سٹی کونسل اجلاس میں ہنگامہ آرائی،نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سٹی کونسل کے اجلاس میں اپوزیشن نے کے ایم سی کے قیمتی اثاثے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر چلانے کی مخالفت کی تو میئر مرتضیٰ وہاب نے جمشید کوارٹرز میں واقع ادارہ نور حق کے دو پلاٹوں کا حوالہ دیا۔
اس پر جماعت اسلامی کے ارکان بھڑک اُٹھے ، نوبت نعرے بازی سے ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کونسل اجلاس میں کے ایم سی کی زمینوں کے استعمال پر بات ہوئی، اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسپنسر آئی اسپتال سمیت کے ایم سی کے قیمتی اثاثے اور زمینیں ادارے کے پاس رہنی چاہئیں، انہیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نہ چلایا جائے ۔جواب میں میئر کراچی نے ادارہ نور حق کی زمین کا حوالہ دیا ۔میئر کراچی کا موقف تھا کہ پلاٹ نمبر 503 اور 504 کبھی کے ایم سی کی ملکیت رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ زمین کسی کو کس طرح الاٹ ہوئی۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے میئر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ریکارڈ موجود ہے ، اگر ان کا مؤقف غلط ثابت ہوا تو استعفیٰ دے دیں گے ۔بلدیہ عظمیٰ کراچی کونسل کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments