پختو نخوا عوام کی زندگیاں بچانے کیلئے اقدام نہیں کررہا:خرم دستگیر
فوجیوں کی شہادتیں ایک سنجیدہ معاملہ ، صوبائی حکومت کو سوچنا چاہئے کے پی حکومت نے عملی مزاحمت نہ کی تو تصادم نہیں ہو گا:دنیا مہر بخاری کیساتھ
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)مرکزی نائب صدر ن لیگ خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ جو ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کی ہے ،یہ ریاست پاکستان کی طرف سے واضح اعلان تھا، ایک بنیادی اور تلخ حقیقت ہے ،2025کی شہادتوں کی لسٹ دیکھی جائے تو 2015 کے بعد سب سے زیادہ خونیں سال ثابت ہوا ، 80 فیصدواقعات کے پی میں ہوئے ہیں،ان میں افغانستان ملوث تھا،کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے ، یہ ان کا تیرہواں سال چل رہا ہے ،سیاسی اختلافات کی وجہ سے کے پی میں جو 3800 واقعات ہوئے ہیں، ان کو اب اسی طرح چلنے نہیں دیا جائے گا۔دنیا نیوز کے پروگرام ‘‘دنیا مہر بخاری کے ساتھ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کے پی حکومت اپنے 4 کروڑ عوام کی زندگیاں بچانے کیلئے کوئی اقدام نہیں کررہی،دہشت گردوں اور افغانستان سے بزدلانہ مصالحت کرنا چاہتی ہے تو پھر ریاست پاکستان ان کا انتظار نہیں کرے گی، ایکشن لے گی،2025 میں سب سے زیادہ شہریوں اور فوجیوں کی شہادتیں ہوئی ہیں،یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے ،اس معاملے پر صوبائی حکومت کو سوچنا ہوگا،آپریشن جاری رہے گا،کے پی حکومت نے اگر عملی مزاحمت نہ کی تو پھر تصادم نہیں ہو گا،یہ جو تلخی ہے جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا شہریوں کی جانیں بچانا ریاست پاکستان کی ذمہ دار ی ہے اس پرریاست کام جاری رکھے گی، کے پی کے 12 اضلاع میں دوسال سے صوبائی حکومت کی رٹ نہیں ،یہ اضلاع افغانستان کے ساتھ ہیں،اپنے صوبے میں رٹ قائم کرنے کے لئے کسی صوبائی حکومت کو کسی اور سے اجازت نہیں لینی ہوتی ہے ۔2026 کو امن کاسال بنانا ہے اور پاکستان سے دہشت گردی کو ختم کرنا ہے ۔