پرانی گاڑیوں کی سکریپنگ،قانونی فریم ورک متعارف
ترمیمی آرڈیننس نافذ جسکے تحت گاڑی کو صرف 20سال پرانی ہونے پر اینڈ آف لائف قرار نہیں دیا جائے گاناقابل استعمال گاڑیوں کو سکریپنگ عمل سے گزارا جا سکے گا تاکہ دوبارہ سڑکوں پر لانے کی بجائے تلف کیا جا سکے
لاہور (شیخ زین العابدین)پنجاب حکومت نے اینڈ آف لائف وہیکلز سے متعلق ترمیمی آرڈیننس 2026 نافذ کر دیاجسکے تحت پرانی گاڑیوں کی سکریپنگ کیلئے باقاعدہ قانونی فریم ورک متعارف کروا دیا گیا۔آرڈیننس کے مطابق صرف گاڑی کی عمر سکریپنگ کی بنیاد نہیں ہوگی بلکہ فٹنس، ایمیشن اور رجسٹریشن کی حیثیت بھی فیصلہ کن عوامل ہونگے ۔ نئے آرڈیننس کے تحت کسی بھی گاڑی کو صرف 20سال پرانی ہونے کی بنیاد پر اینڈ آف لائف قرار نہیں دیا جائے گا۔ گاڑی کی فٹنس، دھواں اخراج یعنی ایمیشن کے معیار اور رجسٹریشن کی قانونی حیثیت کو بھی فیصلہ سازی میں شامل کیا گیا ہے ۔آرڈیننس کے مطابق وہ گاڑیاں جو مقررہ فٹنس یا ایمیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہیں، انہیں اینڈ آف لائف وہیکل قرار دیا جا سکے گا، جبکہ منسوخ رجسٹریشن رکھنے والی گاڑیاں بھی اس تعریف میں شامل ہونگی۔اسی طرح حادثے ، آگ یا قدرتی آفات سے ناقابلِ استعمال گاڑیوں کو بھی سکریپنگ کے عمل سے گزارا جا سکے گا تاکہ انہیں دوبارہ سڑکوں پر لانے کی بجائے محفوظ انداز میں تلف کیا جا سکے ۔ آرڈیننس کے تحت گاڑی کے مالک کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنی گاڑی سکریپنگ کیلئے جمع کروا سکے ۔ گاڑیوں کی سکریپنگ صرف منظور شدہ سرکاری یا نجی سکریپنگ مراکز کے ذریعے ہی کی جا سکے گی۔حکومت کو اینڈ آف لائف وہیکلز سے متعلق قواعد و ضوابط وضع کرنے ، سکریپنگ طریقہ کار، نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جاری کرنے کے اختیارات بھی دیدیئے گئے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments