سبزیوں کی قیمتوں میں من مانا اضافہ، شہری پریشان
ذخیرہ اندوزی اور دوسرے شہروں کو زیادہ سپلائی کے ذریعے سبزیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا
سرگودھا (نعیم فیصل سے ) مہنگائی سے پریشان شہریوں پر سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کا مزید بوجھ پڑ گیا ہے ۔ مبینہ طور پر موسمی شدت کو جواز بنا کر مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اور دوسرے شہروں کو زیادہ سپلائی کے ذریعے سبزیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا ہے ، جبکہ مارکیٹ کمیٹی کی سرکاری ریٹ لسٹوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے صارفین مشکلات کا شکار ہیں۔مارکیٹ سروے کے مطابق مقامی منڈیوں میں دستیاب سبزیوں کا بڑا حصہ مبینہ طور پر زیادہ منافع کے لیے دوسرے شہروں کو بھجوایا جا رہا ہے ، جبکہ بعض کمیشن ایجنٹس اور آڑھتی مبینہ طور پر نگرانی کے فقدان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مصنوعی مہنگائی پیدا کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ ناموں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے باوجود مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔سروے کے مطابق گزشتہ روز ادرک سرکاری نرخ 350 روپے کے بجائے 400 روپے ، لہسن 320 کے بجائے 450 روپے ، ٹماٹر 230 کے بجائے 350 روپے ، شملہ مرچ 300 کے بجائے 380 روپے ، اروی 80 کے بجائے 140 روپے ، کھیرا 180 کے بجائے 220 روپے ، پھلیاں 130 کے بجائے 200 روپے ، پیاز 90 کے بجائے 120 روپے ، گھیا توری 80 کے بجائے 120 روپے ، گاجر 100 کے بجائے 180 روپے اور ٹینڈے 130 کے بجائے 200 روپے فی کلو فروخت ہوتے رہے ۔ دیگر سبزیوں کی قیمتیں بھی سرکاری نرخوں سے 30 سے 50 فیصد تک زائد وصول کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق سبزیوں کی بڑھتی قیمتوں کے باعث غریب اور متوسط طبقہ پریشان ہو کر رہ گیا ہے ۔
، تاہم طلب میں اضافے کے ساتھ دالوں کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، جس سے گھریلو بجٹ مزید متاثر ہو رہا ہے ۔صارفین، سماجی تنظیموں اور شہریوں نے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سبزی منڈیوں اور ریٹیل مارکیٹوں میں فوری اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے ، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ، مارکیٹ کمیٹی کی ریٹ لسٹوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور پرائس کنٹرول نظام کو فعال بنا کر عوام کو مصنوعی مہنگائی سے ریلیف فراہم کیا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments