IMFسے ریلیف کی تجاویز،بجلی سستی ، سپر ٹیکس میں کمی، معاشی نمو 6فیصدکرنے پرمشاورت
اسلام آباد (مدثرعلی رانا) باوثوق ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ حکومت معاشی گروتھ بڑھانے ، سرمایہ کاری راغب کرنے ، بے روزگاری اور غربت میں کمی، پاور ٹیرف میں کمی، ٹیکس انسینٹو، پالیسی ریٹ میں کمی کیلئے آئی ایم ایف سے قرض پروگرام میں ریلیف لینے کیلئے ورکنگ کر رہی ہے۔
حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے سٹرکچر میں اہم تبدیلیاں کرنے کی درخواست کرے گی، یہ تجاویز ٹاپ حکومتی سطح پر ڈسکس کی گئی ہیں، یہ تجویز بھی زیرغور ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران حکومت بجٹ میں آئی ایم ایف کی مشاورت سے پرائمری بیلنس اور صوبائی بجٹ سرپلس کے اہداف میں ریلیف، مالیاتی خسارہ کا ہدف زیادہ مختص کر سکتی ہے تاکہ مالیاتی گنجائش پیدا ہو۔ یہ تجویز وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وزارت خزانہ نے شیئر کی ہے ۔ ذرائع نے دنیا نیوز کے نمائندے کو بتایا کہ حکومت دو سال مکمل ہونے کے بعد سنجیدگی سے اس طرف بڑھ رہی ہے کہ تیسرے سال کے دوران اکانومی کو فروغ پانے دیا جائے اور حکومت کے آخری سال میں معاشی گروتھ 5 سے 6 فیصد سے تک حاصل کی جائے ، آئی ایم ایف پروگرام آن ٹریک رکھا جائے اور پروگرام میں رہتے ہوئے ریلیف کیلئے بڑے اقدامات کیے جائیں۔