امراکے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے 1991کے پانی معاہدے پر مکمل عملدرآمد، پانی چوری کے خاتمے اور دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کوٹری بیراج پر 57 فیصد پانی کی قلت قدرتی نہیں بلکہ معاہدے کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے ، حالانکہ تربیلا، منگلا اور چشمہ کے ذخائر میں وافر پانی موجود ہے ۔ بدین، ٹھٹھہ، میرپورخاص، عمرکوٹ، تھرپارکر اور سانگھڑ سمیت ٹیل کے اضلاع میں کپاس، گنا، کیلے اور دھان کی فصلیں شدید متاثر ہو رہی ہیں جبکہ مویشیوں کے لیے بھی پانی نایاب ہو چکا ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کا بحران صرف زرعی معیشت ہی نہیں بلکہ وفاقی یکجہتی اور قومی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے ، لہذا سندھ کے جائز حصے کا پانی فوری فراہم کیا جائے ۔ اس موقع پر صوبائی نائب امراپروفیسر نظام الدین میمن، محمد افضال آرائیں، محمد یوسف ودیگر بھی موجود تھے۔