نجی ہسپتالوں کی کروڑوں روپے آمدن ٹیکس نہیں دیا جاتا
حکومتی خزانے کو ٹیکس کی مد میں بھاری نقصان پہنچایا جا رہا ،بیشتر نجی کلینکس اور ہسپتالوں میں مکمل میڈیکل سٹور قائم ،متعدد کے پاس باقاعدہ فارمیسی لائسنس بھی موجود نہیں فارمیسیوں کو کسی دوسرے فرد کے نام پر کرائے پر ظاہر کیا جاتا ،کم قیمت پر خریدی گئی ادویات مریضوں کو مہنگے داموں فروخت کی جاتی ،ٹیکس گوشواروں میں محدود آمدن ظاہر کی جاتی
سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) ضلع بھر میں نجی ہسپتالوں اور کلینکس کا شعبہ صحت کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے ، جہاں مبینہ طور پر غیر قانونی فارمیسیوں کے ذریعے لاکھوں روپے ماہانہ اور کروڑوں روپے سالانہ آمدن حاصل کرنے کے باوجود حکومتی خزانے کو ٹیکس کی مد میں بھاری نقصان پہنچایا جا رہا ہے ،ذرائع کے مطابق قانون کے تحت ایک اور کوالیفائیڈ ڈاکٹر اپنے کلینک میں صرف محدود پیمانے پر ایک ڈسپنسری قائم کر سکتا ہے ، تاہم سرگودھا میں بیشتر نجی کلینکس اور ہسپتالوں میں مکمل میڈیکل سٹور قائم کر دیے گئے ہیں، جہاں باقاعدہ فارمیسی کی طرز پر ادویات فروخت کی جا رہی ہیں، حالانکہ ان میں سے متعدد کے پاس باقاعدہ فارمیسی لائسنس موجود نہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر ان فارمیسیوں کو کسی دوسرے فرد کے نام پر کرائے پر ظاہر کیا جاتا ہے ، جبکہ عملی طور پر تمام انتظامی و مالی معاملات متعلقہ ڈاکٹر ہی چلاتا ہے ۔ کم قیمت پر خریدی گئی ادویات مریضوں کو مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں، جس سے لاکھوں روپے ماہانہ منافع حاصل کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ مریضوں سے فیس، ٹیسٹ، ڈریسنگ اور دیگر طبی سہولیات کی مد میں بھی بھاری رقوم وصول کی جاتی ہیں،مبینہ طور پر ٹیکس گوشواروں میں صرف کلینک کی فیس یا محدود آمدن ظاہر کی جاتی ہے ، جبکہ ادویات کی فروخت سے حاصل ہونے والی اصل آمدن کو شامل نہیں کیا جاتا، جس کے باعث قومی خزانے کو سالانہ کروڑوں روپے کے ریونیو سے محروم ہونا پڑ رہا ہے ۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس حکام بھی نجی ہسپتالوں اور کلینکس کی اصل آمدن کا مکمل آڈٹ کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں اور معمولی سطح پر ٹیکس وصول کر کے معاملات نمٹا دیے جاتے ہیں۔