تھرپارکر میں مختلف امراض کے سبب نومولود کی اموات جاری
غذائی قلت، کم وزن اہم اسباب، 8ماہ کے دوران 480اموات ریکارڈ ہوئیں2273بچے اسپتال لائے گئے ، تھر میں دوبارہ خشک سالی کا خطرہ ہے ، ڈی ایچ او
تھرپارکر (نامہ نگار)تھرپارکر میں غذائی قلت، کم وزن اور مختلف بیماریوں کے باعث نومولود بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے ۔ سول اسپتال مٹھی کے این آئی سی یو کے ریکارڈ کے مطابق رواں سال جنوری سے اگست تک 480 بچے جاں بحق ہوئے ہیں، جبکہ اسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت اموات کے مکمل اعدادوشمار فراہم کرنے سے گریزاں ہیں۔ تھرپارکر کے واحد سول اسپتال مٹھی کے این آئی سی یو میں جنوری سے اگست 2026 تک 2 ہزار 273 نومولود بچے داخل ہوئے ، جن میں سے 480 بچے جان کی بازی ہار گئے۔ ریکارڈ کے مطابق مئی میں سب سے زیادہ 75 اموات ہوئیں، جنوری میں 70، جولائی میں 69 اور جون میں 65 بچے فوت ہوئے۔
اسی عرصے میں 1387 بچے صحت یاب ہوکر ڈسچارج ہوئے ، جبکہ 106 کو دوسرے اسپتالوں میں ریفر کیا گیا اور 126 بچے طبی مشورے کے برخلاف اسپتال چھوڑ گئے ۔ ماہرین کے مطابق تھر میں غذائی قلت، ماؤں کی غذائی کمی، وبائی امراض اور کم عمری کی شادی جیسے عوامل بچوں کی قبل از وقت اور کم وزن پیدائش کا سبب بنتے ہیں۔ دوسری جانب ڈی ایچ او تھرپارکر ڈاکٹر لیکھراج سارنگانی کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت بچوں کی اموات کا ریکارڈ جمع نہیں کرتا۔تھرپارکر میں رواں سال بھی خشک سالی کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بڑھتا جارہا ہے کیونکہ تھر میں ایک ماہ سے بارش نہ ہونے سے فصل، اناج خشک ہونے لگے ہیں اور مویشیوں کے لیے چارہ بھی میسر نہیں ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments