بجلی پیداوار کیلئے مقامی وسائل میں اضافہ، درآمدی ایندھن پر انحصار 15 فیصد رہ گیا

بجلی پیداوار کیلئے مقامی وسائل میں اضافہ، درآمدی ایندھن پر انحصار 15 فیصد رہ گیا

K-2نیوکلیئر پاور پلانٹ فعال ہونے کے بعد جوہری بجلی کی پیداوار 10.9ٹیرا واٹ سے 23ٹیرا واٹ آور ہوگئی شمسی توانائی کی سالانہ پیداوار14سے 20گیگاواٹ تک پہنچ گئی، گرڈ بجلی کی کھپت میں تقریبا ً45فیصد کمی ہوئی ایل این جی سے بجلی پیدا وارمیں 49، فرنس آئل سے 50فیصد کمی ، ایس آئی ایف سی معاونت سے استحکام :ماہرین

اسلام آباد(سید ظفرہاشمی)پاکستان کے توانائی کے شعبے میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جہاں ملک تیزی سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر کے مقامی وسائل کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ حکومتِ پاکستان اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل(ایس آئی ایف سی)کی جانب سے توانائی کے شعبے میں خود کفالت کے حصول اور مقامی وسائل کے فروغ کیلئے متعدد موثر اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2020-21 میں جہاں 34 فیصد بجلی درآمدی ایندھن سے پیدا ہو رہی تھی، وہیں مالی سال 2024-25 تک یہ شرح کم ہو کر تقریبا ً15 فیصد رہ گئی ہے۔

جوہری توانائی کے شعبے میں بھی اہم اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، جہاں K-2 نیوکلیئر پاور پلانٹ کی فعالی کے بعد پاکستان کی جوہری بجلی کی پیداوار 10.9 ٹیرا واٹ آور سے بڑھ کر تقریبا ً23 ٹیرا واٹ آور تک پہنچ گئی ہے ۔قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں بھی پاکستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ شمسی توانائی کے فروغ کے نتیجے میں ملک میں سالانہ 14 سے 20 گیگاواٹ تک بجلی پیدا کی جا رہی ہے ۔ اس ضمن میں زرعی شعبہ بھی مستفید ہو رہا ہے ، جہاں 18 لاکھ سے زائد کسان سولر ٹیوب ویلز کے ذریعے بجلی پیدا کر رہے ہیں، جس سے گرڈ بجلی کی کھپت میں تقریبا ً45 فیصد کمی آئی ہے ۔دوسری جانب درآمدی ایندھن پر مبنی بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی میں تقریبا ً49 فیصد جبکہ فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار میں تقریبا ً50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ، جو توانائی کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے ۔ماہرِ معاشیات و توانائی محمد عارف کے مطابق پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ایک انقلاب آ چکا ہے اور ملک کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ضروریات سے زیادہ ہو چکی ہے ۔ سولر، تھر کول اور نیوکلیئر جیسے مقامی اور پائیدار ذرائع کو مزید موثر اور کم لاگت انداز میں استعمال کر کے اس شعبے میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے ۔ماہرین کے مطابق ایس آئی ایف سی کی معاونت سے جاری اصلاحات اور مقامی توانائی کے وسائل کے فروغ سے نا صرف توانائی کے شعبے میں استحکام آ رہا ہے بلکہ یہ اقدامات مجموعی معاشی بہتری کا بھی باعث بن رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں