موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر، مقررین

 موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر، مقررین

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 13۱منصوبے شروع کیے گئے ہیں، فیصل احمد عقیلی ،ظفر اقبال کا خطاب سپارکوکے تحت سمپوزیم میں سیلاب، خشک سالی اور آبی وسائل کی نگرانی میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے کردار پر غور

کراچی(این این آئی)پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے اسپیس ایپلی کیشنز سینٹر فار کلائمیٹ سائنسز کے زیر اہتمام ’’خلا برائے موسمیاتی تبدیلی‘‘کے عنوان سے چوتھا علاقائی سمپوزیم کراچی میں منعقد ہوا، جس میں موسمیاتی خطرات کی نگرانی، ماحولیاتی تحفظ اور آفات سے نمٹنے کے لیے خلائی و جغرافیائی ٹیکنالوجیز کے مؤثر استعمال پر تفصیلی غور کیا گیا۔پی سی ہوٹل کراچی میں منعقدہ سمپوزیم میں سینئر سرکاری حکام، پالیسی سازوں، سائنسدانوں، محققین، ماہرین تعلیم، ترقیاتی شراکت داروں اور ماحولیاتی ماہرین نے شرکت کی۔

سمپوزیم میں ساحلی علاقوں میں تبدیلی، مینگروز، سمندری پانی کی مداخلت، خشک سالی، ہیٹ ویو کے خطرات، آبی گزرگاہوں، زمینی احاطے اور فصلوں کی نگرانی سمیت مختلف موضوعات زیر بحث آئے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری ماحولیات سندھ فیصل احمد عقیلی نے موسمیاتی گورننس اور آفات کے خطرات میں کمی کے لیے جدید جغرافیائی ٹیکنالوجیز کو منصوبہ بندی کا حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی موافقت، ماحولیاتی تحفظ اور قومی سطح پر لچک پیدا کرنے کے لیے اداروں کے درمیان مضبوط تعاون اور سائنسی معلومات کا مؤثر استعمال ناگزیر ہے۔

انہوں نے حکومت سندھ کی جانب سے کاربن مانیٹرنگ، کاربن فنانسنگ اور قومی موسمیاتی اہداف کے حوالے سے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 13 منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔سپارکو کے ممبر اسپیس ایپلی کیشن اینڈ ریسرچ ونگ ظفر اقبال نے کہا کہ پاکستان کو گلیشیئرز کے پگھلنے ، سیلاب، خشک سالی، ہیٹ ویوز، فضائی آلودگی اور زراعت و آبی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ جیسے سنگین موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس، ریموٹ سینسنگ، جغرافیائی تجزیات اور جغرافیائی معلوماتی نظام موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی مسلسل اور معروضی نگرانی کے لیے ناگزیر ہوچکے ہیں۔

سیٹلائٹ ڈیٹا کو قابلِ عمل موسمیاتی معلومات میں تبدیل کرکے قومی و صوبائی اداروں کی فیصلہ سازی کو مزید مؤثر بنایا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی پائیدار ترقی اور موسمیاتی لچک کے لیے اہم ذریعہ ہے ، سپارکو آبی وسائل کے انتظام، غذائی تحفظ، آفات کے خطرے میں کمی اور ماحولیاتی نگرانی سمیت مختلف شعبوں میں خلائی بنیادوں پر حاصل ہونے والی معلومات کو بروئے کار لارہا ہے ۔سمپوزیم کے دوران معلوماتی پورٹلز کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ سیٹلائٹ سے حاصل معلومات کو قومی اور صوبائی ادارے موسمیاتی خطرات کی نشاندہی اور بروقت فیصلہ سازی کے لیے کس طرح استعمال کرسکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...