دو صدی پرانا کھجوروں کانایاب تلیری باغ تباہی کے دہانے پر
سبزی و فروٹ کے دکانداروں نے مختلف حصوں کو کچرا پھینکنے کی جگہ بنا دیا
مظفرگڑھ(سٹی رپورٹر)دو صدیوں پرانا نایاب کھجوروں کا تاریخی ورثہ تلیری باغ تباہی کے دہانے پر مظفرگڑھ کا تقریباً دو صدیوں پرانا تاریخی اور نایاب کھجوروں کے درختوں پر مشتمل منٹگمری المعروف تلیری باغ انتظامی غفلت اور عدم توجہی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے ۔ شہر کے اس تاریخی ورثے کی حفاظت اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث باغ کی حالت روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے ۔مقامی شہریوں کے مطابق سبزی و فروٹ منڈی کے بعض دکانداروں نے باغ کے مختلف حصوں کو کچرا پھینکنے کی جگہ بنا دیا ہے جس سے نہ صرف ماحول آلودہ ہو رہا ہے بلکہ تاریخی باغ کی خوبصورتی بھی متاثر ہو رہی ہے ۔ دوسری جانب باغ کو لاوارث سمجھتے ہوئے بعض افراد عرصہ دراز سے نایاب کھجوروں کے درختوں کے پتے اور شاخیں اپنے جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جبکہ اب درختوں کی کٹائی کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ باغ کے اندر خانہ بدوش خاندانوں نے بھی جھونپڑی نما بستیاں قائم کر لی ہیں جس کے باعث باغ کی تاریخی حیثیت مزید متاثر ہو رہی ہے ۔ شہریوں کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نایاب تاریخی ورثہ مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے ۔عوامی و سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ سے مطالبہ کیا ہے کہ تلیری باغ کی فوری بحالی، صفائی، سیکیورٹی اور تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، باغ میں ہونے والی تجاوزات اور درختوں کی کٹائی کا نوٹس لیا جائے اور اس تاریخی اثاثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جائے ۔