معیاری بیج کی فراہمی کیلئے تحقیق کو فروغ دینا ہوگا:ماہرین
معیاری بیج کی فراہمی کیلئے تحقیق کو فروغ دینا ہوگا:ماہرین\"قومی بیج پالیسی اور سیڈ سیکٹر کا مستقبل\" کے عنوان سے زرعی یونیورسٹی میں مکالمہ
فیصل آباد(سٹی رپورٹر)زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ سیڈ ڈائیلاگ 2026ء میں ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ محققین، جامعات، سرکاری و نجی شعبہ باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ ملک میں زرعی ترقی اور سبز انقلاب کی راہ ہموار ہو سکے ۔\"قومی بیج پالیسی اور سیڈ سیکٹر کا مستقبل\" کے عنوان سے یہ مکالمہ نیشنل سیڈ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سنٹر، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے اشتراک سے منعقد ہوا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سٹریٹجک پراجیکٹس اینڈ گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو میجر جنرل شاہد نذیر نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے منظور کی گئی پاکستان کی پہلی قومی بیج پالیسی، بیج کی تحقیق، معیار کی یقین دہانی، نجی شعبے کی شمولیت، بائیوٹیکنالوجی، پلانٹ بریڈرز رائٹس، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ اقسام اور بیجوں کی برآمدات کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتی ہے ۔ گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو کے تحت بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے صنعت کی جانب سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری قابلِ تحسین ہے ۔نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ اتھارٹی \"سرسبز مستقبل کے لیے معیاری بیج\" کے وژن پر عمل پیرا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی کے تحت مرحلہ وار حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے ، جس کا مقصد زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا، بائیو سیفٹی کا مؤثر نظام نافذ کرنا اور قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے ۔زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ قومی بیج پالیسی زرعی شعبے کو درپیش اہم رکاوٹوں کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments