ناقص حکومتی پالیسیوں سے زراعت تباہی کے دہانے پر
مہنگی کھاد، گندم اور ایکسپورٹ میں کمی تشویشناک ، خالد محمود کھوکھر
ملتان (وقائع نگار خصوصی)پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں اور نااہل افسروں کی وجہ سے ملکی زراعت شدید بحران کا شکار ہوچکی ہے ۔سستی گندم خرید کر اسے مہنگا کر دیا گیا، جس کے باعث آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ آلو کی ایکسپورٹ میں نمایاں کمی آچکی ہے ۔ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کپاس کی فصل بھی کسانوں کی طرح وینٹی لیٹر پر ہے اور حکومت زراعت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے جا رہی ہے ۔ ایک طرف کسانوں کو پیداواری لاگت بھی پوری نہیں مل رہی اور دوسری جانب یوریا کھاد کی بوری ایک ہزار روپے مہنگی کر دی گئی ہے ۔خالد محمود کھوکھر نے بتایا کہ کسانوں نے گندم دو ہزار روپے فی من تک فروخت کی، مگر آج اس کی قیمت کم ہوکر انتہائی تشویشناک سطح تک پہنچ چکی ہے ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت نے صرف مافیاز کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ؟ان کا کہنا تھا کہ آٹے کی قیمت میں اضافہ عوام کے ساتھ سراسر ظلم ہے ۔ آلو، مکئی اور چاول سمیت دیگر اجناس کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود ایکسپورٹ میں کمی ہو رہی ہے جبکہ پچھلے سال کا آلو اب تک گوداموں میں پڑا ہے ۔ اس صورتحال کی بڑی وجہ غیر تکنیکی افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں زراعت، کاٹن، ٹیکسٹائل اور کسان سب وینٹی لیٹر پر ہیں۔ عوام کو چاہئے کہ وہ اپنے کاشتکار کے ساتھ کھڑے ہوں اور حکومت دشمن ملک بھارت کے مقابلے میں ملکی کسانوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرے۔