بلوچستان میں فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں :انوار الحق کاکڑ
خصوصی دستے کی تعیناتی کے بہترین نتائج ہونگے ،یہ 10یا20 کی ٹولیاں ہوں اسلحہ اٹھانے والوں سے بات چیت نہیں ہو گی:دنیا مہر بخاری کیساتھ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق نگران وزیر اعظم سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے بلوچستان میں بڑے چیلنجز ہیں، تمام چیلنجز کے باوجود سکیو رٹی فورسز کو بہت زیادہ کامیابیاں مل رہی ہیں، دنیا نیوز کے پروگرام دنیا مہر بخاری کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس مرتبہ مربوط حملہ ہوا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں، فورسز کی حالیہ کارروائی میں 177 دہشت گرد مارے گئے ہیں، 177 دہشت گردایسے علاقے میں مارے گئے ہیں جس کا رقبہ برطانیہ کے سائز کے برابر ہے ،جب آپ گوادر سے موسی ٰخیل کی طرف سفر کریں تو تقریباً 20 گھنٹے لگ جاتے ہیں ۔
اس علاقے میں آبادی بھی زیادہ ہے جو پھیلی ہوئی ہے ،یہاں پہاڑ بھی ہیں ،کئی ایسی چیزیں ہیں جس میں دہشت گرد پناہ لے لیتے ہیں،ا س مرتبہ جو حملہ ہوا ہے اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھا،کیونکہ کبھی 177 دہشت گرد ایک دودن میں نہیں مارے گئے ۔ایک سوال کے جواب میں انوار الحق کاکڑ نے کہا بلوچستان میں اس وقت فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں ،کیونکہ وہاں ایسا علاقہ نہیں ہے جہاں یہ ضرورت محسوس ہو۔میرا خیال ہے کہ اس کیلئے خصوصی دستہ تعینات کرنا چاہئے ، یہ بہترین نتائج دے گا،یہ 10یا20 کی ٹولیاں ہوں ،اس کیلئے کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا یہ حکومت فیصلہ کرے گی۔اسلحہ اٹھانے والوں سے بات چیت نہیں ہو گی، کسی کو بھی انتشار ،فساد کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔