کچی آبادیوں کے کیسزنمٹانے کیلئے قائم کمیٹیوں کی ناقص کارکردگی

کچی آبادیوں کے کیسزنمٹانے کیلئے قائم کمیٹیوں کی ناقص کارکردگی

کچی آبادیوں کے کیسزنمٹانے کیلئے قائم کمیٹیوں کی ناقص کارکردگی حکومت نے کارکردگی رپورٹ طلب کرلی ،ٹیموں کو صورتحال بہتر بنانے کا حکم

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) صوبائی حکومت کی جانب سے سرگودھا سمیت پنجاب بھر میں اربن اور رورل ایریاز میں قائم کچی آبادیوں کے زیر التواء کیسز نمٹانے کیلئے اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں قائم ہونیوالی خصوصی ایکشن اینڈ مانیٹرنگ ٹیموں کی کارکردگی رپورٹ طلب کرتے ہوئے انکی کارکردگی بہتر بنانے کے احکامات جاری کر دیئے ، ذرائع کیمطابق ڈی جی کچی آبادیز پنجاب کی جانب سے مالکانہ حقوق کے عمل کا تسلسل برقرار رکھنے اور زیر التواء کیسز کو جلد از جلد نمٹانے کیلئے اسسٹنٹ کمشنرز کو خصوصی کمیٹیاں قائم کرکے زیر التواء کیسز کو نمٹانے اور ہر ماہ کی دس تاریخ کو اس حوالے سے ہونیوالے عملدرآمد کی رپورٹ کی رپورٹ ارسال کرنے کی ہدایت کی تھی جس پر ابتدائی د وماہ تو عملدرآمد ہوا جسکے بعد ایک سال آٹھ ماہ گزرگئے مگر نہ تو زیر التواء کیسز نمٹائے گئے اور نہ ہی رپورٹ ارسال کی گئی جبکہ حکومت کے علم میں آیا ہے کہ کچی آبادیوں کے کیسز کئی دہائیوں سے التواء کا شکار ہیں، اور مالکانہ حقوق دینے کے حوالے سے ہر سیاسی جماعت نعرے لگاتے ہوئے اعلان تو کرتی رہی مگر یہ صرف سیاسی حربہ ثابت ہوا اور زیر التواء کیسزپر پیش رفت مکمل طور پر ٹھپ پڑی ہے ،ضلعی حکومتوں کا اس سلسلہ میں کوئی کنٹرول نہیں، جب بھی افسران اس سلسلہ میں حکومتی احکامات پر عملدرآمد کیلئے ایکشن کرتے ہیں تو سیاسی مداخلت کی وجہ سے معاملات الجھا دیئے جاتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں