روشم خان قتل کیس ،دھرنا 12 روز سے جاری
ملزمان کی عدم گرفتار ی پر وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج کی دھمکی قاتلوں کی گرفتاری تک بیٹے کی تدفین نہیں کریں گے ،والد کا موقف
کراچی (این این آئی)منگھوپیر گرین سٹی میں دوران ڈکیتی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 16 سالہ روشم خان کے قتل کے 12 روز بعد بھی ملزمان گرفتار نہ ہوسکے ، مقتول کے ورثا اور علاقہ مکینوں کا منگھوپیر تھانے کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری ہے ۔7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب گرین سٹی میں گھر میں ڈکیتی کے دوران مبینہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے روشم خان جاں بحق ہوگیا تھا۔ مقتول کے والد روئیداد خان نے کہا ہے کہ ان کا مطالبہ پہلے روز سے واضح ہے کہ بیٹے کے قاتلوں کی گرفتاری تک اس کی تدفین نہیں کریں گے اور احتجاجی دھرنا بھی جاری رکھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ وہ پولیس حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں جبکہ کراچی کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی ان کے ساتھ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قاتل گرفتار ہونے کے بعد ہی روشم خان کی تدفین کی جائے گی۔
دھرنے میں مختلف سماجی شخصیات اور علاقہ مکینوں نے شرکت کی اور واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے کہا کہ اگر روشم خان کے قاتل گرفتار نہ ہوئے تو احتجاج کا دائرہ بڑھاتے ہوئے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر بھی مظاہرہ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل کراچی پولیس چیف آزاد خان نے ڈی آئی جی ویسٹ زون عرفان علی بلوچ اور دیگر پولیس افسران کے ہمراہ مقتول کے والد سے ملاقات کرکے تعزیت کی تھی اور کیس کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے انہیں آگاہ کیا تھا۔تاہم ملزمان کی گرفتاری تک احتجاج جاری رکھنے کے اعلان کے باعث منگھوپیر تھانے کے سامنے دھرنا 12ویں روز بھی جاری رہا، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت کا سلسلہ برقرار ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments