پاک فوج کا آپریشن جاری،مختلف سیکٹرز میں افغان طالبان کی مزید پوسٹیں تباہ

پاک  فوج  کا  آپریشن  جاری،مختلف  سیکٹرز  میں  افغان  طالبان  کی  مزید  پوسٹیں  تباہ

طورخم، خیبر اور شمالی وزیرستان میں کارروائیاں، دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان:سکیورٹی ذرائع ہسپتال کو نشانہ بنانے کا افغان دعویٰ بے بنیاد، صرف دہشت گرد اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا:عطا تارڑ

اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر، دنیا نیوز، نیوز ایجنسیاں) پاک فوج کی جانب سے آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف مختلف سیکٹرز میں مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، جن کے دوران خیبر سیکٹر اور شمالی وزیرستان میں اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل کے ذریعے متعدد پوسٹیں تباہ کر دی گئیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق طورخم سیکٹر میں پاک فوج نے افغان طالبان کی ایک اہم پوسٹ کو کامیابی سے نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا، جبکہ شمالی وزیرستان میں جھنڈا پوسٹ سمیت دیگر ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح خیبر سیکٹر میں بھی متعدد عسکری تنصیبات کو تباہ کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے ، پاک فوج اپنے اہداف کے حصول تک دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا ہے کہ 16 مارچ 2026 کو کابل اور ننگرہار میں کیے گئے فضائی حملے نہایت درست اور پیشہ ورانہ تھے ، جن میں صرف فوجی اور دہشتگرد ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے ہسپتال کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بے بنیاد ہے ۔ مبینہ مقام دراصل فینکس کیمپ سے کئی کلومیٹر دور ہے ، جبکہ اصل ہدف اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ تھا، جس کی تصدیق ثانوی دھماکوں سے بھی ہوتی ہے ۔عطااللہ تارڑ نے مزید کہا کہ افغان حکام کے متضاد بیانات اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز بھی ان دعوؤں کی ساکھ پر سوال اٹھاتی ہیں۔ پاکستان صرف دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سرحد پار دہشتگردی کے خاتمے ، اپنے شہریوں کے دفاع اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کیلئے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں