اکیڈمک عہدوں پر غیر تدریسی عملے کی تعیناتی قبول نہیں، سپلا

اکیڈمک عہدوں پر غیر تدریسی عملے کی تعیناتی قبول نہیں، سپلا

15اکتوبر کو سندھ سیکریٹریٹ پردھرنا، 27 سے تدریسی بائیکاٹ کا اعلانرولز میں تبدیلی کی سفارش پرتحفظات،ذمہ دارافسران کے تبادلوں کا مطالبہ

کراچی (این این آئی)سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا)نے کالجوں میں اکیڈمک انتظامی عہدوں پر غیر تدریسی عملے کی تعیناتی کی سفارش کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے کے کالجوں میں اکیڈمک انتظامی عہدوں پر کالج اساتذہ کے علاوہ کسی دوسرے عملے کی تعیناتی قبول نہیں کی جائے گی۔ سپلا کے مطابق 15 اکتوبر کو کراچی ریجن کے اساتذہ سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے جبکہ مطالبات منظور نہ ہونے پر 27 اکتوبر سے سندھ بھر کے کالجوں میں تدریسی عمل کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔اس بات کا فیصلہ سپلا کی ہائی پاور کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت مرکزی صدر منور عباس نے کی۔اجلاس میں محکمہ کالج ایجوکیشن کی جانب سے سروس رولز میں تبدیلی کیلئے ایس این جی ڈی کو بھیجے گئے مراسلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

سپلا کے مطابق مراسلے میں اکیڈمک انتظامی عہدوں پر کالج اساتذہ کے بجائے غیر تدریسی عملے کو گریڈ 17، 18 اور 19 میں تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ۔منور عباس نے کہا کہ کالج اساتذہ اس فیصلے کوکالا قانون اور اکیڈمک انتظامیہ پر براہِ راست حملہ تصور کرتے ہیں۔ شرکا نے ڈپٹی سیکریٹری لیاقت منگی اور سیکشن آفیسر عرفان میمن کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے محکمہ کالج ایجوکیشن سے فوری تبادلوں کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ سے بھی معاملے میں فوری مداخلت کرکے متنازعہ سفارشات واپس لینے کی اپیل کی۔سپلا کی ہائی پاور کمیٹی نے احتجاجی تحریک کے شیڈول کی منظوری دیتے ہوئے اعلان کیا کہ 15 اکتوبر کو کراچی ریجن کے تحت سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...